کالعدم ٹی ٹی پی کی سینئر رہنما مفتی خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق

کالعدم ٹی ٹی پی نے سینئر رہنما مفتی خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، جنہیں رواں ہفتے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں مارنے کا دعویٰ سامنے آٰیا تھا۔

کالعدم ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی نے آگاہ کیے بغیر مفتی خالد بلتی کی موت کی تصدیق کی، اس سے قبل ایک پاکستانی سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا تھا کہ خالد بلتی عرف محمد خراسانی، ننگرہار میں مارے گئے۔
ذرائع کے مطابق مفتی کی نماز جنازہ منگل کو افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں ادا کی گئی اور وہیں سپرد خاک بھی کیا گیا، ٹی ٹی پی کے ترجمان نے بتایا کہ گروپ نے ایک مذہبی سکالر اور سیاسی امور کے ماہر کو کھو دیا یہ اس گروپ کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

مقتول رہنما 2011 سے ہجرت کے بعد ٹی ٹی پی سے منسلک تھے اور ایک سرگرم رہنما تھے، انہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا اور 2021 تک جیل میں رکھا گیا اور 9 جنوری کو قتل کر دیا گیا، 50 سالہ مفتی خالد بلتی بھی کالعدم تنظیم کے ترجمان رہ چکے ہیں۔

سیکیورٹی عہدیدار نے مزید بتایا کہ جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا ہے تو خالد بلتی اکثر کابل کا دورہ کیا کرتے تھے، مفتی خالدبلتی ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کو متحد کرنے اور ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ مل کر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔

مفتی خالد بلتی کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان حکومت کے ترجمان بلال کریمی نے بتایا کہ میں ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کرتا، یہ سچ نہیں ہیں، افغانستان کی جانب سے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مفتی خالدبلتی گزشتہ کئی برسوں سے ٹی ٹی پی کے آپریشنل کمانڈر تھے۔

سال 2007 میں انہوں نے سوات میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی میں شمولیت اختیار کی اور ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لیے تھے، حکام نے بتایا کہ خالد بلتی کے ٹی ٹی پی کے تمام درجوں کے اراکین کے ساتھ خوشگوار اور قریبی تعلقات تھے۔

کیا گوادر کا مولانا ہدایت اللہ اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیل رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ مفتی خالد بلتی نے ٹی ٹی پی کی پروپیگنڈا مہم میں اہم کردار ادا کیا، حکام نے بتایا کہ خالد بلتی خیبر پختونخوا کے میرانشاہ قصبے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے چلاتے تھے اور آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان فرار ہو گئے تھے، جس کے بعد 2014 میں انہوں نے ٹی ٹی پی میڈیا کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔

یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی 14 سال قبل سامنے آئی تھی جس پر مختلف پاکستانی حکومتوں کی جانب سے 70 ہزار افراد کے قتل کا الزام لگایا جاتا رہا ہے اور پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر 7 سال قبل ہونے والے بدترین حملے کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔

Back to top button