کیا پی ٹی آئی کے ٹکٹ کی چمک اب ختم ہو گئی ہے؟

حکومتی جماعت تحریک انصاف کی بدترین پرفارمنس اور ضمنی و بلدیاتی انتخابات میں پے در پے شکستوں کے بعد اب پی ٹی آئی کے ٹکٹ کی چمک ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ حالیہ بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں جمعیت علما اسلام نے پی ٹی آئی کی جگہ لینا شروع کردی ہے اور اسکے بعض تگڑے رہنما ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں شامل ہونا شروع ہو چکے ہیں جس سے یہ تائثر ملتا ہے کہ پی ٹی آئی کا اقتدار اب غروب ہونے والا ہے اور مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں یہ جماعت اب اپوزیشن میں جاتی نظر آتی ہے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کا بلدیاتی معرکہ سر کرنے کے بعد جے یو آئی ف بلوچستان میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے جسکے بعد سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی سمیت تین سابق صوبائی وزراء اور بیشتر ناظمین نے جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان فروری میں مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں کیا جائے گا۔
دوسری جانب تخت بھائی میں پی ٹی آئی کے مضبوط ستون اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے انتہائی قریبی رشتہ دار اور سابق امیدوار قومی اسمبلی جلال خان خٹک نے ن لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی اور بھتیجے نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کی تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار تو نامزد کر دیے ہیں لیکن مقامی سیاستدان جانتے ہیں کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ حکومت کو اس وقت اپنی خراب کارکردگی، خصوصی طور پر بڑھتی مہنگائی اور مسلسل گرتی معیشت کی وجہ سے شدید عوامی غم و غصے کا بھی سامنا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مولانا کی جماعت کی شاندار فتح کے بعد بہت سے الیکٹ ایبلز کا رخ اب ان کی جماعت کی طرف ہو سکتا ہے اور جو لوگ کسی ایسے علاقے سے ہوں گے جہاں مولانا کی جماعت اتنی مضبوط نہیں، وہاں ان لوگوں کا رخ ن لیگ کی طرف بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ جلال خٹک کے معاملے میں دیکھا گیا ہے۔
موسمی پرندے PTI چھوڑنے کے لئے پر تولنے لگے
انکا کہنا ہے کہ 2018 میں بھی بہت سے لوگ یقیناً ایسے ہوں گے جو PTI سے دوسری جماعتوں کی طرف جانا چاہتے ہوں گے لیکن انہیں روک دیا گیا۔ اب الٹا معاملہ ہو رہا ہے کہ لوگ PTI چھوڑ کر دوسری جماعتوں کی طرف جا رہے ہیں لہذا صاف ظاہر ہے کہ کوئی تبدیلی تو ضرور آئی ہے جس سے معاملات یکسر بدل گئے ہیں۔ اسی لیے یہ تائثر ابھر رہا ہے کہ اگلے دو ماہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی کہہ چکے ہیں۔
عوامی غم و غصے کو بھانپتے ہوئے تحریک انصاف کے کئی بڑے نام اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو جوائن کرنے کے لئے پر تول ر ہے ہیں۔ اسی طرح حکومتی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یاد رہے کہ نور عالم خان نے PTI کی بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کی کارکردگی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ PTI کے ایک اور سینیئر رہنما نے میڈیا میں آ کر یہ دعویٰ کیا تھا کہ نور عالم خان کے بہنوئی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے اور نور عالم نے ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔
دوسری جانب نور عالم نے کہا تھا کہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی کی وجہ سے پارٹی کو شکست ہوئی۔ حال ہی میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ روحیل اصغر کے عشائیے پر جہاں بلاول بھٹو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر اسد الرحمان سمیت اپوزیشن کے متعدد رہنما موجود تھے، نور عالم خان نے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اگلا الیکشن PTI کی ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے۔ عشائیے کے دوران نور عالم خان سے پوچھا گیا کہ آپ اگلا الیکشن کس پارٹی سے لڑیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طے ہے کہ آئندہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑوں گا۔ اس پر مولانا اسد نے کہا تھا کہ نور عالم اور میرے چچا مولانا عطا الرحمان کے درمیان مثبت بات چیت چل رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کتنے موسمی پرندے دوسری جماعتوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔
