سینیٹر لنڈسی گراہم کی "اچانک موت” پر پھیلتی سازشی کہانیاں

نصرت جاوید

ایک زمانہ تھاجب علم کے متلاشی افراد گھر بار چھوڑ کر غاروں میں بیٹھ جاتے تھے۔ کئی دنوں کے غوروخوض کے باوجود ان کے ذہنوں میں ابلتے سوالوں کے جواب میسر نہ ہوتے۔ غاروں سے نکل کر مرشدِ کامل کی تلاش میں دور دراز کے سفر پر روانہ ہوجاتے۔ سچ کی تلاش میں کنوئوں میں اْلٹا لٹکنے، بھوک سے بدحال چلّے کاٹنے اور دریائوں کے کنارے بیٹھ کر ریاضتوں کی داستانیں بھی سن رکھی ہیں۔
دورِ حاضر میں لیکن ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر چند پھیرے لگانے کے بعد خود کو عقل کل محسوس کرنا شروع ہوجاتا ہے۔ جو ’’بصیرت وحکمت‘‘ اپنے تئیں دریافت کرلی ہوتی ہے وہ عاجزی وانکساری سے اسے مزید افراد تک پہنچانے سے لیکن گریز کرتا ہے۔ اپنے سوا دیگر ا شخاص کو جاہل ہی نہیں بلکہ بدکردار وبدعنوان سمجھتے ہوئے لعنت ملامت کا نشانہ بھی بنائے رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا گویا غالب کا بیان کردہ وہ ’’کوئے ملامت‘‘ بن چکا ہے جس میں جانے سے گریز ہی میں عافیت ہے۔
بارہا اعتراف کرچکا ہوں کہ سوشل میڈیا کی بدولت زیادہ سے زیادہ لوگوں سے رابطے کے لئے جو پلیٹ فارم متعارف ہوئے مجھ سادہ لوح نے انہیں بہت چائو سے اپنے ’’گرانقدر خیالات‘‘ کے اظہار کے لئے استعمال کرنا چاہا تھا۔ بسااوقات دن کے کئی گھنٹے لیپ ٹاپ پر بیٹھے ہوئے گزار دیتا۔ اس کے نتیجے میں پہلے فلموں اور پھر کتابوں سے دوری ہوئی۔ روایتی میڈیا میں عمر تمام گزارنے کے باوجود میری ذاتی زندگی اجنبیوں کا دردِ سر نہیں تھی۔ سوشل میڈیا کو علت کی طرح استعمال کرنا شروع ہوا تو معاشرے کو بدعنوان صحافیوں اور سیاستدانوں سے پاک کرنے کے جنون میں مبتلا افراد نے وہ بینک اکائونٹ اور پلاٹ بھی تلاش کرلئے جنہیں میں آج بھی ڈھونڈ رہا ہوں۔ اس کے علاوہ فیس بک سے چند ایسی تصاویر بھی اچک کر چار سو پھیلادی گئیں جو مجھے ہوسِ نشاط کا متلاشی ثابت کررہی تھیں۔ ضدی اور ڈھیٹ ہڈی ہونے کے سبب میں بلھے شاہ کی بتائی دیوانگی کی طرح ’’آخو آخو(ہاں ہاں)‘‘ سے خود کو مزید رسوا کرتا رہا۔ بہت وقت گزر گیا تو احساس ہوا کہ زندگی کے پانچ سے زیادہ برس کار فضول کی نذر کردئیے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ طبی مسائل بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے جن کی وجہ سے بینائی کے تحفظ اور فشارِ خون سے بچنے کے لئے سوشل میڈیا پر محض سرسری نگاہ ڈالنے کو بالآخر مجبور ہوگیا۔ بطور صحافی کچھ لکھنے اور بولنے سے رزق کمانے کی مجبوری لاحق نہ ہوتی تو سوشل میڈیا سے کامل کنارہ کشی اختیار کرلیتا۔
اتوار کی سہ پہر طویل عرصے کے بعد سوشل میڈیا کی بدولت پھیلائی نفرت کا ایک بار پھر شدت سے احساس ہوا ہے۔ صبح اٹھتے ہی کالم لکھ کر دفتر بھجوادیا تو ناشتے کے بعد دوبارہ بستر میں گھس گیا۔ گہری نیند سے ایک گھنٹے تک لطف اٹھانے کے بعد آنکھ کھلی تو موبائل اٹھاکر ’’تازہ ترین‘‘ ڈھونڈنا چاہا۔ خبر ملی کہ امریکہ کے مشہور،متحرک مگر بے تحاشہ معاملات کی وجہ سے انتہائی متنازعہ سینیٹر لنڈسی گراہم دل کے دورے سے جانبرنہ ہوپائے۔ موصوف کے چاہنے والے ان کی موت کو تاہم اچانک تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں تھے۔ یاد دلاتے رہے کہ چند گھنٹے قبل ہی وہ یوکرین سے امریکہ لوٹے تھے۔ وہاں کے صدر زیلنسکی کے ساتھ یوکرین کی اس فیکٹری کا دورہ بھی کیا تھا جہاں روس کو پریشان کرنے والے ڈرون تیار کئے جاتے ہیں۔ امریکہ لوٹنے کے بعد وہ سینٹ سے ایک قانون جلد از جلد منظور کروانے کو بے تاب بھی تھے جو روس کا اقتصادی بائیکاٹ یقینی بنانا چاہ رہا ہے۔
روس سے بے پناہ نفرت کے علاوہ سینیٹر لنڈسی گراہم ایران کے بھی شدید مخالف تھے۔ اسرائیل کی حمایت میں اس حد تک چلے گئے کہ غزہ کو ’’فلسطینیوں سے پاک کرنے کے لئے‘‘ ایٹم بم کا استعمال بھی واجب تصور کرتے تھے۔ ایران سے شدید نفرت کی وجہ سے موصوف کو اسرائیل کی جنونی حمایت کی وجہ سے مسلمان دشمن بھی تصور کیا جاتا تھا۔ ایران،فلسطین اور روس سے شدید نفرت کے مسلسل اظہار کی وجہ سے سینیٹر لنڈ سی گراہم کے حامی یہ سازشی کہانی پھیلارہے تھے کہ لنڈسی گراہم کی ’’اچانک‘‘ موت کا سبب روس کا تیار کردہ زہرہوسکتا ہے جو ان کے دورئہ یوکرین کے دوران کسی روسی ایجنٹ نے ان کے جسم میں حیلے بہانوں سے منتقل کردیا ہوگا۔
جو سازشی تھیوری پھیلائی گئی تھی مجھے بچگانہ سنائی دی۔ سینیٹر لنڈسی گراہم کی عمر 71سال تھی۔ غالباََ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض بھی رہے ہوں گے۔ ایسے امراض کے ساتھ 60سال سے تجاوز کرنے والا ہر شخص کسی بھی وقت دل کے دورے کی زد میں آسکتا ہے۔ اس جانب توجہ دلانے کے بجائے میں نے انگریزی میں Xپلیٹ فارم کے لئے چند سطری پیغام لکھا اس کے ذریعے لوگوں کو یاد دلایا کہ سینیٹر لنڈسی گراہم اپنے نفرت انگیخت خیالات کے برملا اظہار کی وجہ سے عموماََ خبروں میں نمایاں رہا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے ان کی موت بھی دل دہلادینے والی خبر کی صورت نمودار ہوئی ہے۔
یہ پیغام لکھنے کے بعد میں دوبارہ سوگیا۔ تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی تو میرے لکھے ہوئے پیغام پر تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت مجھے نہایت حقارت سے یاد دلارہی تھی کہ سینیٹر لنڈسی گراہم مسلمانوں کا دشمن تھا۔ اس کی ’’اچانک‘‘ موت کے ذریعے قدرت نے درحقیقت اسے عبرت کا نشان بنایا ہے۔ ’’سچا مسلمان‘‘ نہ ہونے کے سبب مگر یہ پہلو میں دریافت نہ کرپایا۔ اپنے ایمان پر سوالات اٹھانے والوں کو میں نے نظرانداز کردیا۔ دیگر خبروں کی تلاش جاری رکھی تو ایک ویڈیو کلپ پر نگاہ پڑی۔ ایران کے کسی ٹی وی چینل کی اینکر خاتون سیاہ چادر پہنے لنڈسی گراہم کی موت پر ’’شادمانی‘‘ کا اظہار کررہی تھی۔ میں نے فرض کرلیا کہ مسلمانوں اور خصوصاََ ایرانیوں کوسفاک دل ثابت کرنے کیلئے یہ کلپ صنعتی ذہانت کے استعمال سے تیار کرکے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہے۔
چند ہی لمحوں بعد مگر سوشل میڈیا پر متحرک کئی افراد نے ایران کے سوشل میڈیا سے پیغامات اور کلپس کی بھاری بھر کم تعداد مجھے فارورڈ کرنا شروع کردی جو یہ تاثر دے رہی تھی کہ ایران سے شدید نفرت کرنے والے لنڈسی گراہم کی اچانک موت پر اس ملک میں وسیع پیمانے پر ’’شادمانی‘‘ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لنڈسی گراہم مگر ایران ہی نہیں گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے خلاف بھی بدگمانیاں پھیلائے چلاجارہا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ کے بجائے مذاکرات کو مائل کرنے کے لئے حال ہی میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا تھا لنڈسی گراہم اسے بھی مسلسل اسرائیل کے خلاف سازش ٹھہراتا رہا۔ حالانکہ یہ وہی لنڈسی گراہم تھا جو 2019ء کے جنوری میں خصوصی طورپر پاکستان آیا۔ ان دنوں کے وزیر اعظم عمران خان صاحب سے طویل ملاقات کی۔ان سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم سے جلد از جلد ملاقات کریں تانکہ پاکستان اور امریکہ باہم مل کر افغانستان میں دیر پاامن کا پیغام یقینی بناسکیں۔ باخبر حلقے مصر ہیں کہ سینیٹر لنڈسی گراہم نے دورہ پاکستان کے بعد امریکہ لوٹ کر وائٹ ہائوس پر وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے لئے دبائو جاری رکھا اور بالآخر اس کی کاوشوں سے عمران خان جولائی 2019ء میں وائٹ ہائوس مدعو ہوئے۔ امریکی صدر سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو برجستہ بتایا کہ وہ دورہ امریکہ سے لوٹتے ہوئے ویسی ہی خوشی محسوس کررہے ہیں جو انہیں 1990ء کی دہائی میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے کی وجہ سے ملی تھی۔
سوشل میڈیا پر اول فول بکنے کے برعکس میں آج بھی خلوصِ دل سے جاننا چاہتا ہوں کہ لنڈسی گراہم نے کس کے ایماء پر 2019ء میں پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات کروائی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں لیکن وہ پاکستان کے بارے میں بدگمانی پھیلانا کیوں شروع ہوگیا تھا۔

Check Also
Close
Back to top button