اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے دفاتر اور مدارس سیل، 3400 کارکن گرفتار

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد میں تنظیم کے دفاتر اور منسلک مدارس کو سیل کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مدینہ ٹاؤن، سہمی ڈیم روڈ، بھارہ کہو میں واقع ٹی ایل پی کے دفتر کو سرکاری احکامات کے تحت سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدرسہ انوارِ مدینہ، نئی آبادی بھارہ کہو میں قائم تنظیم کا دفتر بھی بند کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹ اور انسدادِ دہشتگردی قوانین کی روشنی میں کی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل یا ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

پنجاب میں تحریک لبیک کے پرتشدد احتجاج کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جب کہ مزید گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق پنجاب بھر میں تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور پرتشدد احتجاج میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد 3 ہزار 400 تک پہنچ گئی ہے جب کہ صرف لاہور سے 326 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہےکہ اشتعال انگیزی اور احتجاج میں ملوث افراد کو فوٹیجز اور فہرستوں کی مدد سے شناخت کیا جارہا ہے، جنہیں اے، بی اور سی کیٹیگری میں تقسیم کرکے کارروائی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے لاہور، مریدکے اور دیگر شہروں میں تحریک لبیک کے کارکنوں کے پرتشدد احتجاج سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا تھا۔مریدکے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس افسر اور تحریک لبیک کے کارکنوں سمیت 5 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کیے تھے جن میں احتجاج کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم قیادت نے ہجوم کو مزید مشتعل کیا۔ مظاہرین نے پتھراؤ، کیلوں والے ڈنڈے اور پیٹرول بم استعمال کیے جبکہ کئی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ بھی کی گئی۔

پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کےلیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا،جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیاں اور دکانیں نذر آتش کردیں۔ تصادم کے دوران تحریک لبیک کے 3 کارکن اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس کے مطابق فائرنگ چھینے گئے اسلحے سے کی گئی تھی۔

مظاہرین نے یونیورسٹی بس سمیت متعدد گاڑیاں اغوا کیں اور مختلف مقامات پر اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ پولیس نے کئی ملزمان کو گرفتار کرلیا جب کہ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

 

Back to top button