عمران خان سے ملنا میرا حق ہے،ملاقات میں رکاوٹیں پیدا نا کریں ، سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ عوامی نمائندے اور ایک آئینی منصب پر فائز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "جو لوگ ملاقات کرنے سے روک رہے ہیں، انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ میں خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ ہوں۔”
یہ بات انہوں نے پشاور ہائی کورٹ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اور کوشش ہے کہ یہ ملاقات جلد از جلد ممکن ہو۔
❝کابینہ کی فہرست جعلی ہے، اصل کابینہ عمران خان کی مشاورت سے بنائیں گے❞
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جاری کردہ کابینہ لسٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا اور کہا کہ حتمی کابینہ کا فیصلہ عمران خان کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کروڑوں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور پارٹی چیئرمین سے ملاقات ان کا سیاسی اور آئینی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی بھی سیاسی یا انتظامی رکاوٹ کے بغیر پارٹی قائد سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
پشاور ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو خود بھی علم نہیں کہ سہیل آفریدی کے خلاف کتنی ایف آئی آرز درج ہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے:
"درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر درج ہے، لیکن یہ تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ قانون اندھا ہے۔”
عدالت نے عبوری ریلیف دیتے ہوئے حکم دیا کہ پولیس 18 نومبر تک سہیل آفریدی کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کرے۔
