پاکستان میں پناہ لینے والے افغان فنکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن

افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں روپوش ہونے والے فنکاروں اور گلوکاروں کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا گیا ہے، پشاور پولیس نے افغان حکومت کے مطالبے پر دو افغان گلوکاروں اور دو موسیقاروں کو گرفتار کرلیا، جنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ انہیں افغان طالبان کے حوالے سے کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد موسیقی پر لگنے والی پابندیوں کے خوف سے پاکستان میں روپوش فنکاروں کے خلاف پشاور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور انہیں پاکستان فارنرز ایکٹ 1946 (14 C ) کے تحت واپس طالبان حکومت کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس ضمن میں 27 مئی کو پشاور میں چار فنکاروں کو گرفتار اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیجا جا چکا ہے، پولیس کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے صوبے میں فنکاروں اور ان کی نمائندہ تنظیم ’ہنری ٹولنہ‘ نے گرفتاریوں کو ایک غیرانسانی فعل قراردیتے ہوئے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج بھی کیا ہے۔
ہنری ٹولنہ کے صدر راشد احمد خان نے بتایا کہ تہکال پولیس نے بغیر کسی سرچ وارنٹ کے افغان فنکاروں کے دفتر پر رات کے 2 بجے چھاپہ مار کر معروف افغان گلوکاروں نوید حسن، سیداللہ وفا اور دو موسیقاروں اجمل اور ندیم شاہ کو گرفتار کر کے ان کخلاف مقدمہ درج کیا۔راشد احمد خان نے بتایا کہ یہ وہ فنکار ہیں جو طالبان حکومت کی جانب سے موسیقی پر بندش کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، پاکستان میں پناہ لینے والے فنکار طالبان کے نارروا سلوک کا ذکر کرتے رہے ہیں، اب ان کو زبردستی واپس طالبان کے حوالے کرنا ایک غیرانسانی سلوک ہوگا۔
گرفتار ہونے والے فنکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ نوید حسن اور سیداللہ افغانستان کے مقبول گلوکار رہے ہیں جو وہاں کے ٹی وی، ریڈیو اور سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے جبکہ اجمل اور ندیم شاہ بھی مشہور موسیقاروں میں شامل ہیں، گزشتہ سال اگست کے بعد افغان فنکار اس قدر ناساز حالت میں پشاور پہنچے تھے کہ ان کے پاس کھانے پینے کیلئے پیسے تک نہیں تھے۔
’ہنری ٹولنہ نے ان کے لیے رہائش کا بندوبست کیا، چندہ جمع کر کے ان کے لیے ضروری سامان خریدا تاکہ وہ گزر بسر کے قابل ہو جائیں، ہنری ٹولنہ کے صدر نے حکومت پاکستان سے افغان پناہ گزین فنکاروں کی مدد اور انہیں پاکستان میں پناہ دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’ڈی پورٹ کرنا ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترداف ہوگا۔دوسری جانب پشاور کے تھانہ تہکال حکام کے مطابق چاروں افغان فنکاروں کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

شہبازشریف کی تیسری اہلیہ فرسٹ لیڈی بن گئیں؟

تھانہ تہکال کے نائب محرر گوہر نے بتایا کہ عدالت نے چاروں افغان باشندوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ پاکستان فارنرز ایکٹ کی شق 14 سی کے تحت ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہونیوالے افراد کے خلاف تین مہینے کے اندر قانونی چارہ جوئی کرنے کے بعد انہیں ملک بدر کیا جائے گا، تھانہ تہکال حکام نے بتایا کہ وہ قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے گرفتاریاں کر رہے ہیں اور یہ کہ انہیں افغانستان یا حکومت پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

Back to top button