ڈگری منسوخی کیس : جسٹس طارق جہانگیری کا سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنی قانونی ڈگری کی منسوخی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، جسٹس طارق جہانگیری نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں 25 ستمبر کے اُس حکم کے خلاف اپیل دائر کی، جس میں سندھ ہائی کورٹ نے ان کی ڈگری منسوخی کے خلاف دائر درخواستوں کو عدم پیروی کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔

سینئر وکیل فیصل صدیقی کے توسط سے دائر کی گئی اس اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے غلط طور پر پہلے قابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر اعتراض اٹھایا، حالانکہ یہ فیصلہ بعد میں ہونا چاہیے تھا کہ درخواست کو واپس لیا جائے یا نہیں، اور آیا کہ آئینی بینچ اس پر اختیار رکھتا بھی ہے یا نہیں۔

اپیل میں سندھ حکومت کے چیف سیکریٹری، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC)، جامعہ کراچی، اس کی سنڈیکیٹ، ان فیئر مینز کمیٹی، ایف آئی اے، پیمرا، اینکر پرسن غریدہ فاروقی، اور گورنمنٹ اسلامیہ لا کالج کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بغیر موقع دیے، صرف عدم پیروی کی بنیاد پر درخواستیں خارج کر دیں، جو کہ قانون کے اصولوں کے منافی ہے۔

دوسری طرف تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے نائب چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے رجسٹرار آفس کے 22 ستمبر کے فیصلے کے خلاف ان چیمبر اپیل دائر کر دی ہے، جس میں ان کی درخواست کو واپس کر دیا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت قائم کردہ کمیٹی کا 31 اکتوبر 2024 کا فیصلہ — جس میں کہا گیا تھا کہ آئین کی 26ویں ترمیم کے خلاف چیلنجز کو فل کورٹ کے سامنے سنا جائے — حتمی اور تمام ججوں پر لازم ہے۔

اپیل میں رجسٹرار آفس کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست کی واپسی کی وجوہات نہ صرف مبہم ہیں بلکہ قانونی غلط فہمی پر بھی مبنی ہیں، اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کیوں غیر متعلق یا منتشر تھے۔

رجسٹرار آفس نے مؤقف اپنایا تھا کہ درخواست میں ایسا کوئی عوامی مفاد یا بنیادی حقوق کا سوال موجود نہیں جس کی بنیاد پر اسے آرٹیکل 184(3) کے تحت قابلِ سماعت قرار دیا جا سکے۔ مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے اور اس کا ازالہ عدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

تاہم اپیل کنندہ کا کہنا ہے کہ درخواست کی قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، رجسٹرار آفس کو نہیں۔

Back to top button