اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کا انکشاف

وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کے باعث اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کا انکشاف سامنے آگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل سے وسائل کی تقسیم کے بارے میں اختلاف ہے، قابل تقسیم محاصل پول میں وفاق اضافی وسائل مانگ رہا ہے جبکہ صوبے اپنے حصے میں کمی پر آمادہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاق نے صوبوں سے تقریباً 1200 ارب روپے اضافی وسائل مانگے ہیں تاہم صوبے اپنے حصے میں کمی کرنے پر تیار نہیں ہیں جس کے باعث معاملے پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کا موٴقف ہے کہ اضافی وسائل دفاع، قومی سلامتی اور ریلیف کے شعبوں پرخرچ کیے جائیں گے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے اسی طرح خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی بھی وفاقی کی مذاکراتی ٹیم سے بات چیت ہوئی ہے۔
وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ جلد معاملات اتفاق رائے سے طے پاجائیں گے اور وسائل کی تقسیم پر اتفاق کے بعد وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے لیے مختلف ورکنگ گروپ بھی قائم کیے گئے ہیں جن کے اجلاس بھی ہوئے ہیں مگر ابھی تک نئے این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق نہیں ہوسکا اور این ایف سی میں تبدیلی کے لیے قانون سازی یا صوبوں کی رضامندی لازمی ہے جس کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال وفاقی حکومت صوبوں کو مجموعی طور پر 8200 ارب روپے دینے کی خواہاں ہے جبکہ موجودہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حصہ 9400 ارب روپے بنتا ہے۔
