گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں سے کون محروم کر رہا ہے؟

گلگت بلتستان میں سیاحت کا پوٹینشل دیکھتے ہوئے غیر مقامی افراد یہاں کے غریب باسیوں سے بھاری قیمت پر ان کی زمینیں خرید رہے ہیں جس سے مقامی آبادی تشویش کا شکار ہے۔ گلگلت بلتستان کے عوام وفاقی حکومت سے اس خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان میں اسے مکمل خودمختار صوبے کا سٹیٹس دینے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔
مقامی افراد یہ گلہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت تاریخی مہنگائی ہے، جہاں ایک طرف عمران خان یہ دعوے کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں اربوں ڈالر لائےجا سکتے ہیں، وہیں یہاں کے معاشی بدحالی کا شکار مقامی افراد اور علاقے کے تحفظ کے لیے قوانین موجود نہیں ہیں۔ ان حالات میں یہ مقامی افراد اپنی زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ عمران خان کو چاہیے کہ جس طرح انہوں نے گلگت میں سیاحت کے فروغ میں ذاتی دلچسپی دکھائی، اسی طرح یہاں کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ذاتی دلچسپی دکھائیں ورنہ دنیا کا یہ خوبصورت ترین علاقہ کنکریٹ کا جنگل نہ بن کر رہ جائے۔ مقامی افراد شکوہ کناں ہیں کہ گلگت بلتستان کے خطے کی ڈیموگرافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، مقامی لوگ اپنی زمینوں پر غیر مقامی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔
عوام حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں کی زمینوں کی رکھوالی کرنے والا قانون ’سٹیٹ سبجیکٹ رول‘ نافذ کیا جائے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کچھ عرصہ قبل سکردو میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ غیر مقامی افراد نے گلگت بلتستان میں زمین خریدنی ہے اور وہ زیادہ پیسے دے کر زمین خریدیں گے، لیکن آپ نے اپنی زمین کا خیال رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کے حقوق کی تحفظ کے لیے جو قانون وضع کیا تھا اسے سٹیٹ سبجیکٹ رول کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت غیر ریاستی باشندوں کو ریاست جموں و کشمیر میں زمین خریدنے اور مستقل آبادکاری کرنے کی اجازت نہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول تاحال جاری ہے جبکہ گلگت بلتستان میں سال 1974 سے ہی یہ قانون معطل کردیا گیا اور ساتھ ہی یہاں کی بنجر اراضیات کو خالصہ سرکار قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا روسی صدر سے رابطہ، اسلامو فوبیا بیان کا خیرمقدم
تاہم مقامی افراد گلہ کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے اسلام آباد میں بیٹھے کسی بھی حکمران نے گلگت بلتستان کو کبھی ترجیح نہیں دی باوجود اس کے کہ یہاں کے لوگوں نے آزادی کی جنگ لڑ کر متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب گلگت بلتستان کی عوام کی بھی خواہش ہے کہ انہیں دیگر صوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔ یہ خطہ بھی حکمرانوں کے لیے اتنا ہی اہمیت کا حامل ہونا چاہیے جتنا پاکستان کا کوئی اور صوبہ ہے یہاں کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینا ہے۔ یہاں کے عوام کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبے کی حیثیت ملنے سے یہاں بھی لوگوں کو ترقی کے وہی مواقع مل سکیں گے جو دیگر صوبوں میں بسنے والے شہریوں کو حاصل ہیں۔ لیکن یہ دیرینہ مطالبہ دہائیوں سے قراردادوں اور کاغذوں کی نذر ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بیرسٹر خالد خورشید کا کہنا ہے کہ عبوری آئینی صوبے کی حیثیت کے حوالے سے تمام تر کارروائی مکمل ہے یہاں تک کہ دیگر سیاسی جماعتوں کا اس پر اتفاق رائے ہے، اور کوشش ہے جلد اسے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ غیر مقامی افراد کی جانب سے گلگت بلتستان میں بھاری قیمت پر زمین کی خرید و فروخت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے کہا کہ تین ماہ کے لیے زمین کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اسی عرصے میں حکومت قانون سازی مکمل کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ جہاں 7 دہائیوں سے یہاں کی عوام کو آئینی حیثیت سے محروم رکھا گیا وہاں تین ماہ میں ان کے تحفظ کے لیے قوانین کا بننا، منظور ہونا اور پھر اس کا اطلاق ہو جانا کسی کرشمے سے کم نہ ہو گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پرعزم ہیں کہ آئندہ چار پانچ ماہ میں گلگت بلتستان کے دیگر شعبوں میں واضح تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی، جس میں صحت، تعلیم، توانائی، سیاحت اور پیشہ ورانہ صلاحیت سرفہرست ہیں۔ نہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند ماہ میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں پانچ یونٹ برائے انتہائی نگہداشت اور 10 نرسنگ سکول قائم کیے جائیں گے۔
