پیوٹن سے مایوس ہوں، لیکن چین-روس اتحاد سے کوئی تشویش نہیں: ٹرمپ

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن سے یوکرین جنگ میں انسانی جانوں کا ضیاع کم کیا جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق، ریپبلکن رہنما نے کہا کہ وہ روس اور چین کے درمیان بڑھتی قربت پر زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، وہ کبھی بھی ہمارے خلاف اپنی فوج استعمال نہیں کریں گے، یقین کریں۔‘‘
ٹرمپ نے اگست کے وسط میں الاسکا میں پیوٹن سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور نیٹو و یورپی رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی توقع ہے کہ پہلے زیلنسکی اور پیوٹن کی براہ راست ملاقات ہوگی، جس کے بعد ایک سہ فریقی میٹنگ میں وہ خود بھی شامل ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’میں صدر پیوٹن سے بہت مایوس ہوں، ہم کچھ ایسا کرنے جا رہے ہیں جس سے لوگوں کو زندہ رہنے میں مدد ملے۔‘‘
انہوں نے زیلنسکی کو یقین دہانی کرائی کہ واشنگٹن کسی بھی امن معاہدے میں یوکرین کی سیکیورٹی کی ضمانت دینے میں مدد کرے گا۔ ساتھ ہی، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو روس پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔
علاقائی تبادلے معاہدے کا حصہ؟
روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ کسی بھی امن معاہدے میں علاقائی تبادلے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم یوکرین واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی زمین کو روس کی ملکیت تسلیم نہیں کرے گا، اگرچہ بعض حکام نے بالواسطہ اشارہ دیا ہے کہ عملی طور پر کچھ علاقائی نقصانات کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔
جب انٹرویو میں ان سے چین اور روس کے ممکنہ اتحاد پر تشویش سے متعلق سوال کیا گیا تو ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے بالکل بھی فکر نہیں ہے…‘‘
یاد رہے کہ حالیہ دنوں چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں پیوٹن سے ملاقات کے دوران انہیں اپنا ’پرانا دوست‘ قرار دیا، جبکہ نریندر مودی سے بھی بات چیت کی۔
چین نے بدھ کے روز اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ شروع کی، جسے امریکا کے بعد عالمی نظام میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر طنزیہ انداز میں چینی جشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’صدر شی اور چین کے شاندار عوام کو ایک عظیم اور یادگار دن کی مبارکباد۔ میری نیک خواہشات ولادیمیر پیوٹن اور کم جونگ اُن تک بھی پہنچا دینا… جب آپ سب امریکا کے خلاف سازش کر رہے ہوں۔‘‘
