سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عمران کی رہائی کی منفرد تجویز

معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں مچنے والی تباہی کے ازالے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کو چند روز کے لیے جیل سے رہا کر دیں تاکہ وہ سیلاب متاثرین کے لیے چندے کی اپیل کر سکیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں عمران خان ہی وہ واحد عوامی لیڈر ہیں جن کی کال پر لوگ کان دھرتے ہیں۔
لیکن ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں یہ بچگانہ تجویز دیتے ہوئے بھول گئے کہ بانی تحریک انصاف کو کسی قسم کی اپیل کرنے کیلئے حکومتی مدد کی ضرورت نہیں چونکہ ان کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کا ٹوئیٹر یا ایکس اکاؤنٹ پچھلے دو برس سے مسلسل چل رہا ہے اور خان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے احتجاج کی کالیں بھی دے رہے ہیں، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اب ان کی کالز پر کان دھرنے والا کوئی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی سٹریٹ پاور تیزی سے کھو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی احتجاجی کالز بھی ناکام ہو رہی ہیں۔
تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے ایاز میر اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر اور بے سروسامان ہونے کے بعد حیرانی ہیں کہ ابھی تک سرکار کی طرف سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل نہیں کی گئی۔ دولت کی اندرونِ ملک بھی کمی نہیں لیکن غیر ملکی ہم وطن دینے پہ آئیں تو بہت کچھ دے دیتے ہیں۔ لہٰذا عجیب سی بات ہے کہ پانیوں کی وجہ سے تباہی جاری ہے اور کوئی چندے کی پکار نہیں۔ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو چیخ چیخ کر امداد کے لیے کہنا چاہیے تھا لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ حکمران بھی زیادہ تر فوٹو شوٹ قسم کے دورے کر رہے ہیں۔ جہاں تک غیرملکی ہم وطن ہیں‘ ان سے سیلاب زدگان کے لیے امداد نہیں مانگی گئی۔
ایاز امیر کے مطابق اسکی ایک وجہ تو سمجھ آتی ہے کہ تمام حکمران باجماعت ہوکر تارکینِ وطن سے چندے کی اپیل کریں تو بھی ان کی کوئی نہیں سنے گا۔ اس کیفیت کی وجوہات میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جب سرکاری چہرے چندہ مانگنے سامنے آئیں تو باہر بیٹھے پاکستانی بھائی اور بہنیں نامناسب رویوں پر اُتر آتے ہیں۔ یہ تو ہم دیکھ چکے کہ سیاسی حالات جب یہاں کشیدہ تھے تو حکومتی عہدیداروں کے ساتھ باہر کیا سلوک ہوتا تھا۔
ایسی نفسیاتی کیفیت جب بن جائے تو چندے کی اپیل آپ کس سے کریں اور کیسے کریں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ حکمران اور اہم عہدیدار باہر کے دوروں پر جائیں تو ایک آدھ تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں پاکستانیوں سے خطاب کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ایسی تقریبات نہیں ہوتیں کہ جن میں ہر کوئی منہ اٹھا کر جا سکے۔ سفارت خانوں کے پاس شریف اور بے ضرر ہم وطنوں کی فہرستیں ہوتی ہیں جن کو ایسے مواقع پر شرکت کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہم وطن ہوتے ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکے کہ وہ صحیح مواقع پر تالیاں بجائیں گے اور ٹیڑھے سوال پوچھنے کے بجائے ایسے سوال کریں گے جو قابلِ قدر مہمانوں کی طبیعت پر گراں نہ گزریں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ ماضی میں ہم نے عمران خان جیسے لیڈر کو بھی دیکھا ہے جو خود کو بند کمروں میں محدود نہیں کرتا تھا۔ عمران کی مقبولیت ایسی ہوتی تھی کہ ان کے لیے بیرون ملک بھی جلسے کا اہتمام کر دیا جاتا تھا۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ اس سے پہلے وہ زمانہ بھی تھا جب نواز شریف کہتا کہ ‘قرض اتارو ملک سنوارو‘ اور لوگوں کے ہاتھ جیبوں کی طرف جاتے اور وہ دل کھول کر عطیہ دیتے۔ لیکن جب ملک کا قرضہ چکانے کے نام پر اکٹھا کیا گیا چندہ ہی غائب ہو گیا تو عوام کا اعتبار بھی اٹھنے لگا، یہاں تک کہ حالت آج کی سی ہو گئی ہے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ عوام کا اعتبار کتنا ہی مجروح کیوں نہ ہو جائے وہ مشکل وقت میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد ضرور کرتے ہیں اسلیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے چندے کی اپیل لازمی کی جانی چاہیئے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ اپیل ایسے شخص کی جانب سے کی جائے جس کی بات پر عوام چندہ دینے کو تیار ہوں۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ کسی کو یہ بات پسند آئے یا نہیں لیکن پاکستانی سیاست میں ایک ہی نام ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ نرمی یا رہائی کی بات بالکل نہیں ہو رہی۔ لیکن عمران خان کو اپنے ہم وطنوں سے سلاب زدگان کے لیے چندہ دینے کی اپیل کرنے کے لیے وقتی طور پر کچھ دن کے لیے جیل سے رہا کر دیا جائے باہر نکالا جائے۔ جب یہ اپیل ہو جائے‘ اور چندہ آنے لگے تو خان کو پھر سے اندر کر دیں‘ اس میں کیا مضائقہ ہے؟ سب کچھ اپنا‘ قاعدہ و قانون اپنا۔ تاہم ایاز امیر یہ لطیفہ نما مطالبہ کرتے ہوئے بھول گئے کہ عمران خان کو چندے کے لیے اپیل کرنے کی خاطر جیل سے باہر آنے کی ضرورت نہیں، وہ ہفتے میں دو مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں اور جیل میں قید ہونے کے باوجود اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے سیاست بھی چلا رہے ہیں، لہذا اگر انہوں نے ایسی کوئی اپیل کرنی ہوتی تو اب تک کر چکے ہوتے۔ انہیں ایسا کرنے سے نہ تو کسی نے روکا ہے اور نہ ہی روک سکتا ہے۔
