ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس : ڈی آئی جی سندھ پولیس سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج

عمر کوٹ میں توہین مذہب کےالزام میں قتل کیے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کرلیاگیا،مقدمہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی،ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کےخلاف درج کیاگیا۔
ڈاکٹر شاہنواز کےقتل کا مقدمہ سندھڑی تھانے میں درج کیاگیا ہے، مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیاگیا،جس میں پولیس کسٹڈی میں قتل ودیگر دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔مقدمے کےمتن کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کو کراچی سے 19 ستمبر کو عمرکوٹ پولیس نےگرفتار کیاتھا، ایف آئی آر میں الزام لگایاگیا ہےکہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی،ایس ایس پیز چوہدری اسد،آصف رضا،ڈی ایس پی عنایت زرداری،انسپکٹر نیاز کھوسو اور مولوی عمر جان سرہندی نے ڈاکٹر شاہنواز کو باہمی مشاورت سےقتل کرایا۔
رات گئے گرفتار ہونےوالے ڈاکٹر شاہنواز کو پولیس تحویل میں سندھڑی کےقریب ماورائے عدالت قتل کیاگیا، شاہنواز کو قتل کرنے کےبعد میرپورخاص پولیس نےمقتول کےخلاف دو جھوٹے مقدمے درج کیےتھے۔
یادرہے دو روز قبل وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کےدوران کہا تھاکہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں ماراگیا، مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیاہے۔ان کاکہنا تھاکہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونےپر اہلکاروں کو معطل کیاگیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھاجب کہ متاثرین جسےذمہ دار قرار دیں گے اس کےخلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
یاد رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کےخلاف عمرکوٹ پولیس نےمبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کےبعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنےپر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کےتحت مقدمہ درج کیاتھا۔
اطلاعات کےمطابق ملزم کراچی فرار ہوگیا تھا لیکن عمرکوٹ پولیس نےاسے گرفتار کرکے میرپورخاص منتقل کردیاجہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘میں ہلاک کردیا، البتہ پولیس نے اس شخص کو کراچی سےگرفتار کرنےسے انکار کیاہے۔
سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کےقتل کی تصدیق کرتےہوئے کہاتھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کےساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی،انہوں نےدعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا جب کہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونےمیں کامیاب ہوگیا۔
اس تمام واقعےسے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نےاپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتےہوئے کہاتھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنےکا سوچ بھی نہیں سکتے۔
