ایک بے عیب دنیا کے آٹھ افراد

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ایک صبح جب وہ بیدار ہوئے تو سوائے اُن کے دنیا میں کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ تعداد میں آٹھ تھے، چار مرد اور چار عورتیں۔ وہ یہاں کیسے آئے، کیوں آئے، کس نے بھیجا، انہیں نہ اِس بات کا علم تھا اور نہ ہی اُنکے دماغ میں یہ سوالات تھے۔ وہ تحیر زدہ آنکھوں کیساتھ اِس دنیا کو دیکھ رہے تھے جیسے سب کچھ اُن کیلئے نیا ہو۔ وہ سب ایک دوسرے کیلئے مکمل طور پر اجنبی تھے لیکن ان سب میں ایک عجیب و غریب اور واضح مماثلت تھی کہ وہ چاروں بہت تنومند اور خوبصورت جسم کے مالک تھے۔ عورتیں متناسب الاعضا تھیں اور مردوں کا بدن ایسے تھا جیسے بہت کسرت کے بعد بنایا گیا ہو۔ بے عیب اور متوازن۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے انہیں بہت ہی باریک بینی کیساتھ ’تخلیق‘ کیا ہو،کسی خاص تجربے کیلئے۔

اُنکی بیداری کا پہلا دن الجھن اور اس خاموش نظام کی حدود و قیود کا اندازہ لگانے میں گزرا۔ بظاہر اُنکے اردگرد کا ماحول ایک منجمد اور لامتناہی اعتدال پر قائم تھا۔ وہاں نہ جھلسا دینے والی ہوا تھی جو جلد کو جلا ڈالتی اور نہ ہڈیوں میں گھُس جانے والی سردی جو انسان کو سکڑنے پر مجبور کرتی۔ ہوا میں ایک خاص قسم کی نمی اور خوشبو مستقل طور پر برقرار تھی جو نہ تو خوشگوار تھی اور نہ ہی ناگوار، بلکہ وہ ایک ایسی نامعلوم کیفیت کا احساس دلاتی تھی جو اعصاب کوپُرسکون کر دیتی ہے۔ ایک پوشیدہ، بے نام اور خاموش نظام چوبیس گھنٹے متحرک تھا، جو دیواروں کے پیچھے کسی نادیدہ، عظیم بیوروکریسی کی طرح کام کرتا تھا۔ ہر صبح، گھڑی کی سوئیوں کے بغیر، ایک مخصوص وقت پر جب روشنی کی حدت خودبخود بدلتی، دیواروں میں بنے خفیہ خانوں سے بغیر کسی انسانی یا مشینی آہٹ کے، چمکدار دھاتی میزیں نمودار ہو جاتیں۔ ان میزوں پر لذیذ ترین طعام سجے ہوتے، ایسے کھانے جنکی خوشبو اور ذائقہ ہر بار یکساں ہوتا، نہ ایک ذرہ نمک کم، نہ ایک رتی مرچ زیادہ۔ وہاں نہ کوئی قانون نافذ کرنیوالا ادارہ تھا اور نہ ہی کوئی پہرے دار۔ وہاں نافرمانی یا سرکشی کا بھی کوئی تصور نہ تھا۔ اُن کا کوئی بیرونی دشمن نہیں تھا۔ بھوک اور بیماری وہاں پر نہیں مار سکتی تھی۔ اور مستقبل کا بھی کوئی خوف نہیں تھا۔ نہ کسی سے مقابلہ تھا اور نہ ہی بقا کی کوئی جدوجہد۔ بہت سا وقت انہیں اِس نظام کی سخاوت کو سمجھنے، اسکے عادی ہونے اور اس کے پھیلاؤ کو جاننے میں لگا۔ ان آٹھ انسانوں نے آپس میں جوڑے بنا لیے۔ یہ شادیاں کسی جشن، موسیقی یا رومانوی سحر کے بغیر، ایک خالص میکانکی ضرورت اور حیاتیاتی جبلت کے تحت ہوئیں۔ اور وقت گزرا۔ آبادی آٹھ سے چالیس، چالیس سے اسّی ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ آٹھ سو تک پہنچ گئی۔ لیکن اُس دنیا میں جگہ اور وسائل کی کوئی کمی نہیں تھی۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی خوراک کی مقدار اور پانی کے چشموں کا بہاؤ بھی از خود بڑھتا چلا گیا جیسے کوئی عظیم تخلیق کار کسی پوشیدہ لیبارٹری میں نمو پانے والے جرثوموں کی تعداد کے حساب سے اُنکی غذا بڑھا رہا ہو۔ لیکن پھر ایک عجیب بات ہوئی۔

جیسے جیسے نئی نسلیں جوان ہوئیں، جن کا باہر کی دنیا، مٹی، دھول، بھوک، افلاس سے کوئی ناتا نہیں تھا، انہیں اس کامل دنیا کی بے عیب دیواروں سے ایک بے نام گھٹن محسوس ہونے لگی۔ نوجوانوں کو اِس پُرکیف اور پُرآسائش دنیا میں بوریت محسوس ہونا شروع ہو گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہاں حَظ اٹھانے کے مواقع نہیں تھے، بلکہ الٹا اُنکی بہتات تھی، وہ آپس میں بلا کسی تامل کے جسمانی تعلق قائم کر سکتے تھے، نہ کوئی بندش نہ اقرار، نہ غمِ روزگار نہ غمِ دلدار۔ اُن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ وہاں نہ تو کوئی ایسا امتحان تھا جس میں سرخرو ہونے کیلئے راتوں کو جاگنا پڑے، اور نہ ہی کوئی ایسا تعمیری کام تھا جو نادیدہ نظام نے ان کے ذمے لگایا ہو۔ انکی آنکھوں میں نہ تو کوئی خواب تھا، نہ کوئی خواہش، اور نہ ہی کوئی خوف۔ ان کے چہرے ایسے سپاٹ پن کا آئینہ دار تھے جو صرف ان چیزوں پر طاری ہوتا ہے جنہیں کبھی کسی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ وسائل کی اس لامتناہی فراوانی سے انہیں دنیا اچانک بہت چھوٹی اور تنگ محسوس ہونے لگی۔ وہاں کوئی کسی سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ خلوت کا تصور ختم تھا۔ وہ جہاں بھی جاتے، کوئی نہ کوئی دوسرا انسان پہلے سے وہاں موجود ہوتا، جو بالکل اسی کی طرح بے مقصد اور خالی آنکھوں کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوتا۔ ِ مسلسل بے فکری اور ’آسودگی‘ کی اِس کیفیت نے انہیں چِڑچرا کر دیا۔ وہ لوگ جو کبھی دھیمے اور مہذب لہجے میں بات کرتے تھے، اب چھوٹی چھوٹی، لغو باتوں پر ایک دوسرے پر غراتے۔ کسی کا چلتے ہوئے دوسرے سے چھو جانا، یا کسی کا میز پر ایک سیکنڈ زیادہ بیٹھ رہنا، اُن کے درمیان لڑائی کا سبب بن جاتا۔ مگر ان جھگڑوں میں نہ تو کوئی تلوار اٹھتی اور نہ کوئی گولی چلتی تھی، کیونکہ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ان کے پاس اپنی توانائیاں صرف کرنے کیلئے کوئی تعمیری کام، آرٹ یا کوئی تخلیق نہیں تھی۔ایک تبدیلی اُن میں یہ بھی رونما ہوئی کہ انہوں نے خاندان بنانے، شادیاں کرنے اور افزائشِ نسل کے جھنجھٹ اور ذمہ داریوں سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا۔ اب نہ کسی مرد کو عورت میں اور نہ کسی عورت کو مرد میں کوئی دلچسپی باقی رہی۔ مرد، دن بھر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھے رہتے۔ انہوں نے دوسرے انسانوں سے بات کرنا، یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ عورتوں میں بھی ممتا کی جبلت مٹ گئی۔ وہ بچوں کو جنم تو دیتیں لیکن اپنے بچوں کو دیکھ کر ان کے چہرے پر کوئی مسرت نہ ابھرتی۔ ایک دن، پہلی نسل کا آخری بوڑھا شخص، جو اب بالکل نحیف ہو چکا تھا اور جسکی آنکھوں نے وہ ابتدائی دنیا دیکھی تھی جس میں صرف آٹھ انسان تھے، اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے اونچی آواز میں بڑبڑایا۔ ”کاش یہاں کوئی وبا پھوٹ پڑتی، کاش باہر سے کوئی بھیڑیا آ کر ہماری گردنیں نوچ لیتا، کاش زلزلہ آتا اور اس چھت کو ہمارے سروں پر گرا دیتا، کم از کم ہمیں مرتے وقت یہ احساس تو ہوتا کہ ہم زندہ تھے،ہم نے بقا کیلئے کوئی جنگ لڑی تھی!“ لیکن بوڑھے کی باتوں کو کسی نے سنا تک نہیں۔ اُن کی میزوں پر اب بھی لذیذ اور گرم کھانے پروسے جاتے، آبشاروں سے نیلا اور صاف پانی اب بھی متوازن رفتار سے گرتا، روشنی اب بھی صبح کے وقت مدہم اور دوپہر کو تیز ہو جاتی، لیکن وہ کھانا کھانے، وہ پانی پینے اور اس روشنی کو دیکھنے والا کوئی ایک انسان بھی نہیں بچا تھا۔ آخری انسان بھی اپنے بستر پر سیدھا لیٹا، سفید چھت کو تکتے تکتے، بغیر کسی سسکی، بغیر کسی فریاد کے دم توڑ چکا تھا۔ وہ بے عیب اور کامل دنیا جو کسی جنت سے کم نہیں تھی، اب ایک شاندار قبرستان بن چکی تھی۔

 

Back to top button