کیا 90 روز میں الیکشن کا امکان بالکل ختم ہو گیا؟

جہاں ایک طرف الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے شائع سرکاری نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد 90 دن کی آئینی مدت کے دوران عام انتخابات کا انعقاد تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ وہیں دوسری طرف ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالت کہے تو حلقہ بندیاں روک کر انتخابات کرا سکتے ہیں. الیکشن کمیشن از خود مردم شماری کی منظوری کے بعد حلقہ بندیاں نہ کرانیکا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

خیال رہے کہ جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے معاونت طلب کی ہے اور اس سلسلہ میں ضروری احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق حلقہ بندیاں حتمی طور پر 14 دسمبر 2023 کو شائع کی جائیں گی۔ جس کے بعد 90 روز میں الیکشن کروانے کے تمام امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن سے جاری شیڈول کے مطابق 17 اگست 2023 تک ملک کے تمام نوٹس کی حدود منجمد کردی گئی ہیں جس کا الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کردے گا اور 21 اگست تک اسلام آباد سمیت ہر صوبے کے لیے حلقہ بندیوں کی کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں گی۔اس کے بعد 31 اگست تک انتظامیہ امور نمٹانے کے بعد حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کو یکم سے چار ستمبر تک تربیت دی جائے گی اور 5 سے 7 اگست تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ڈسٹرکٹ کوٹہ کا تعین اور اسے شیئر کیا جائے گا۔8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کمیٹیاں ابتدائی حلقہ بندیاں کریں گی جس کے بعد 9 اکتوبر کو حلقہ بندیوں کی ابتدائی رپورٹ شائع کی جائے گی۔

10 اکتوبر سے 8 نومبر تک حلقہ بندیوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے اعتراضات کمیشن کے سامنے دائر کیے جا سکیں گے اور 10 نومبر سے 9 دسمبر تک کمیشن ان اعتراجات پر سماعت کرے گا جس کے بعد 14 دسمبر 2023 کو حتمی حلقہ بندیاں شائع کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مشترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے نتائج کی منظوری دی تھی جس کے بعد یہ یقینی ہو گیا تھا کہ عام انتخابات کا انعقاد اس سال نہیں ہو سکے گا کیونکہ منظوری کے بعد انتخابات کا انعقاد حلقہ بندیوں کے بعد ہی ہو گا۔

دوسری جانب  الیکشن کمیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ عدالت کہے تو حلقہ بندیاں روک کر انتخابات کرا سکتے ہیں کیونکہ مردم شماری کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن از خود حلقہ بندیاں نہ کرانیکا فیصلہ نہیں کر سکتا تاہم الیکشن کمیشن صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات زیر بحث ہیں جیسا کہ الیکشن 90روز سے آگے چلے گئے، ایسی صورت میں کیا نگران حکومت طویل مدت اور دیر پا فیصلے کر سکے گی؟ انتخابی اصلاحات کے ذریعے نگران حکومت کے اختیارات میں کس حد تک توسیع کی گئی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں ملتوی کرنے کا مجاز ہے؟ الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے سے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے ممتاز آئینی ماہر اور سابق چیئرمین سینٹ بیرسٹر وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کے بعد نگران حکومت کو ارجنٹ نوعیت کی فیصلہ سازی کے اختیارات مل گئے ہیں ،نگران حکومت معمول کے قومی امور نمٹانے کے ساتھ فوری نوعیت کے فیصلے کر سکتی ہے، تاہم سیاسی بنیادوں پر نئے ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کئے جا سکتے۔ بیرسٹر وسیم سجاد نے مزید کہا کہ الیکشن 90 روز میں کرانا آئینی تقاضا ہے تاہم ناگزیر وجوہات پر اگر تاخیر ہوتی ہے تو فیصلہ عدالت کرے گی اور عدالت قرار دے گی کہ 90 دن کی میعادمیں تجاوز ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس حوالے سے کوئی عدالت میں جائے گا تو فیصلہ ہو گا،قانون میں ترمیم کے بعد نگران حکومت معاشی صورتحال پر فیصلے کر سکتی ہے ۔

فوسری جانب عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان تقریباً دو گھنٹے طویل اہم ملاقات بھی ہوئی ہے،ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس سے سپریم کورٹ میں ان کے چیمبر میں ملاقات کی ہے جس میں نئی مردم شماری اورعام انتخابات کے جلد انعقاد پر تبادلہ خیال کیا گیا‘ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے درپیش مسائل کا تفصیلی ذکر کیا جبکہ چیف جسٹس نے زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد میں آئین و قانون پر

300 کروڑ کے ساتھ ’جوان‘ شاہ رخ خان کی مہنگی ترین فلم بن گئی

سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے

Back to top button