الیکشن میں تاخیر، کیا نواز شریف ابھی واپس نہیں آئینگے؟

وطن واپسی کے حوالے سے گرین سگنل اور بقول رانا ثناء اللہ گارنٹی ملنے کے بعد نواز شریف کی آمد اور استقبال کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوتی نظر آتی ہیں۔ تاہم بعض مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات میں تاخیر کے واضح اعلان کے بعد نواز شریف کی وطن واپسی بھی موخر ہو سکتی ہے تاہم لیگی ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف کی 4 سال بعد پاکستان آمد کو جہاں بڑا سیاسی ایونٹ بنانے کے حوالے سے مشاورت زور و شور سے جاری ہے وہیں سابق وزیر اعظم کی پاکستان آمد کی حتمی تاریخ کے اعلان کا فیصلہ کرنے کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اگلے چند روز میں لندن روانہ ہوں گے۔ ان حالات میں نواز شریف کی واپسی میں مزید تاخیر کا امکان نظر نہیں اتا۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شہبازشریف کا وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ پہلا لندن کا دورہ ہو گا جہاں وہ نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگلے چند روز میں لندن ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی سیاست کا گڑھ ہو گا۔ کیونکہ بہت سے لیگی رہنما پہلے ہی لندن میں موجود ہیں اور باقی ماندہ اگلے چند روز میں پاکستان سے روانہ ہوں گے۔لندن میں اس ہونے والے اکٹھ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن اگلے انتخابات اور نواز شریف کی واپسی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے جا رہی ہے۔
اس سے پہلے رانا ثنا اللہ سمیت کئی لیگی رہنما اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نواز شریف ستمبر کے مہینے میں وطن واپس آ سکتے ہیں۔ جبکہ کئی سیاسی تجزیہ کار نواز شریف کی واپسی کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جو 17 ستمبر کو اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’یہ تو اظہرمن الشمس تھا کہ شہباز شریف وزارت عظمٰی کی مدت ختم ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے بڑے بھائی کے پاس جائیں گے اور اپنی کارکردگی اُن کے سامنے رکھیں گے۔ ویسے تو انہیں سب پتہ ہے لیکن بڑے بھائی کی تھپکی کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ جس کام کے لیے شہباز شریف آئے تھے انہوں نے وہ انتہائی احسن طریقے سے اپنے انجام تک پہنچایا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک مسلم لیگ ن کی قیادت کا لندن میں اکٹھے ہونے سے متعلق سوال ہے تو میرا خیال ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہوتی تو وہی کرتی۔ اگلا الیکشن سب کے لیے اہم ہے لیکن ن لیگ کے اس لیے بھی زیادہ اہم نہیں کہ انہوں نے اپنا سیاسی ایندھن جھونک کے 16 ماہ حکومت کی ہے۔ تو اب وہ پریکٹیکل صورت آ چکی ہے اگلے چند مہینوں میں ان کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ بھی اب ہو جائے گا کیونکہ جن چیزوں کی وجہ سے یہ واپسی رکی ہوئی تھی وہ اب واضح ہو گئی ہیں۔ سلمان غنی کا اب بھی یہی ماننا ہے کہ اگر الیکشن جلد ہونے کی کوئی صورت ہو گی تو ہی نواز شریف واپسی کا قصد کریں گے۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ن لیگ کا اگلا سیاسی بیانیہ آنے میں ابھی کچھ وقت یا عرصہ درکار ہے۔ یہ بیانیہ نگران حکومت کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ سینیئر صحافی اجمل جامی کا کہنا ہے کہ ’مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ یہ نگراں حکومت لمبے عرصے کے لیے آئی ہے اس کی آئینی اور قانونی توجیحات کیسے دریافت کی جائیں گی اس میں تو ابھی وقت ہے البتہ مجھے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ایک ہی نعرہ لگاتی نظر آ رہی ہیں اور وہ ہے کہ الیکشن جلدی ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’لندن میں ہونے والی سیاسی بیٹھک میں ان امور پر بھی غور ہو گا اور اگر ستمبر کے آخری ہفتے میں نواز شریف واپس آ رہے ہیں تو پھر ن لیگ بھرپور الیکشن مہم چلانے کا بندوبست کر رہی ہے اور الیکشن فروری میں متوقع ہیں۔‘
مسلم لیگ ن کی ترجمان عظمٰی بخاری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی اہلیہ بیمار ہیں ان کی اولین ترجیح اور توجہ ان کے علاج پر ہے۔ ’باقی مسلم لیگ ن کے رہنما پہلے بھی لندن آتے جاتے رہتے ہیں اور سلسلہ ہمیشہ قائم رہا ہے۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں۔‘
دوسری جانب لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے دو شیڈول تیار کرلیے ہیں۔جس کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کیلیے درخواست دائر کی جائے گی اور وہ لندن سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس موقع پر اُن کا بھرپور استقبال کیا جائے گا جبکہ پریڈ گراؤنڈ میں ن لیگ کا جلسہ بھی ہوگا۔بعد ازاں نواز شریف اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ ریلی کی صورت میں آئیں گے اور مختلف مقامات پر خطاب بھی کریں گے جبکہ لاہور پہنچ کر بڑا عوامی جلسہ بھی ہوگا، جس کو تاریخی بنانے کے لیے مریم نواز اور حمزہ شہباز کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے دوسرے شیڈول میں نوازشریف کی واپسی لاہور ایئرپورٹ پر ہوگی، جہاں اُن کا تاریخی استقبال کیا جائے گا اور پھر لیگی قائد داتا دربار پر بھی حاضری دیں گے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے مشاورتی عمل جاری ہے، درخواست دائر ہونے کے بعدضمانت ملنے کی صورت میں ہی نواز شریف کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینیئر رہنما اور قانونی ماہرین گزشتہ چند روز سے نواز شریف کی واپسی کے لیے صحیح وقت اور ان مقدمات پر غور کررہے ہیں جن کا انہیں پاکستان میں سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ’کچھ معاملات‘ طے پا جائیں تو صدر مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے بڑے بھائی سے ملنے لندن روانہ ہوں گے۔
یاد رہے کہ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں سزا سنائی گئی تھی، العزیزیہ ملز ریفرنس میں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے
گزشتہ مالی سال عوام سے کتنی پیٹرولیم لیوی لی گئی؟
بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
