حکومت نے بجلی بلوں پر عائد ٹیکسز عوام سے کیسے چھپائے؟

پاکستان میں مہنگی بجلی، بھاری ٹیکسوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں نے عوامی دباؤ کو پہلے ہی شدید کر رکھا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں کا روایتی ڈیزائن تبدیل کرکے بلوں پر عائد ٹیکسز عوامی نظروں سے چھپانے کے فیصلے نے عوامی غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد بلوں کو سادہ اور صارف دوست بنانا ہے،تاہم ٹیکسوں اور چارجز کی تفصیلی معلومات بلوں سے حذف کرنے کے فیصلے کے بعد عوام کی جانب سے شفافیت اور اصل اصلاحات کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بجلی کے بلوں کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایک نیا فارمیٹ متعارف کرا دیا ہے، جسے مرحلہ وار تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کے لیے بلوں کو زیادہ سادہ، واضح اور آسان فہم بنانا ہے تاکہ عام شہری آسانی سے اپنی بجلی کے استعمال اور ادائیگی کی تفصیلات سمجھ سکیں۔ نئے فارمیٹ میں بل کی بنیادی معلومات جیسے کل رقم، یونٹس کا استعمال اور ادائیگی کی آخری تاریخ کو نمایاں اور بڑے فونٹ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل سہولت کے طور پر QR کوڈ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اضافی معلومات اور آن لائن خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں کی جانے والی اس تبدیلی کے ساتھ ہی ایک بڑا تنازع بھی سامنے آیا ہے۔ نئے بل فارمیٹ میں بجلی کے مختلف ٹیکسز اور چارجز کی تفصیلی فہرست کو حذف کر دیا گیا ہے، جو پہلے ہر بل میں واضح طور پر درج ہوتی تھی۔ اس اقدام نے عوامی حلقوں اور توانائی کے ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور اسے شفافیت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بل کو سادہ بنانے کے نام پر اصل مالی تفصیلات کو کم دکھانا یا حذف کرنا عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، جی ایس ٹی اور دیگر متعدد ٹیکسز ہی اصل میں صارفین کے بلوں کو مہنگا بناتے ہیں، اور اگر یہی تفصیلات غائب ہو جائیں تو صارف کے لیے اصل بوجھ کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومت اور پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ پرانا بل فارمیٹ پیچیدہ تھا اور عام صارف اس میں درج تکنیکی اصطلاحات کو سمجھنے سے قاصر رہتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے زیادہ آسان اور ڈیجیٹل دور کے مطابق بنایا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر ملا جلا عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے، مگر بڑی تعداد میں صارفین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ بل کا ڈیزائن نہیں بلکہ بجلی کی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ شہریوں کے مطابق صرف کاغذی فارمیٹ تبدیل کرنے سے ریلیف نہیں ملے گا جب تک فی یونٹ قیمت اور اضافی چارجز میں کمی نہیں کی جاتی۔ اسلام آباد میں توانائی کے ماہرین بھی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ محض QR کوڈ یا نیا ڈیزائن مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، قیمتوں میں کمی اور ٹیکس ڈھانچے کی شفافیت ہے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

Back to top button