آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورت حال پر واپس نہیں جائے گا : باقر قالیباف

 

 

 

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور بااعتماد پوزیشن سے کررہا ہے۔ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورت حال پر واپس نہیں جائے گا۔ آبنائے ہرمز پر خود مختاری ایران کا حق ہے اور یقیناً ہم خدمات کے عوض فیس وصول کریں گے۔

 

ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونےوالی بات چیت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہےکہ آج ایران میدان جنگ میں حاصل ہونےوالی کامیابیوں کی پشت پناہی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہاکہ آج ایران کی طاقت کو دوست اور مخالف دونوں تسلیم کررہے ہیں،موجودہ اور ماضی کے مذاکرات میں یہی بنیادی فرق ہے،عسکری کامیابیوں کو مستقل سیاسی اور قانونی کامیابی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی و قانونی دستاویز کے بغیر کسی بھی جنگی کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں،مذاکرات کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور دیرپا حل کا حصول ہے،ایران اپنی کامیابیوں کو سفارتی میدان میں بھی مؤثر انداز میں استعمال کررہا ہے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورت حال میں واپس نہیں جائے گی،آبنائے ہرمز پر خود مختاری ایران کا حق ہے اور یقیناً ہم خدمات کے عوض فیس وصول کریں گے،اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 60 دن کےبعد فیس لینا شروع کردیں گے۔

ایران۔امریکا امن معاہدے پر دستخط کی ویڈیو جاری

انہوں نے کہاکہ 300 ارب ڈالر ایران میں سرمایہ کاری کےلیے مختص کیے گئے ہیں،300 ارب ڈالر کاایک حصہ تعمیرِ نو پر خرچ ہوگا۔

 

 

Back to top button