پاکستان اور قطر کے کہنے پر مفاہمتی یادداشت کا متن جاری نہیں کیا : امریکی نائب صدر

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر نے امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت کا مکمل متن ابھی جاری نہ کرنے کا کہا ہے تاکہ حتمی مراحلہ پر امن طریقے سے طے ہوسکیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور قطری ثالث کاروں کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے مابین ایک ’تاریخی مفاہمتی یادداشت‘ طے پاگئی ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم امریکی عوام کو امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام تر تفصیلات سے فوری آگاہ کرنا چاہتے ہیں،تاہم قطری اور پاکستانی ثالث کاروں نے اس معاہدے کا مکمل متن ابھی جاری نہ کرنے کاکہا ہے تاکہ حتمی مراحلہ پر امن طریقے سے طے ہوسکیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ عوام کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور اس معاہدے کی تمام تر تفصیلات ‘آنےوالے جمعے کو’ باضابطہ طور پر دنیا کے سامنے آجائیں گی۔’یہ معاہدہ امریکی عوام کے مفادات کےلیے بہت اچھا ہے‘ اور اس سے خطے سمیت عالمی امن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ معاہدے کےبارے میں بعض معلومات کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے جب کہ یہ بنیادی طور پر امریکی عوام کےلیے ایک اچھا معاہدہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کےلیے دوبارہ کھول دیا جائےگا اور ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائےگا،جس کے تحت ایران اگر دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے سے متعلق امریکی مطالبات پورےکرتا ہے تو اسے مختلف اقتصادی فوائد حاصل ہوسکیں گے۔
آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورت حال پر واپس نہیں جائے گا : باقر قالیباف
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ ان فوائد میں ایران کی معیشت پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہوسکتی ہے۔امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کردیا ہے اور صدر ٹرمپ کی کوشش ہےکہ ایران کو ایسے معاشی مراعات دی جائیں جو اسے مستقبل میں اس پروگرام کی دوبارہ تعمیر سے باز رکھ سکیں۔
