شہباز شریف اورفیلڈمارشل کے درمیان اختلافات کی افواہیں کیوں پھیلیں؟

پاکستانی سیاست میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات یا دوریوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو وہ فوری طور پر سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث کا موضوع بن جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مبینہ اختلافات کی گردش کرنے والی خبروں نے بھی ایسی ہی صورتحال پیدا کی، تاہم حکومتی اور عسکری ذرائع نے ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز سے مختلف سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بعض معاملات پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ بعض تجزیوں اور تبصروں میں یہاں تک کہا گیا کہ "سب کچھ ٹھیک نہیں” اور پس پردہ کچھ اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ ان افواہوں کو مزید تقویت اس وقت ملی جب ایک حکومتی سینیٹر کے بیانات سامنے آئے جنہیں ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی روابط رکھنے والی شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔تاہم روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کے مطابق جب اس معاملے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی تو اسلام آباد اور راولپنڈی دونوں جانب سے ملنے والے پیغامات یکساں تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان نہ صرف تعلقات خوشگوار ہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر قریبی مشاورت کے باعث ان روابط میں مزید مضبوطی آئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور عالمی سفارتی تبدیلیاں بھی اہم فیصلوں کا تقاضا کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو قومی استحکام کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان حالیہ رابطوں اور مشترکہ مشاورت نے متعدد قومی معاملات پر ایک مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اطراف کے ذرائع نے نہ صرف اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا بلکہ تعلقات کو "پرفیکٹ” اور ماضی سے زیادہ مضبوط قرار دیا۔اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکثر افواہیں، قیاس آرائیاں اور غیر مصدقہ اطلاعات زمینی حقائق سے مختلف ثابت ہوتی رہی ہیں۔ بعض اوقات سیاسی حلقوں کی خواہشات، میڈیا کی قیاس آرائیاں یا مخصوص بیانات ایسے تاثر کو جنم دیتے ہیں جو بعد میں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

مبصرین کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اختلافات ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے اہم قومی معاملات پر کس حد تک مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سرکاری ذرائع یہی پیغام دے رہے ہیں کہ حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری ہے اور اہم قومی فیصلوں پر قریبی مشاورت برقرار ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں میں مشترکہ طور پر نظر آتے ہیں تو یہ ان خبروں کے برعکس ایک عملی پیغام ہوگا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کم از کم اہم قومی اور خارجہ امور پر ایک صفحے پر موجود ہے۔ یوں بظاہر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ حالیہ افواہوں کے باوجود ریاستی سطح پر طاقت کے دو اہم مراکز کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی کشیدگی کے شواہد موجود نہیں، بلکہ حکومتی اور عسکری ذرائع اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں دونوں قیادتوں کے درمیان تعاون اور رابطے پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

Back to top button