ایران امریکا امن معاہدے سے پاکستان کو کیا ملا؟

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک سفارتی کردار کسی ملک کی پوری جغرافیائی اور سٹریٹجک حیثیت کو بدل دیتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کے کردار نے بھی پورے خطے کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران ثالثی میں کیا پاکستان نے صرف سفارتی مشقت برداشت کی یا اس کے بدلے اسے عالمی سطح پر سیاسی، تزویراتی اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے؟ آیا یہ محض سفارتی سرگرمی تھی یا پاکستان کے لیے ایک ایسا سٹریٹجک موقع جس نے اس کی عالمی حیثیت کو نئی جہت دی

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کی کوشش محض ایک سفارتی واقعہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی عالمی حیثیت اور خارجہ پالیسی کے تاثر میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو زیادہ تر داخلی مسائل، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی کے خدشات کا شکار ہے۔ اس دوران پاکستان کو مختلف عالمی فورمز پر وضاحتیں دینی پڑتی تھیں اور اس کے کردار کو محدود سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے اس تاثر کو چیلنج کیا اور پاکستان کو ایک فعال کردار میں سامنے لایا۔پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو بات چیت کی طرف لانے میں کردار ادا کیا، جس سے خطے میں ممکنہ بڑی جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملی۔ اس سے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو صرف داخلی بحرانوں میں الجھا ہوا نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وہ بنیادی اصول بھی نمایاں ہوا جس کے تحت وہ مختلف طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی اور تاریخی رشتے موجود ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ اس بحران میں پاکستان نے کوشش کی کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے ایک متوازن کردار ادا کرے۔اس توازن کی وجہ سے پاکستان کو خطے میں ایک پل (bridge) کے طور پر دیکھا گیا، جہاں وہ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات کو بیک وقت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سفارتی حکمت عملی پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے، کیونکہ اس نے اسے ایک نازک صورتحال میں فریق بننے کے بجائے ثالث کے طور پر پیش کیا۔

مبصرین کے بقول اسی تناظر میں ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری کے اشارے سامنے آئے۔ ایرانی پارلیمان میں پاکستان کے حق میں مثبت جذبات دیکھے گئے، جبکہ سرحدی تعاون اور سیکیورٹی معاملات پر بھی قریبی رابطوں کی توقعات بڑھیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران پر پابندیاں نرم ہوتی ہیں اور وہ عالمی معیشت سے دوبارہ جڑتا ہے تو پاکستان کے لیے توانائی، گیس اور تجارت کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق ایران امریکہ امن معاہدے کے بعد توانائی کے شعبے میں خاص طور پر ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے دوبارہ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں، جو پاکستان کے توانائی بحران میں کمی لا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی کے متبادل راستے بھی کھلنے کے امکانات موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس تمام صورتحال کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس ثالثی سے کوئی ٹھوس، عملی اور فوری فائدہ حاصل ہوا یا یہ صرف ایک سفارتی بیانیہ ہے۔ ان کے مطابق حقیقی کامیابی صرف اس وقت کہی جا سکتی ہے جب اس کے نتیجے میں اقتصادی بہتری اور پالیسی سطح پر واضح تبدیلیاں سامنے آئیں۔ تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کے بقول مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے کردار نے اس کی سفارتی حیثیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف اسے عالمی سطح پر ایک اہم ثالث اور توازن قائم رکھنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے عملی نتائج پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں نظر آ رہا ہے۔

Back to top button