برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

تحریر: عمار مسعود
بشکریہ: وی نیوز
9 جولائی کی شام ہی کو ٹی وی اسکرینیں یہ بتانے لگیں کہ جلد ہی ڈی جی آئی ایس پی آر اہم خطاب کریں گے۔ عموماً یہ خطاب طویل ہوتا ہے مگر اس دفعہ بات مختصر بھی تھی اور واضح بھی۔ چند دنوں سے دہشتگردوں کے حملوں کے حوالے سے بہت پریشان کن خبریں آ رہی تھیں۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ جہاں بے شمار دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، وہاں ہمارے بہت سے جوانوں نے بھی بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ یہ جری جوان کتنے تھے؟ اس کے بارے میں ابہام تھا۔ میڈیا بھی لب کشائی سے گریز کر رہا تھا۔ واٹس ایپ گروپس میں افواہ نما خبریں چل رہی تھیں جن پر یقین کرنے کا یارا نہیں تھا۔
9 جولائی کی شام کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جہاں 54 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے کی نوید سنائی، وہاں فوج، پولیس، دیگر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام عوام میں سے 42 افراد کی شہادت کی خبر بھی سنائی۔ 42 افراد۔۔۔ بہت بڑی قربانی ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے آپریشنز میں اتنا نقصان نہ پہلے ہوا، نہ اس کی کوئی نظیر ملتی ہے۔
معاملات اب بہت آگے چلے گئے ہیں۔ یہ بات اب اکثر ہونے لگی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں صوبائی حکومت کی کوئی عملداری نہیں۔ وہاں کے وزرا طالبان کو بھتہ دے کر اپنی حفاظت کو ممکن بنا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیس شام کو روپوش ہو جاتی ہے۔ ایسے بھی علاقے ہیں جہاں سورج ڈوبنے کے بعد صرف لاقانونیت کا راج ہوتا ہے۔
عمران خان کے دور میں ایک غلط فیصلے نے پوری قوم کو دہشتگردوں کے سامنے جھونک دیا۔ وہ دہشتگرد جنہیں ہم نے نکال باہر کیا تھا، ان کو دوبارہ بہ فرمائش لا کر بسایا گیا، ان کے دفاتر کھولنے کی درخواست کی گئی، ان کے استقبال کا حکم دیا گیا۔ اس احمقانہ اقدام نے اس دھرتی کو بہت نقصان پہنچایا۔ بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ بہت سی املاک تباہ ہوئیں۔ اس فیصلے نے مندمل زخموں کو پھر سے کھرچ دیا۔ پھر سے اس ارضِ مقدس کے جسم سے خون بہنے لگا۔
چند دنوں میں 42 شجیع جوانوں کا جامِ شہادت نوش کرنا بہت بڑا واقعہ ہے۔ ان کی دلیری کے قصیدے پڑھنا تو فرض ہے مگر دہشتگردوں کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا بھی ضروری ہے۔
بلوچستان کے منظرنامے کو دیکھیں تو دشمن وہاں پر بھی روپ بدل کر سامنے آتا ہے۔ کبھی وہ کسی دہشتگرد تنظیم کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے بہروپ میں نظر آتا ہے، کبھی سوشل میڈیا کے ٹرینڈ میں دکھائی دیتا ہے۔ کبھی واٹس ایپ کے گروپوں میں لوگوں کو آمادۂ بغاوت کرتا نظر آتا ہے۔ ہمارے جوان اپنی جانوں کو اس ارضِ پاک پر قربان کر رہے ہیں مگر جس صوبے میں یہ اہم خبر ہو کہ وزیرِ اعلیٰ نے ایک مقام سے دوسرے مقام تک گاڑی میں بحفاظت سفر کیا، اور اس پر نوید یہ سنائی گئی کہ نہ ان پر کوئی دہشتگردی کا حملہ ہوا، نہ ان کے قافلے کو کوئی گزند پہنچی، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام پاکستانی کے لیے بلوچستان کے علاقوں میں سفر کتنا پُرخطر ہے۔ بسوں کے مسافروں کو کون کون سے خطرات درپیش ہیں؟ ٹرین کی سواریوں کو کن خدشات کا سامنا ہے؟ ان کی زندگی کتنی محفوظ ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب تشنہ ہے۔ جس کے جواب کی تلاش میں بلوچستان بھی ہے اور پاکستان بھی۔
ماشخیل، بلوچستان میں معصوم دیہاڑی دار مزدوروں کا بہیمانہ قتل اسی دہشتگردی کی کڑی ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یہ محنت کش حلال روزی کمانے کے لیے بلوچستان آئے تھے اور ان کا قتل بلوچ روایاتِ مہمان نوازی اور قومی یکجہتی دونوں پر حملہ ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی ہر سطح پر غیرمشروط مذمت ہونی چاہیے، جبکہ اس پر BYC اور HRCP خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والوں کی خاموشی بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
تاریخ کا یہ مرحلہ بہت اہم ہے۔ ہم عسکری میدان میں اپنے سے کہیں بڑے دشمن کو پچھاڑ چکے ہیں۔ ہم عسکری میدان میں دنیا بھر میں عزتیں سمیٹ چکے ہیں۔ ہمارے نام کا ڈنکا اب دنیا میں بجتا ہے۔ معرکۂ حق کی کامیابی کے بعد دنیا ہمیں فاتح اور بھارت کو مفتوح کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ہماری دلیر افواج کا ڈنکا دنیا بھر میں بج رہا ہے۔ ایک زمانہ ہماری شجاعت کے گیت گا رہا ہے۔ ایک عہد ہماری دلیری کے نام سے پہچانا جا رہا ہے۔
اس وقت حالات موافق ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو پوری عوامی تائید حاصل ہے۔ اہلِ پاکستان اس فتنۂ الہندوستان سے نجات چاہتے ہیں۔ بیانیے کے محاذ پر بھی کوئی ابہام موجود نہیں۔ قوم یکسو بھی ہے اور اس موضوع پر متحد بھی۔ اب حتمی کارروائی کی ضرورت ہے جس سے یہ فتنہ جڑ سے ختم ہو جائے۔ ایک آخری وار درکار ہے جس سے نفرت کے ان پیروکاروں کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔ ایک دفعہ یک جان ہو کر سب کو نعرۂ تکبیر لگا کر اللہ کے شیروں کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نہ اب انتظار کی تاب ہے، نہ ضبط کا یارا۔ اب اس زخم رسیدہ قوم کو آخری معرکہ درکار ہے کیونکہ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔
