چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں

وزارت تجارت نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ توانائی اور درآمدی لاگت سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی ہیں، بھارت کاٹن ایکسپورٹ کررہا ہے ہم امپورٹ کر رہے ہیں، زائد لاگت کے سبب پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپارہیں۔
جاوید حنیف کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈز پر بریفنگ دی اور بتایا کہ توانائی اور درآمدی لاگت سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی ہیں، بھارت کاٹن ایکسپورٹ کررہا ہے ہم امپورٹ کر رہے ہیں۔
قائمہ کمیٹی تجارت کے اجلاس میں گدھوں کی ایکسپورٹ کا بھی تذکرہ ہوا۔ رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ ماہانہ تین سے چار سو گدھے گوادر بھیجے جارہے ہیں، سی فوڈ میں بھی ایکسپورٹ کے وسیع مواقع ہیں۔ چیئرمین کمیٹی جاوید حنیف نے کہا کہ آپ نے گدھوں کا ذکر کیا اس ملک میں بہت ہیں۔ وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ گدھوں کا گوشت گوادر سے ایکسپورٹ ہورہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان فارما انڈسٹری نے اس سال ایتھوپیا میں پراگرس دکھائی ہے، ملک میں تجارت اور تجارتی مواقع بڑھانے پر بات جاری ہے، چین سے بھی فری ٹریڈ معاہدے پر نظر ثانی پر بات چیت ہوتی رہتی ہے
اجلاس میں ٹریڈ آرگنائزیشنز بل 2026ء میں تیسری ترمیم پر غور کیا گیا۔ رکن کمیٹی فاروق ستار نے قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا، ٹریڈ چیمبرز کو اضلاع تک محدود کرنے کے قانون میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ ملک بھر کے بڑے شہر کے چیمبر ایک ضلع تک محدود ہوتے ہیں، کراچی میں متعدد اضلاع ہیں، کراچی میں ڈسٹرکٹ چیمبرز کی جگہ صرف ایک کراچی چیمبر رہے گا اس طرح کراچی کا خواتین چیمبر اور اسمال بزنس کا ایک ہی چیمبر رہے گا۔
