جماعت اسلامی نے حکومتی وفدکےسامنے3مطالبات رکھ دیئے

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت تین مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھ دیے گئے جن میں آئی پی پیز کی پے منٹس اور روٹی کی قیمت میں کمی بھی شامل ہیں۔
ملک گیر ہڑتال کے دوران حکومتی وفد مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ پہنچا جہاں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
حکومتی وفد میں سینیٹر رانا ثنا اللہ خان، وفاقی وزیر احسن اقبال اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن بھی مذاکرات میں شریک تھے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی۔
بعد ازاں پریس کانفرنس میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف ملے، اس کے لیے حکومت نے ٹیم تشکیل دی ہے، جماعت اسلامی سے بھی کہا کہ اگر ایسی تجاویز ہیں جس سے پیٹرول قیمتوں کا بوجھ کم کرسکیں تو دیں، جماعت اسلامی سے کہا کہ ٹیم بنائیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم نہیں چاہتےکہ ملک میں اس وقت ایسی صورتحال ہو جس سے دشمن فائدہ اٹھائے، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہےکہ ہم سب مل کر داخلی امن قائم رکھنےکی کوشش کریں۔
اس موقع پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے بتایا ہے ان کے پاس ایسی تجاویز ہیں جن سے عوام کو ریلیف ملے، حکومت جماعت اسلامی کے قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کرےگی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 19دن سے ملک میں 30 جگہ جماعت اسلامی کے دھرنے ہو رہے ہیں، ہمیں کوئی شوق نہیں عوام کو درپیش مسائل کی وجہ سے دھرنے دے، 6 سال میں ملک میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا، موٹرسائیکل والا ایک لیٹر پیٹرول پر 35 فیصد ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے، اس بجلی کے پیسے عوام دینے پر مجبور ہیں جو بنتی بھی نہیں، پیٹرول پر لیوی معطل کرنےکے بجائے اس میں اضافہ کیا گیا، جب سے لیوی شروع ہوئی ہے،8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں۔
