مومنہ اقبال ہراسانی کیس: جے آئی ٹی نے ثاقب چدھڑ کو بے قصور قرار دے دیا

لاہور کی سیشن عدالت میں اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔مقدمے کی تفتیش کےلیے تشکیل دی گئی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو موجودہ مرحلے پر بے قصور قرار دے دیا، جس کے بعد دونوں کی عبوری ضمانت کی درخواستیں نمٹادی گئیں۔
تاہم جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتےہوئے اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیاہے۔
عدالت میں پیش ہونےوالے تفتیشی افسر نے بتایاکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرنے کےبعد نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی،جس نے ازسرنو تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایاکہ اس رپورٹ کےمطابق ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا موجودہ مرحلے پر بےقصور پائے گئے ہیں اور فی الحال ان کی گرفتاری درکار نہیں۔
تفتیشی افسر کے اس بیان کی روشنی میں ثاقب چدھڑ نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست خود ہی واپس لےلی جس پر عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر میاں بیوی دونوں کو ریلیف دیتےہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں نمٹادیں۔
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے یہ مقدمہ اداکارہ مومنہ اقبال کی مدعیت میں ثاقب چدھڑ کے خلاف درج کر رکھا ہے۔
اداکارہ مومنہ اقبال اپنے وکیل عدنان احسان کے ہمراہ سیشن عدالت میں پیش ہوئیں جہاں ان کے وکیل نے تفتیشی رپورٹ اور ملزمان کو کلیئر کرنےکے عمل پر شدید اعتراض اٹھایا۔
ان کا مؤقف تھاکہ تفتیش تبدیل کرنے سےقبل مدعیہ کو اعتماد میں نہیں لیاگیا اور این سی سی آئی اے نے یہ اقدام مدعیہ کو بتائےبغیر اٹھایا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ نئے تفتیشی افسر نے مکمل تحقیقات کیےبغیر ہی ملزمان کو کلیئر کردیا جو تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
عدالتی کارروائی کےبعد اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت پر این سی سی آئی اے کے افسر نے خود عدالت کو بتایاتھا کہ ثاقب چدھڑ کی گرفتاری درکار ہے،لیکن آج ایجنسی نے اپنا بیان یکسر تبدیل کرلیا جس پر انہیں سخت حیرت ہوئی۔رمشا اقبال کاکہنا تھاکہ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
عدالت سے باہر آ کر اداکارہ مومنہ اقبال نے صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کی جس میں وہ جذباتی دکھائی دیں۔ ان کاکہنا تھاکہ وہ اس وقت پاکستان کی تمام بیٹیوں کی ترجمانی کررہی ہیں اور یہ کہ ایسے معاملات میں لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلا جاتا ہے جب کہ ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
اداکارہ مومنہ اقبال نے الزام لگایاکہ این سی سی آئی اے نے ملی بھگت کے تحت تفتیش کا رخ تبدیل کیا اور انہیں اس تبدیلی سے آگاہ کیے بغیر محض ایک خط تھما دیا گیا۔
مومنہ اقبال نے دعویٰ کیاکہ وہ ثاقب چدھڑ سے متعلق تمام شواہد سوشل میڈیا پر عام کریں گی۔وہ اب خاموش نہیں بیٹھیں گی اور ثاقب چدھڑ کےخلاف ہرقانونی و عوامی فورم پر آواز اٹھائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اس دوران صلح کی پیشکش بھی ہوئی اور کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مشورہ بھی دیاگیا کہ چونکہ اب ان کی شادی ہوچکی ہے اس لیے وہ معاملہ چھوڑدیں،لیکن انہوں نے کسی قسم کی صلح سے انکار کردیا۔
خیال رہے کہ یہ تنازع رواں سال مئی میں اس وقت سامنے آیا جب اداکارہ مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر الزام لگایاکہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنےوالا ایک رکن اسمبلی انہیں طویل عرصے سے ہراساں کررہا ہے۔اس کےبعد این سی سی آئی اے میں باضابطہ شکایت درج کروائی گئی جس پر ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا اور نامعلوم ساتھیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق الزام تھا کہ شادی کی تجویز مسترد ہونے پر نجی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
حکومت پنجاب کا کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خفیہ سیل قائم، گرفتاریاں شروع
یاد رہے کہ ثاقب چدھڑ نے جوابی کارروائی میں مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کے خلاف امانت میں خیانت کا الگ مقدمہ بھی درج کروا رکھا ہے جس کی سماعت 14 ستمبر کو ہونی ہے۔
