آزاد کشمیر حکومت پر براجمان تین بڑے قانون دان کون؟

آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ریاستی سیاست میں ایک دلچسپ منظرنامہ سامنے آیا ہے۔ ریاست کے تین اہم ترین آئینی عہدے ایسے سیاسی رہنماؤں کے پاس آ گئے ہیں جن کا تعلق قانون کے شعبے سے ہے۔ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق فاروق قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور احمد رضا قادری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ یوں ایک ہی وقت میں حکومت اور قانون ساز اسمبلی کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جنہیں قانون، سیاست اور پارلیمانی معاملات کا طویل تجربہ حاصل ہے۔
تاہم ان تینوں شخصیات کی موجودہ حیثیت کو صرف اس تناظر میں دیکھنا کافی نہیں کہ وہ قانون کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کئی برسوں پر محیط ہے اور تینوں نے انتخابی سیاست، جماعتی ذمہ داریوں اور پارلیمانی سرگرمیوں میں وقت گزارنے کے بعد موجودہ آئینی مناصب حاصل کیے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی منزل تک پہنچنے کی کہانی مختلف ہے، لیکن ایک قدر مشترک واضح دکھائی دیتی ہے کہ وکالت اور قانون کے پس منظر نے ان کی سیاسی شناخت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2011 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس وقت ریاست میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی۔ پانچ سال بعد 2016 کے انتخابات میں انہوں نے دوبارہ کامیابی حاصل کی اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس طرح وزارتِ عظمیٰ ان کے لیے سیاست میں اچانک ملنے والا منصب نہیں بلکہ کئی برس کی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں کے بعد حاصل ہونے والی بڑی ذمہ داری ہے۔
حالیہ انتخابات میں افتخار گیلانی نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد تین سے عام نشست پر انتخاب لڑا، تاہم اس مرتبہ انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ پیپلز پارٹی کے سردار مختار خان نے 20 ہزار 45 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ افتخار گیلانی کو 16 ہزار 507 ووٹ ملے۔ بظاہر عام نشست پر شکست ان کے سیاسی مستقبل کے لیے بڑا دھچکا دکھائی دیتی تھی، لیکن چند ہی دن بعد سیاسی صورت حال نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا۔
مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے نامزد کیا اور وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد پارٹی قیادت نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے لایا۔ 28 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے۔ یوں عام نشست پر شکست کے باوجود وہ نہ صرف دوبارہ اسمبلی میں پہنچے بلکہ چند ہی روز بعد آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کے منصب تک بھی پہنچ گئے۔
افتخار گیلانی کے سیاسی سفر میں یہ تبدیلی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پارلیمانی سیاست میں ایک انتخابی شکست ہمیشہ سیاسی اختتام نہیں ہوتی۔ جماعتی اعتماد، متبادل پارلیمانی راستہ، سیاسی تجربہ اور اسمبلی میں اکثریت کی حمایت کسی بھی سیاست دان کو دوبارہ مرکزِ اقتدار میں لا سکتی ہے۔ اب ان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ انتخابی سیاست کے اس پیچیدہ مرحلے سے نکل کر حکومتی کارکردگی کے میدان میں اپنی سیاسی ساکھ کو مضبوط کریں۔
دوسری جانب چوہدری طارق فاروق کا شمار آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کے تجربہ کار سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی اہم سیاسی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کا تعلق محض موجودہ اسمبلی تک محدود نہیں۔ وہ 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ ن کی حکومت میں سینیئر وزیر کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔ اس طویل سیاسی اور حکومتی تجربے نے انہیں ریاستی سیاست اور پارلیمانی معاملات سے گہری واقفیت فراہم کی ہے۔
نئی قانون ساز اسمبلی وجود میں آنے کے بعد مسلم لیگ ن نے چوہدری طارق فاروق کو اسپیکر کے منصب کے لیے نامزد کیا۔ 25 اگست کو ہونے والے انتخاب میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری قاسم مجید کو شکست دی۔ طارق فاروق نے 32 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار کو 13 ووٹ ملے اور ایک ووٹ مسترد ہوا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے اسپیکر کا حلف اٹھایا اور آئینی طور پر قائم مقام صدر کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔
اسپیکر کا منصب محض اسمبلی اجلاس کی صدارت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس عہدے کے ساتھ ایوان کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلانے، حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کو اظہارِ خیال کا موقع دینے اور پارلیمانی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ طارق فاروق کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے کے باوجود اسپیکر کے منصب کی غیر جانب داری کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کا طویل سیاسی تجربہ اس حوالے سے مددگار ہوسکتا ہے، لیکن اسپیکر کی اصل ساکھ کا فیصلہ ایوان کے اندر ان کے طرزِ عمل سے ہوگا۔
اسی طرح احمد رضا قادری بھی نئی اسمبلی میں کسی نئے سیاسی چہرے کے طور پر سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشست سے چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کی اور یوں ان کے پاس قانون ساز اسمبلی کے اندر طویل تجربہ موجود ہے۔ مسلم لیگ ن نے انہیں نئی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور 25 اگست کو ہونے والے انتخاب میں انہوں نے 32 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار عامر غفار لون کو 14 ووٹ ملے۔
احمد رضا قادری کا مسلسل چوتھی مرتبہ اسمبلی کا حصہ بننا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں نہ صرف انتخابی سیاست کا تجربہ ہے بلکہ وہ پارلیمانی کارروائی اور قانون ساز اسمبلی کے طریقہ کار سے بھی واقف ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے انہیں اسپیکر کی معاونت کے ساتھ ساتھ ایوان کی کارروائی کو منظم رکھنے اور ضرورت پڑنے پر اجلاس کی صدارت کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر ان تینوں شخصیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی نئی سیاسی تشکیل کی ایک منفرد تصویر سامنے آتی ہے۔ وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر تینوں قانون کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، مگر ان کی موجودہ حیثیت صرف پیشہ ورانہ قابلیت کا نتیجہ نہیں۔ تینوں نے عملی سیاست میں وقت گزارا، جماعتی ذمہ داریاں ادا کیں، انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمانی نظام کے اندر اپنی جگہ بنائی۔
قانون اور سیاست کا یہ امتزاج آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قانون دان سیاست دانوں کو آئینی شقوں، قانونی طریقہ کار اور پارلیمانی قواعد سے نسبتاً زیادہ واقفیت حاصل ہوتی ہے، لیکن حکمرانی کے لیے صرف قانونی علم کافی نہیں ہوتا۔ انتظامی صلاحیت، سیاسی برداشت، معاشی ترجیحات، عوامی رابطہ اور مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
وزیراعظم افتخار گیلانی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج حکومت کو مؤثر انداز میں چلانا ہوگا۔ انہیں عوامی مسائل، روزگار، بنیادی سہولیات، مالی وسائل، انتظامی معاملات اور سیاسی اختلافات جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ نئی حکومت سے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دینا بھی ان کی سیاسی ساکھ کے لیے اہم ہوگا۔ وکالت اور پارلیمانی تجربہ انہیں قانونی و سیاسی معاملات سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن عوامی توقعات پوری کرنے کے لیے انہیں اس تجربے کو عملی حکمرانی میں تبدیل کرنا ہوگا۔
چوہدری طارق فاروق کے لیے چیلنج مختلف نوعیت کا ہے۔ اسپیکر کی حیثیت سے ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ایوان کا اعتماد برقرار رکھنا ہوگی۔ اگر اسمبلی میں حکومتی اکثریت مضبوط بھی ہو تو اسپیکر کا منصب اسی وقت مؤثر سمجھا جاتا ہے جب حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ احساس ہو کہ ایوان کی کارروائی قواعد کے مطابق اور غیر جانب دارانہ انداز میں چلائی جارہی ہے۔ ان کے سابقہ حکومتی تجربے کے باعث اپوزیشن ان کے طرزِ عمل پر زیادہ نظر رکھ سکتی ہے۔
احمد رضا قادری کے لیے بھی ڈپٹی اسپیکر کا منصب محض ایک آئینی عہدہ نہیں بلکہ پارلیمانی نظم و ضبط میں عملی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری ہے۔ چوتھی مرتبہ اسمبلی میں آنے کا تجربہ ان کے لیے ایک مضبوط پس منظر فراہم کرتا ہے، تاہم اب انہیں اس تجربے کو ایوان کی مؤثر معاونت اور پارلیمانی روایات کے استحکام میں استعمال کرنا ہوگا۔
اس پورے منظرنامے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان تینوں شخصیات نے سیاسی سفر کے دوران مختلف ادوار اور سیاسی حالات دیکھے ہیں۔ افتخار گیلانی نے پیپلز پارٹی کے دور میں اسمبلی رکن کی حیثیت سے سیاست کی، بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر رہے اور اب اسی جماعت کی قیادت میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے۔ طارق فاروق مسلم لیگ ن کے پرانے اور فعال رہنما ہونے کے ساتھ سابق حکومت میں سینیئر وزیر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ احمد رضا قادری مسلسل پارلیمانی کامیابیوں کے ذریعے نئی اسمبلی تک پہنچے ہیں۔
یہ تجربہ نئی حکومت کے لیے ایک اثاثہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب آزاد کشمیر کو انتظامی، معاشی اور عوامی سطح پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں، تجربہ رکھنے والی قیادت سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ریاستی اداروں، اسمبلی اور حکومت کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرے گی۔ تاہم تجربہ تب ہی مؤثر ثابت ہوگا جب اسے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ادارہ جاتی فیصلوں، شفاف حکمرانی اور عوامی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔
آزاد کشمیر کی نئی اسمبلی میں قانون دانوں کا تین بڑے آئینی عہدوں پر پہنچنا اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ وکالت اور سیاست دونوں ایسے شعبے ہیں جہاں دلیل، آئینی فہم اور سیاسی گفت و شنید بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن ریاستی نظام چلانے کا اصل امتحان عدالت یا اسمبلی کے فلور پر مؤقف پیش کرنے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ یہاں فیصلوں کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگی، معیشت، انتظامیہ اور ریاستی اداروں پر پڑتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ افتخار گیلانی، طارق فاروق اور احمد رضا قادری اپنے قانونی اور سیاسی تجربے کو کس حد تک ریاستی طرزِ حکمرانی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تینوں کے پاس قانون کی سمجھ، سیاست کا تجربہ اور پارلیمانی نظام سے واقفیت موجود ہے، لیکن آنے والے دنوں میں ان کی اصل پہچان ان کے عہدوں سے نہیں بلکہ ان کی کارکردگی سے بنے گی۔
یوں آزاد کشمیر کی نئی سیاسی ترتیب میں وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے ایک ہی پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والی تین سیاسی شخصیات کے پاس آنا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ریاستی سیاست میں قانون دانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ یہ تینوں قانون جانتے ہیں یا سیاست سمجھتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ قانون، سیاست اور پارلیمانی تجربے کو ملا کر آزاد کشمیر میں ایسی حکمرانی دے سکیں گے جس کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچے؟
