پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس FIAکی رسائی میں کیسے آئی؟

فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ آج صرف سماجی رابطے کے ذرائع نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی ذاتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر لوگوں کے رابطے، تصاویر، گفتگو، شناختی معلومات اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق مختلف نوعیت کا ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ ایسے میں جب وفاقی تحقیقاتی ادارے نے میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطے کا نیا طریقہ کار قائم کیا ہے تو ایک اہم سوال نے جنم لیا ہے: کیا اب ایف آئی اے کو شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگئی ہے، یا حقیقت اس سے مختلف ہے؟

ایف آئی اے کے مطابق معاملہ شہریوں کے اکاؤنٹس میں براہِ راست داخل ہونے یا تمام صارفین کا ڈیٹا کھول کر دیکھنے کا نہیں بلکہ کسی مخصوص مقدمے کی تحقیقات میں قانونی طریقہ کار کے تحت میٹا سے معلومات طلب کرنے کا ہے۔ تاہم اس رابطے نے ایک دوسری اہم بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ جب کسی ریاستی ادارے کو شہریوں کی آن لائن معلومات تک رسائی درکار ہو تو اس عمل کی قانونی بنیاد، نگرانی، رازداری اور جواب دہی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ تاہم ناقدین کے بقول فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر صارفین کی بڑی مقدار کی ذاتی معلومات موجود ہوتی ہیں، جس کے باعث جب بھی کسی ریاستی ادارے کی جانب سے ان معلومات تک رسائی کی بات سامنے آتی ہے تو شہریوں میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے، یعنی ایف آئی اے، اور میٹا کے درمیان براہِ راست رابطے کے نئے طریقہ کار کے بعد بھی یہی سوال سب سے زیادہ زیر بحث ہے کہ کیا اب ایف آئی اے کو شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگئی ہے؟

دستیاب معلومات کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایف آئی اے کو فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کے تمام صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر محدود یا براہِ راست رسائی نہیں دی گئی۔ نیا طریقہ کار بنیادی طور پر کسی مخصوص مقدمے کی تحقیقات کے دوران میٹا سے مطلوبہ معلومات قانونی درخواست کے ذریعے حاصل کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی کسی تحقیقاتی افسر کو اگر کسی کیس میں کسی مخصوص اکاؤنٹ یا صارف سے متعلق معلومات درکار ہوں تو اسے مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت درخواست تیار کرنا ہوگی، جس کے بعد یہ درخواست ایف آئی اے کے مخصوص رابطہ افسر کے ذریعے میٹا تک پہنچائی جائے گی۔

یہ تبدیلی اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے پہلے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی قانونی معاونت یا انٹرپول جیسے ذرائع سے درخواستیں بھیجی جاتی تھیں۔ ایسے طریقہ کار میں کئی ماہ لگنے کا امکان رہتا تھا، جبکہ سائبر جرائم کی نوعیت ایسی ہے کہ کئی معاملات میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کسی اکاؤنٹ کی معلومات، لاگ اِن ریکارڈ یا دیگر متعلقہ ڈیٹا بروقت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں اور بعض اوقات شواہد کے حصول میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

نئے نظام کے تحت ایف آئی اے کے قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز میں ایک مخصوص افسر کو میٹا کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق قانونی درخواستیں ایک مقررہ راستے سے میٹا تک پہنچائی جائیں گی۔ اس انتظام کا بنیادی مقصد صرف رفتار بڑھانا نہیں بلکہ درخواستوں کا ریکارڈ رکھنے، ان کی نگرانی کرنے اور یہ جاننے کا نظام قائم کرنا بھی ہے کہ کس کیس میں کس نوعیت کی معلومات طلب کی گئی ہیں۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ میٹا اور ایف آئی اے کے درمیان براہِ راست رابطے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف آئی اے کے اہلکار کسی بھی شہری کا اکاؤنٹ اپنی مرضی سے کھول کر اس کی نجی گفتگو، تصاویر یا دیگر معلومات دیکھ سکیں گے۔ کسی مخصوص معلومات کے حصول کے لیے قانونی درخواست دینا ہوگی اور معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ متعلقہ قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت ہوگا۔ اس لیے ’’براہِ راست رابطہ‘‘ اور ’’براہِ راست اکاؤنٹ تک رسائی‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

تاہم اس کے باوجود یہ سوال اہم رہتا ہے کہ ایف آئی اے میٹا سے آخر کس نوعیت کی معلومات طلب کرسکتی ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کسی مقدمے کی تحقیقات میں صارف کے اکاؤنٹ سے متعلق بنیادی معلومات، اکاؤنٹ بناتے وقت فراہم کی گئی معلومات، انٹرنیٹ کے ذریعے اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کا ریکارڈ اور مخصوص حالات میں مطلوبہ معلومات محفوظ رکھنے کی درخواست کی جاسکتی ہے۔ ہنگامی صورتحال میں معلومات کی فراہمی کے لیے بھی قانونی درخواست کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی مخصوص مواد کو ہٹانے کے لیے بھی متعلقہ قانونی درخواست بھیجی جاسکتی ہے۔

یہ اختیار سائبر جرائم کی تحقیقات میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آن لائن جرائم کے شواہد اکثر مختلف ممالک، سرورز اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نظام میں موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بیٹھا تحقیقاتی ادارہ اگر کسی جعل سازی، آن لائن دھوکا دہی، بلیک میلنگ، اکاؤنٹ ہیکنگ یا دیگر سنگین جرم کی تحقیقات کررہا ہو تو اسے بعض اوقات ایسے ڈیٹا کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو مقامی اداروں کے پاس موجود ہی نہیں ہوتا۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی سے بروقت رابطہ اس عمل کو تیز کرسکتا ہے۔

ایف آئی اے کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطہ خاص طور پر ایسے مقدمات میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جن میں فوری معلومات درکار ہوں۔ ان میں دہشت گردی، بچوں کے استحصال اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق تحقیقات شامل ہوسکتی ہیں۔ ایسے معاملات میں تیز رفتار معلومات نہ صرف تحقیقات کو آگے بڑھانے بلکہ ممکنہ متاثرین کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہیں۔

لیکن یہاں سے معاملے کا دوسرا اور شاید زیادہ حساس پہلو شروع ہوتا ہے، یعنی شہریوں کی رازداری اور ذاتی معلومات کا تحفظ۔ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر موجود معلومات میں صرف کسی شخص کی شناخت ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ اس کے دوستوں، خاندان، تصاویر، رابطوں، گفتگو، مقام اور دیگر ذاتی سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات بھی ہوسکتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے ایسی معلومات طلب کرنے کا اختیار صرف اس وقت قابل قبول سمجھا جاسکتا ہے جب اس کے استعمال کے لیے واضح قانونی حدود اور مؤثر نگرانی موجود ہو۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کسی ادارے کو سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے معلومات حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ ضرورت اپنی جگہ موجود ہے اور جدید جرائم کے مقابلے کے لیے جدید تحقیقاتی ذرائع بھی ناگزیر ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ معلومات کس قانونی بنیاد پر طلب کی جائیں گی، کس افسر کو ان تک رسائی ہوگی، معلومات کس مقصد کے لیے استعمال کی جائیں گی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان کا کیا ہوگا۔

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کی ایک بار نقل ہوجانے کے بعد اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر کسی شہری کا ڈیٹا کسی مقدمے کی تحقیقات میں حاصل کیا جاتا ہے تو اس کے استعمال کی حدود، محفوظ رکھنے کی مدت اور غیر متعلقہ معلومات کو ضائع کرنے کے اصول واضح ہونا ضروری ہیں۔ اسی طرح اگر کسی اہلکار کی جانب سے معلومات کا غلط استعمال ہو تو شہری کے پاس شکایت اور قانونی داد رسی کا مؤثر راستہ بھی ہونا چاہیے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے یہ بحث پہلے ہی موجود ہے کہ شہریوں کے ڈیٹا کو ریاستی اداروں اور نجی کمپنیوں کے درمیان کس حد تک اور کن شرائط کے تحت شیئر کیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق سے وابستہ ماہرین کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ محض کسی ادارے کو ڈیٹا حاصل کرنے کا طریقہ کار فراہم کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ رازداری، مقصد کی پابندی، محدود رسائی، محفوظ ذخیرہ کاری اور جواب دہی کے اصول بھی واضح ہونا چاہئیں۔

خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے یہ مسئلہ مزید حساس ہوسکتا ہے، کیونکہ آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، ذاتی تصاویر کے غلط استعمال اور شناخت چوری جیسے جرائم پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ اگر کسی شہری کا ذاتی ڈیٹا کسی قانونی تحقیقات کے دوران حاصل کیا جاتا ہے تو اس کی حفاظت میں معمولی سی کوتاہی بھی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے سائبر جرائم کے خلاف کارروائی اور شہریوں کی رازداری، دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطہ ایف آئی اے کے اختیارات میں لامحدود اضافہ نہیں کرتا بلکہ بنیادی طور پر معلومات کے حصول کا ایک نسبتاً تیز اور منظم راستہ فراہم کرتا ہے۔ پہلے اگر ایک درخواست بین الاقوامی قانونی معاونت کے طویل عمل سے گزرتی تھی تو اب مخصوص رابطہ افسر کے ذریعے اسے براہِ راست متعلقہ کمپنی تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے رفتار میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن قانونی جواز کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔

اس نظام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ایف آئی اے کتنی تیزی سے معلومات حاصل کرتی ہے، یہ نہیں بلکہ یہ بھی ہوگا کہ وہ معلومات کتنی شفاف، قانونی اور ذمہ دارانہ انداز میں حاصل اور استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر کسی سنگین جرم کے شواہد بروقت مل جاتے ہیں اور متاثرین کو انصاف ملتا ہے تو یہ نظام سائبر جرائم کے خلاف ایک مؤثر قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اسی عمل میں شہریوں کی غیر متعلقہ نجی معلومات تک رسائی، غیر ضروری نگرانی یا ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات پیدا ہوتے ہیں تو اس سے اعتماد کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔

چنانچہ ایف آئی اے اور میٹا کے درمیان براہِ راست رابطے کو نہ تو شہریوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک سرکاری رسائی سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اسے ایسا معاملہ قرار دینا چاہیے جس میں رازداری کے سوالات ہی ختم ہوگئے ہوں۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔ ریاست کو سائبر جرائم، دہشت گردی، آن لائن فراڈ اور بچوں کے استحصال جیسے جرائم کے خلاف مؤثر تحقیقاتی اختیارات کی ضرورت ہے، لیکن ان اختیارات کے ساتھ واضح قانونی حدود، آزاد نگرانی، ڈیٹا کے تحفظ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

بالآخر اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ پاکستان سائبر جرائم کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست تعاون کو کس طرح شہری آزادیوں اور رازداری کے حق کے ساتھ متوازن کرتا ہے۔ میٹا تک درخواست پہنچانے کا راستہ مختصر ہوگیا ہے، لیکن شہریوں کے اعتماد تک پہنچنے کا راستہ صرف شفافیت، قانون کی بالادستی اور مضبوط نگرانی سے ہی مختصر ہوسکتا ہے۔

Back to top button