پاکستان سے ٹکراؤ یا مذاکرات؟ طالبان حکومت کے بیانات کیوں بدلنے لگے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی، سرحدی کشیدگی، آمدورفت اور تجارت سمیت کئی معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب حالیہ دنوں میں افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ براہِ راست رابطے اور مشترکہ طریقۂ کار کے ذریعے مسائل حل کرنے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان میں تعینات افغان طالبان کے سفیر سردار احمد شکیب کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ماہ سے جاری شدید کشیدگی کے دوران نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان طالبان کے سفیر سردار احمد شکیب کا خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحد، دہشت گردی، تجارت اور سکیورٹی کے معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ لیکن افغان سفیر کا پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرنا، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی بات کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست بات چیت پر زور دینا کیا کسی نئی سفارتی سوچ کا اشارہ ہے؟ کیا افغان طالبان اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو مزید طول دینے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا ضروری ہے، یا پھر یہ صرف موجودہ دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک سفارتی پیغام ہے؟
خیال رہے کہ افغان سفیر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان کی سلامتی سے متعلق تشویش کو سمجھتا ہے اور افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی، بیرونی دباؤ اور تجارت و ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت بھی کی۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی کے تجربات اور پرانے مفروضوں سے آگے بڑھتے ہوئے موجودہ حقائق کی بنیاد پر ایک دوسرے کے جائز قومی اور سکیورٹی مفادات کو سمجھنا ہوگا۔
سردار احمد شکیب نے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو جغرافیائی حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے سے الگ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی انحصار کو بحران کے بجائے استحکام، سلامتی اور مشترکہ معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو، لیکن وہ یہ بھی قبول نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز بنایا جائے۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغان سفیر نے براہِ راست مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو افغانستان سے اپنی سکیورٹی سے متعلق مخصوص خدشات پر تعاون درکار ہے تو افغانستان بھی پاکستان کے ساتھ اپنی سکیورٹی سے متعلق تشویش پر براہِ راست بات کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی اہمیت اجاگر کی۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے اگرچہ اس خطاب کو غیر معمولی اہمیت دینے سے گریز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سفارتی نمائندے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں کو دونوں ملکوں کے تعلقات کی جانچ کا معیار نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان کا بنیادی مؤقف بھی تبدیل نہیں ہوا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستانی مؤقف میں سب سے اہم شرط یہی ہے کہ افغان طالبان حکومت ایسے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے جن سے یہ ثابت ہو کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔ پاکستان خصوصاً تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ محض یقین دہانیاں کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مؤثر سرحدی انتظام ضروری ہے۔
لیکن افغان سفیر کے خطاب کو صرف ایک سفارتی سرگرمی قرار دے کر نظر انداز کرنا بھی شاید اتنا آسان نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں افغان طالبان حکومت کے ایک اہم رہنما، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، بھی پاکستان کے ساتھ سکیورٹی معاملات حل کرنے کے لیے مشترکہ طریقۂ کار کی تجویز دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایسا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں سکیورٹی خدشات، شواہد، عسکریت پسندوں کی موجودگی اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق معاملات پر براہِ راست رابطے کے ذریعے کارروائی کی جائے۔
یہ دونوں بیانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف افغان وزیر داخلہ مشترکہ طریقۂ کار اور براہِ راست مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب افغان سفیر پاکستان کے ایک اہم فوجی و دفاعی ادارے میں کھڑے ہو کر تقریباً یہی پیغام دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات براہِ راست سننے اور حل کرنے چاہییں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افغان امور کے ماہرین اسے محض معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں سمجھتے۔
سینیئر صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان کے مطابق موجودہ حالات میں افغان سفیر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مدعو کیا جانا اور ان کا وہاں تفصیلی خطاب اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، تجارت اور آمدورفت کی بندش اور مسلسل ایک دوسرے پر الزامات کے ماحول میں کسی افغان سفارت کار کا ایک اہم فوجی ادارے میں جا کر پاکستانی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا ایک معنی خیز پیش رفت ہے۔
طاہر خان کے مطابق اس دعوت کے پیچھے یہ سوچ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستانی فوجی افسران افغان سفیر کا مؤقف براہِ راست سنیں اور انہیں اپنے سوالات اور تحفظات سامنے رکھنے کا موقع ملے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی طالبان سفارت کاروں کو مختلف مواقع پر دعوتیں دی جاتی رہی ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں افغان سفیر کا دعوت قبول کرکے این ڈی یو میں آنا اور باقاعدہ خطاب کرنا مختلف نوعیت کا پیغام دے سکتا ہے۔
اس پیش رفت کو افغان طالبان حکومت کے اندر ممکنہ سوچ کی تبدیلی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ طاہر خان کے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور گفتگو کی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ افغان طالبان اب پاکستان کے ساتھ معاملات حل کرنے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، یا کم از کم اس راستے کو اختیار کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
اس سوچ کے پیچھے صرف سفارتی عوامل ہی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی حقائق بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی راستوں کی بندش نے تجارت اور آمدورفت کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان نے گزشتہ عرصے کے دوران پاکستان پر اپنا انحصار کم کرنے اور متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے کی کوشش کی، لیکن ماہرین کے مطابق ان متبادل راستوں سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔
افغانستان کی داخلی صورتحال بھی اس دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ مختلف ممالک سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی بڑی تعداد، معاشی مشکلات اور بیرونی تجارت کے محدود راستے افغان طالبان حکومت کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے ساتھ طویل کشیدگی افغانستان کے لیے معاشی اور سیاسی طور پر بھی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں چین کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ حالیہ عرصے میں چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ چین کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے کے اسلام آباد اور کابل کے دوروں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بیجنگ کی خواہش ہے کہ خطے میں اس کے اقتصادی مفادات اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان نسبتاً مستحکم ماحول موجود رہے۔
پاکستان بھی مکمل طور پر مذاکرات کے دروازے بند کرنے کا اشارہ نہیں دے رہا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے حالیہ بیانات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد حکومت سے حکومت کی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کو افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ کچھ عرصہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطوں کی صورتحال کہیں زیادہ کشیدہ تھی۔ اگر اب پاکستان کی جانب سے حکومتی سطح پر مذاکرات کے لیے آمادگی اور افغان طالبان کی جانب سے براہِ راست مذاکرات اور مشترکہ طریقۂ کار کی بات ایک ہی وقت میں سامنے آ رہی ہے تو اس سے کم از کم یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ دونوں فریق مکمل محاذ آرائی کو مستقل حل نہیں سمجھتے۔
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ اب بھی تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ سرگرمیاں ہیں۔ پاکستان اس معاملے پر واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات چاہتا ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مخصوص شواہد اور افراد سے جوڑنے اور براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
دونوں فریقوں کے مؤقف میں یہی بنیادی فرق آئندہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔ اگر کابل ایسے عملی اقدامات کرتا ہے جن سے پاکستان کی سکیورٹی تشویش کم ہوتی ہے اور اسلام آباد بھی افغان طالبان کے ساتھ مستقل ادارہ جاتی رابطے کا راستہ کھولتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی ممکن ہے۔ لیکن اگر مذاکرات صرف بیانات تک محدود رہے اور زمینی سطح پر سکیورٹی صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو اعتماد کی بحالی مشکل رہے گی۔
افغان سفیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب اسی لیے ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے: کیا افغان طالبان حکومت اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اس کے مفاد میں نہیں؟ بظاہر حالیہ بیانات، مشترکہ طریقۂ کار کی تجویز اور براہِ راست مذاکرات پر زور اس سمت میں ایک ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔ لیکن سفارتی بیانات اور عملی پالیسی میں فرق ہوتا ہے۔
اب اصل امتحان الفاظ کا نہیں بلکہ اقدامات کا ہے۔ اگر افغانستان پاکستان کے سکیورٹی خدشات کے حوالے سے قابلِ تصدیق عملی اقدامات کرتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہِ راست ادارہ جاتی رابطے بحال ہوتے ہیں، سرحدی اور تجارتی مسائل پر بات چیت شروع ہوتی ہے اور چین کی سفارتی کوششیں کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل میں تبدیل ہوتی ہیں تو حالیہ اشارے ایک بڑی پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
دوسری صورت میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا خطاب بھی خطے میں جاری سفارتی پیغام رسانی کا ایک اور باب بن کر رہ جائے گا۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مکمل اعتماد تو ابھی بہت دور ہے، لیکن دونوں طرف سے آنے والے حالیہ بیانات یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ جنگ اور کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
