فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے نااہلی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ اس سلسلے میں وکلاء سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے، ایم این اے کے وکیل آئندہ چند روز میں فیصلے کے خلاف درخواست دائر کریں گے۔
الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کو نااہل قرار دیا تھا، فیصل واوڈا نااہلی کیس الیکشن کمیشن میں دو سال سے زائد عرصہ سے زیر سماعت تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصل واوڈا کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
فیصل واوڈ ا پر دوہری شہریت رکھنے کا الزام ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی کے وقت اپنی غیرملکی شہریت ظاہر نہیں کی، فیصل واوڈا نے الزامات تسلیم نہیں کئے تاہم الیکشن کمیشن میں کیس کیخلاف ہائیکورٹ سے رجو ع کیا تھا ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی کہ کیس کی سماعت کا اصل فورم الیکشن کمیشن ہے۔
کرونا کے مثبت کیسز کی شرح میں کمی
وفاقی وزیر کی دوہری شہریت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر مندوخیل ، میاں آصف محمود اور میاں فیصل کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جنوری 2020 میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے 2018 کے انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنی امریکہ کی شہریت چھپائی تھی.
لہذا اس کو نااہل کیا جائے، الیکشن کمیشن میں 2 سال تک کیس کی سماعت جاری رہنے کے بعد الیکشن کمیشن نے دسمبر 2022 میں نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے۔
تاہم الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو بطور سینیٹر ڈی نوٹیفائی کر دیا، سینیٹ میں فیصل واوڈا کی نشست خالی قرار دے دی گئی ،10مارچ 2021 کو فیصل واوڈا کا سینیٹر کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا۔
