مرنے کے علاوہ

تحریر: جاوید چودھری
یہ دو کرداروں کی کہانی ہے‘ پہلے کردار کا نام محمد نعمان تھا‘یہ ایبٹ آباد کے علاقے منگال کا رہنے والا تھا‘ خوش شکل تھا‘ بات چیت کرنی آتی تھی‘ پیدائشی سیلز مین تھا‘ لوگوں کو شیشے میں اتارنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا‘ ایف آئی اے میں کلرک بھرتی ہو گیا لیکن پھر جعل سازی‘ رشوت اور کام پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے نوکری سے فارغ ہو گیا‘ ملازمت کے دوران اس کا رابطہ لوگوں کو ملک سے باہر بھجوانے والے گروہوں کے ساتھ ہو گیا‘ پاکستان میں یہ آسان ترین کام ہے‘ کیوں؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ‘ تمام پاکستانی نوجوان ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں‘ آپ کسی جگہ سرگوشی کر دیں نوجوانوں کی لائین لگ جائے گی اور جہاں کسی پراڈکٹ کے اتنے خریدار ہوں وہاں ’’دکان دار‘‘ کبھی بھوکے نہیں مرتے‘ دو‘ پورا پاکستان یہ سمجھتا ہے ملک سے باہر جانے کا راستہ دو نمبر ہے‘ آپ جعلی ویزے پر باہر جائیں گے یا پھر ڈنکی کے ذریعے بارڈر پار کریں گے‘ لوگ یہ سمجھتے ہیں ہم لیگل طریقے سے باہر نہیں جا سکتے اور ہمارا یہ کام کوئی دو نمبر شخص ہی کرسکتا ہے چناں چہ یہ عمر بھر ایک ایمان دار بے ایمان شخص تلاش کرتے رہتے ہیں‘ محمد نعمان نے یہ کام پکڑ لیا‘
لائبہ اعجاز کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی‘ میڈیا نے یہ خبر اٹھا لی اور یوں یہ ایشو حکومت کے نوٹس میں آ گیا‘ لڑکی کے ماموں اور والد نے پولیس کو پوری سٹوری بتائی‘ پولیس نے نعمان کو تلاش کیا اور11 اکتوبرکو گرفتار کر لیا‘ اس نے شروع میں آئیں‘ بائیں اور شائیں کیا لیکن معاملہ حساس تھا چناں چہ اس کے پاس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘ پولیس نے اس سے 51 لاکھ روپے ریکور کر لیے‘ پولیس تفتیش کے دوران نعمان نے دو انکشاف کیے‘ اس کا خیال تھا لائبہ بھی باقی کرداروں کی طرح رو دھو کر چپ کر جائے گی‘ یہ اگر خاموش نہ ہوئی تو وہ تھوڑی بہت رقم واپس کر کے اور باقی کے لارے دے کر معاملہ ٹال دے گا‘ دوسرا اس کا خیال تھا میں اگر پکڑا بھی گیا تو میں آدھی رقم پولیس کو دے کر جان چھڑا لوں گا‘ اس کے یہ دونوں اعتراف ہمارے قانون اور انصاف کا نوحہ ہیں‘ ہمارے ملک میں زیادہ تر مجرم یہ سمجھتے ہیں ہم مدعی کو دبا کر چپ کرا دیں گے یا پھر انصاف خرید لیں گے اور ان کا یہ خیال غلط بھی نہیں‘ پاکستان میں پولیس اور عدالتی نظام دونوں قابل فروخت ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر محمد نعمان 20اکتوبرکی رات پولیس مقابلے میں مارا گیا‘ یہ پولیس مقابلہ اصلی تھا یا جعلی ہم سردست اس بحث کو سائیڈ پر رکھتے ہیں اور اس معاملے کے چند ہول ناک پہلوئوں پر توجہ دیتے ہیں‘ آپ یہ ملاحظہ کریں لائبہ اعجاز جیسی برائیٹ بچی کو انصاف لینے کے لیے کیا کرنا پڑا؟ اسے مرنا پڑ گیا‘
کیا یہ حقیقت نہیں اگر لائبہ خودکشی نہ کرتی اور وہ بھی عوامی جگہ پر سرعام تو کیا اس کو انصاف ملتا؟ کیا اس کا مجرم گرفتار ہوتا؟اور اس کی رقم ریکور ہوتی؟ ان تمام سوالوں کا جواب ’’ناں‘‘ ہے‘یہ حقیقت ہے یہ بچی فراڈ کے کاغذات لے کر کسی بھی فورم پر چلی جاتی تو کسی نے اس کی بات نہیں سننی تھی‘ یہ اگر میرے پاس بھی آ جاتی تو میں بھی ایک لمبی تقریر کر کے اسے واپس بھجوا دیتا‘ میں بھی اسے بتاتا تم کس قدر بے وقوف ہو‘ کیا تمہیں اتنا بھی پتا نہیں تھا انٹرنیشنل یونیورسٹیوں میں داخلے یوں نہیں ملتے‘ تم لوگ اس فراڈیے کو رقم کیوں دیتے رہے اور تم نعمان سے زیادہ قصوروار ہو وغیرہ وغیرہ‘ یہ اگر این سی سی آئی اے یا پولیس کے پاس جاتی تو اسے عدالت کا راستہ دکھا دیا جاتا اور عدالت میں وکیل اور کلرک اس کے مزید پیسے کھا جاتے اور یہ بوڑھی ہو کر فوت ہو جاتی لیکن اس کی رقم واپس نہ ملتی لہٰذا سوال یہ ہے ہمارے ملک میں لائبہ جیسے مظلوموں کا کیا ٹھکانہ ہے اور انہیں کون انصاف دلا سکتا ہے چناں چہ پھر اس کے پاس مرنے کے علاوہ کیا آپشن تھا‘ یہ صرف درخت پر لٹکی لاش کے ذریعے ہی وزیراعظم‘ وزیر داخلہ اور آئی جی تک پہنچ سکتی تھی اور اس نے یہ آپشن لے لیا‘ میرے ایک جاننے والے نے راولپنڈی میں ایک ایجنٹ کو اپنے تین بھتیجوں کو سعوی عرب بھجوانے کے لیے پیسے دیے‘ وہ ایجنٹ مختلف حیلے بہانوں سے پیسے لیتا رہا‘ جب ویزے دینے کی باری آئی تو وہ بھاگ گیا‘ لواحقین تھانے گئے‘ ریکارڈ نکلوایا گیا تو وہ میانوالی سے اشتہاری نکل آیا‘ اس پر میانوالی میں پہلے سے فراڈ کے تین پرچے درج تھے ‘میانوالی کے بعد وہ اب راولپنڈی میں لوٹ مار کر رہا تھا اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا‘آپ اندازہ لگائیںایک اشتہاری شخص معاشرے میں دندتا پھر رہا ہے‘ لوگوں کو لوٹ رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں‘ آخری اطلاعات تک وہ بہاولپور میں لوگوں کو بیرون ملک بھجوا رہا ہے اور لوگ اس کے ہاتھوں لٹنے کے بعد تھانوں اور ایف آئی اے کے چکر لگا رہے ہیں جب کہ وہ مزے سے بہاولپور میں بیٹھا ہے ۔ دوسرا المیہ‘ نعمان جیسے لوگ اس ملک میں کس قدر بااعتماد ہیں؟
یہ کس دھڑلے سے ایف آئی اے‘ خفیہ اداروں‘ سپریم کورٹ اور میجر بن کر دوسروں کو دھوکا دے دیتے ہیں‘ ان لوگوں میں اتنا اعتماد کہاں سے آ جاتا ہے؟ یہ لوگ یقینا جانتے ہیں ہمیں کوئی نہیں پکڑ سکتا اور اگرہم پکڑے بھی گئے تو ہم بڑی آسانی سے بچ جائیں گے اور تیسرا المیہ محمد نعمان نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا میں نے سوچا تھا میں آدھی رقم پولیس کو دے کر بچ جائوں گا‘ یہ اعتراف بذات خود ملک کے پولیسنگ اور جسٹس سسٹم کے خلاف ایف آئی آر ہے اور یہ ثابت کرتا ہے پاکستان سے لاء اینڈ جسٹس کا جنازہ نکلے دہائیاں گزر چکی ہیں‘ یہاںاب کچھ نہیں بچا‘ حضرت علیؓ نے چودہ سو سال قبل یہ فرما کر کام یاب اور ناکام معاشروں کی تعریف کر دی تھی‘ آپؓ نے فرمایا تھا‘ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں اور ہم من حیث القوم بے انصاف لوگ ہیں‘ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے محمد نعمان سے لے کر چیف جسٹس تک سب ایک ہیں‘ ہم سب ظالم‘ بے انصاف اور بے ایمان ہیں لہٰذا پھر ہمارے ملک میں انصاف کے لیے لائبہ کی طرح مرنے کے علاوہ کیا آپشن بچتا ہے؟ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے‘ ہم بے انصافی کی چکی میں پس پس کر مر جائیں یا پھر لائبہ کی طرح ایک ہی بار درخت کے ساتھ جھول جائیں۔
میں اکثر حیران ہوتا ہوں ملک میں ایک سرحد سے دوسری سرحد تک بے انصافی کی بکھری ہوئی داستانیں دیکھ اور سن کر ہمارے حکمرانوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟ ہمارے وزیراعظم‘ آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان کھانا کیسے کھا لیتے ہیں اور یہ بستر پر کیسے لیٹ جاتے ہیں؟ کیا ان کو خدا یاد نہیں یا پھر انہیں خدا نے بھی اپنے صفحے سے خارج کر دیا ہے‘ خدا کے لیے اس ملک میں اور کچھ کریں یا نہ کریں لیکن انصاف ضرور قائم کر دیں ورنہ یہ جہنم ہم سب کو نگل جائے گا‘ آپ خود سوچیں جس ملک میں مدعی پولیس سٹیشن جانے کی بجائے انصاف کے لیے درخت پر جھولنے پر مجبور ہو جائے اور وزیر داخلہ ملزم کو عدالت بھجوانے کی بجائے پولیس مقابلے میں مروانے پر مجبور ہو جائے اس میں نظام انصاف کے حق میں کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے‘ کیا اس کا یہ مطلب نہیں انصاف کے بارے میں لائبہ اعجاز اور محسن نقوی دونوں ایک پیج پر تھے‘ دونوں کی رائے ایک تھی یعنی ملک میں عدالت اور ججوں کی کوئی ضرورت نہیں‘ ہماری آنکھ اگر اب بھی نہیں کھلتی تو پھر کب کھلے گی؟ کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے؟۔
