مرزا ظاہردار بیگ!

تحریر: عطاالحق قاسمی ، بشکریہ: روزنامہ جنگ

عمر بیت چلی ہے مگر خواہشیں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہیں اور کوئی خواہش بھی ایسی نہیں کہ جس پر دم نکلے، بہت معمولی خواہشات ہیں اتنی معمولی کہ بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے مثلاً یہ کہ میں دیکھنے میں سوبر نظر آئوں میں نے ہر وقت پکا سا منہ بنایا ہو اور یوں جس کسی نے بھی مجھ سے بات کرنا ہو تو وہ میرے موڈ کے مطابق کرے مگر کوشش کے باوجود میں اس ممکن کو ناممکن نہیں بنا سکا۔اس طرح دوستوں کی محفل میں اگر کوئی لطیفہ سنائے اور اس پر قہقہے لگ رہے ہوں تو میں زیادہ سے زیادہ تبسم زیر لب سے کام لوں۔اگر کوئی میری تحریروں کی تعریف کرے تو میری خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے یہ تاثر دوں کہ ٹھیک ہے میں آپ کی سپاس گزاری کو سندِقبولیت عطا کرتا ہوں ۔میری ایک خواہش یہ بھی ہے کہ مجھے کوئی اچھے سے اچھا شعر بھی سنائے تو میں پوری خاموشی سے اسے داد دوں۔ روزانہ بہت سے لوگ مجھےملنے آتے ہیں اصولاً مجھے چاہئے کہ انہیں کچھ دیر انتظار کرائوں میرے بچپن کا کوئی دوست بھی ملنے آئے اور مجھ سے فری ہونے کی کوشش کرے تو میں اس کی ہر ایسی کوشش کو اپنے چہرے کے تنائو سے ناکام بنا دوں ۔یہ جو ہر محفل میں لوگ میرے ساتھ سیلفی بنانا چاہتے ہیں انہیں بتائوں کہ میرا وقت بہت قیمتی ہے باری باری اپنی سیلفی بنانے کی بجائے سب اکٹھے ہو کر گروپ کی صورت میں اپنی یہ خواہش پوری کرلیں۔

کوئی ایک خواہش ہو تو اس کا ذکر کروں یہاں تو ناتمام خواہشوں کا ہجوم ہے اور میں کوشش کے باوجود ان کی تکمیل نہیں کر پاتا جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں بہت پڑھا لکھا ہوں مارکس، ڈارون، نطشے،آئن سٹائن سے لیکر مشرق و مغرب کے تمام فلاسفروں، دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروں کی کاوشیں مجھے ازبر ہیں مگر محفلوں میں جب لوگ خود کو اہلِ علم ثابت کرنے کیلئے کسی ایک دانشور کو کوٹ کرتے ہیں تو مجال ہے میں ان سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ایسی بیسیوں کوٹیشنز بیان کرنے لگوں، میری ایک خواہش ایسی ہے جو بہت عجیب وغریب ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنے بہت سے دوستوں کی طرح اپنے کالموں میں خود کو بوجہ انکسار طالب علم، درویش، فقیر وغیرہ لکھوں مگر اس لئے نہیں لکھتا کہ میں اپنا جو پوسچربنانا چاہتا ہوں وہ میں پہلے ہی اپنے ملنے والوں کو بتاتا رہتا ہوں سو اس کی ضرورت نہیں ۔میری خواہشات بہت عجیب وغریب ہیں مثلاً میں دعوتوں میں لوگوں کو جب چھری کانٹے سے کھاتے دیکھتا ہوں تو میرا جی چاہتا ہے کہ جیسے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھاتا ہوں اس طرح ان دعوتوں میں بھی چھری کانٹے کا محتاج نہ بنوں مگر یہ خواہش بھی بس دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا ڈرائیور میرے لئے کار کا دروازہ نہ کھولے میرا بیگ اٹھا کر نہ چلے، کوئی بھی میرے جوتے پالش نہ کرے میں کہیں بھی جائوں میرے ساتھ سپیشل سلوک نہ کیا جائے ایئرپورٹ پر عوام کے ساتھ لائونج میں بیٹھ کر اپنی فلائٹ کا انتظار کروں نہ کہ عوام سے کٹ کر وی آئی پی لائونج میں جاکر بیٹھ جائوں مگر اوپر بیان کی گئی تمام خواہشوں کی طرح یہ خواہش بھی کسی نہ کسی طرح ناکام بنا دی جاتی ہے اب آپ ہی بتائیں ایسی صورتحال میں بندہ کیا کرے؟

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ان خواہشات کے بیان میں آپ کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے بس آپ یہ سمجھیں میں دل کا غبار نکال رہا ہوں ،مجھے لاہور کے جمخانہ اور اسلام آباد کے اسلام آباد کلب میں ٹھہرنے کا کوئی شوق نہیں میں تو کسی مسافر خانے میں رہنا چاہتا ہوں ،میں فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانا کھانے کی بجائے لکشمی چوک میں بر لبِ سڑک دال چاول کھانے کا خواہشمند ہوں ،اس طرح مجھے اس طرح کی کوئی خواہش نہیں ہے کہ میں لاہور میں موجود بے شمار مساج ہائوسزمیں جائوں اور اپنی تھکن اتارنے کیلئے مساج کرائوں بلکہ یقین کریں لکشمی چوک میں آپ کے قریب سے بہت سے مالشیے اپنی تیل کی شیشیاں چھنچھناتے گزرتے ہیں بہت دفعہ جی کیاکہ وہاں کرسی پر بیٹھے بیٹھے ان سے سر کی چانپی کرائوں اور اس دوران وہ جو تالی بجاتے ہیں اس سے لطف اندوز ہوں مگر ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں جو دل کی دل ہی میں رہ گئی ہیں۔

یہ بیان بہت طویل ہو چکا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس میں آپ کی دلچسپی کا کوئی عنصر نہیں تاہم آخر میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور اسے آپ میری اس تحریر کا لب لباب سمجھیں اور اس کے ساتھ یہ گزارش بھی کہ آپ میں سے میری بیان کردہ کوئی بھی خواہش پوری کرنے کی کوشش نہ کرے ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے حاشا وکلااِن میں سے کوئی خواہش بھی میری نہیں ہے اور اللّٰہ کرے یہ کبھی پوری نہ ہوں اور ہاں میں چاہے لکھوں نا لکھوں آپ مجھے طالب علم، درویش اور فقیر وغیرہ سمجھتے رہیں اور دوسروں کو بھی یہ سب کچھ بتائیں البتہ میرے اس کالم کے مندرجات میرے کسی دوست کے ساتھ شیئر نہ کریں کہ وہ جانتے ہیں، میں کیا ہوں اور وہ جانتے ہیں کہ میں ظاہر دار بیگ ہوں اور اس کی بدلی ہوئی

انتخابات اور جمہوریت

شکل میں ہوں!

Related Articles

Back to top button