قیدی حکومت

تحریر: حامد میر
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک ایسے شخص کے گرد گھوم رہی ہے جو پچھلے تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ اس قیدی کا نام عمران خان ہے۔ 18اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو دو دن کے اندر اندر اسلام آباد کے الشفا ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا لیکن سپریم کورٹ کے اس حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے شہباز شریف حکومت نے عمران خان کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا چکر لگوایا اور واپس اڈیالہ جیل میں بند کر دیا۔ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے ہے۔ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ روکنے کیلئے تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات شروع کئے لیکن سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کہہ دے کہ لانگ مارچ روک دو تو ہم روک دینگے۔ وفاقی حکومت نہیں مانی اور سہیل آفریدی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیکر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ گورنر راج کا مطلب سہیل آفریدی کی حکومت کا خاتمہ ہے لیکن لانگ مارچ ختم نہیں ہوا۔ اتوار کو شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا اور سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیکر گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے کسی صوبے میں گورنر راج کا نفاذ کوئی نئی بات نہیں لیکن گورنر راج سے جڑی تاریخ بہت تکلیف دہ ہے۔ افسوس کہ اس تلخ تاریخ کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ کو شکست ہوئی اور یونائیٹڈ فرنٹ کے اے کے فضل الحق وزیراعلیٰ بن گئے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے اے کے فضل الحق کو ملک دشمن قرار دیکر برطرف کر دیا اورا سکندر مرزا کے ذریعے مشرقی پاکستان میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ 1970ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کرنے کی بجائے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا۔ پہلے لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کو گورنر بنایا۔ انہیں فوجی آپریشن کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے فوجی آپریشن سے انکار کر دیا تو جنرل ٹکا خان کو گورنر بنا دیا گیا۔ ٹکا خان نے آپریشن شروع کیا لیکن امن قائم نہ کر سکے تو جنرل اے اے کے نیازی کو گورنر بنایا گیا جنہوں نے بھارت کے سامنے سرنڈر کر دیا۔پاکستان کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی پرانی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا۔ 1973ء میں بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اکبر بگٹی گورنر بنائے گئے لیکن صرف دس ماہ کے بعد انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خدا حافظ کہہ دیا۔ 1975ء میں بھٹو کے ایک قریبی ساتھی حیات محمد خان شیرپاؤ کو پشاور یونیورسٹی میں قتل کر دیا گیا۔ قتل کا الزام ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر لگا کر صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر جنرل سید غوث گورنر بنا دیئے گئے لیکن وہ صوبے کے حالات نہ سنبھال سکے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پچاس سال پہلے کھڑے تھے۔ 1973ء میں گورنر بننے والا اکبر بگٹی 2006ء میں پاکستانی فوج کی طرف سے غدار قرار دیا گیا اور بلوچستان کے پہاڑوں میں مارا گیا۔ عطاء اللہ مینگل اور ولی خان کوملک دشمنوں کا سہولت کار قرار دینے والا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو 1979ء میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑی ظالم ہے۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ 2018ء میں عمران خان بھی فوجی جرنیلوں کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بنے۔ جب ان جرنیلوں سے اختلاف ہوا تو عمران خان کو حکومت سے نکال کر شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ جرنیلوں کا خیال تھا کہ جس طرح ماضی میں نواز شریف جیسے سیاستدان جیل جانے کے بعد سمجھوتہ کر کے کبھی سعودی عرب اور کبھی برطانیہ چلے جاتے تھے تو عمران خان بھی زیادہ عرصہ جیل میں نہ گزار سکیں گے۔ نواز شریف کی طرح عمران خان بھی سمجھوتہ کرینگے اور بیرون ملک چلے جائینگے لیکن عمران خان نے نواز شریف بننے سے انکار کر دیا۔
شہباز شریف کی حکومت انہیں رہا کرنے کا خطرہ مول لینے کیلئے تیار نہیں، یہاں تک کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے 18اگست کے فیصلے پر عمل درآمد ہو جاتا تو نہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوتا نہ لانگ مارچ ہوتا۔ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کیلئے ہے لیکن شہباز شریف نے بھی ایک لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایک سول آمریت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں آئین کے اندر کر رہے ہیں۔ آئین تو انہیں سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم بھی دیتا ہے لیکن جہاں آئین انکے راستے کی رکاوٹ بنے وہاں وہ آئین کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جہاں آئین ان کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کرتا ہے وہاں وہ آئین پسند بن جاتے ہیں۔ یہی کچھ عمران خان بھی کیا کرتےتھے۔ عمران خان نے شہباز شریف سمیت اپنے کئی سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا اور مجھ جیسے گستاخ صحافی پر نو ماہ تک پابندی لگائے رکھی لیکن ایک فرق ہے۔ گلوبل ڈیموکریسی انڈیکس میں عمران خان کی حکومت Hybrid Regimes میں شامل تھی لیکن آج شہباز شریف کی حکومت کو Authoritarian Regimes میں شامل کیا جا چکا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت اور افغانستان کیساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑنے کیلئے نئے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ افغانستان کے راستے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔
کچھ ماہ پہلے تک پاکستان کے حکمران امریکا اور ایران میں ثالثی کے کردار پر بڑا فخر کر رہے تھے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ انکی تعریف کر رہے تھے۔ پھر ٹرمپ نے ایران کیساتھ براہ راست مذاکرات شروع کر دیئے۔ پاکستان نے سعودی عرب اور ترکی کیساتھ مشترکہ دفاع کا ایک معاہدہ کر لیا۔ پاکستان کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر قیمت پر سعودی عرب کا دفاع کرینگے۔ سعودی عرب کا دفاع ضرور کیا جائے لیکن پاکستان کی حکومت پہلے اپنا گھر ٹھیک کرے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء میں پاکستان پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے شہباز شریف کی حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو متحد کرنا ہو گا۔ یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر خیبرپختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کیخلاف آپریشن کیا جا رہا ہے اس پالیسی سے صوبے میں امن قائم نہیں ہو گا۔ شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
