کیا عدلیہ KPKمیں گورنر راج اور ایمرجنسی کو ختم کر سکتی ہے؟

کیا عدلیہ KPKمیں گورنر راج اور ایمرجنسی کو ختم کر سکتی ہے؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ نے پاکستان کی سیاست اور آئینی نظام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی حکومت اس اقدام کو امن و امان اور قومی سلامتی کی ضرورت قرار دے رہی ہے، جبکہ اس کی آئینی حیثیت، صوبائی خودمختاری اور سیاسی نتائج پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے اور صوبائی حکومت کو اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی کارکردگی اور وفاق و صوبے کے درمیان اعتماد کا فقدان اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ غیر معمولی آئینی اختیارات کے ذریعے امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی جا سکتی ہے یا یہ اقدام سیاسی کشمکش اور وفاقی و صوبائی اختلافات میں مزید اضافہ کرے گا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آئینی اختیارات، صوبائی حکومت کے مستقبل اور امن و امان کی ذمہ داریوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232، 234 اور 235 مختلف غیر معمولی حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ اور متعلقہ اختیارات سے متعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو آئینی تقاضوں کے مطابق حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، جبکہ امن و امان کی سنگین صورت حال میں وفاقی حکومت مخصوص مقاصد اور آئینی حدود کے اندر مداخلت کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ فیصلے کے لیے آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کو اسے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق پاکستانی آئین کے آرٹیکل 236 کے تحت اس کے دسویں باب میں موجود کسی بھی آرٹیکل کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، تاہم ماضی میں اس نوعیت کے اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ماضی میں ایسے اقدامات کے بعد درخواستیں دائر کی گئیں اور متعدد درخواستوں کے نتیجے میں گورنر راج ختم بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت مضبوط کیس کی صورت میں فیصلے کو واپس لے سکتی ہے، تاہم اگر وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس وجوہات موجود ہوں تو فیصلے کو کالعدم قرار دیے جانے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ احمد بلال محبوب نے مزید کہا کہ یہ وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ اب اسے براہِ راست شدت پسندی پر قابو پانے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ اب وفاقی حکومت یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکے گی کہ صوبائی حکومت تعاون نہیں کر رہی یا رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ اگر صورتِ حال میں واضح تبدیلی نہ آئی تو وفاقی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس حوالے سے قانونی ماہر عابد ساقی کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی، جسے عدالت نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ان کے خیال میں موجودہ صورتِ حال میں بھی عدالت ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے۔
قانونی ماہر عبدالمعیز جعفری کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر، اور جب تک عدالتیں آزاد ہوں، ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ آرٹیکل 232 کے غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں اس معاملے میں مداخلت کریں گی یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ ان کے بقول آئین اور قانون کے بدنیتی پر مبنی استعمال کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار عدالتوں ہی کے پاس ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہر اشتر اوصاف نے کہا کہ اگر کسی صوبے میں سکیورٹی کے خدشات موجود ہوں تو وفاقی حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ان کے مطابق آرٹیکل 234(1) کے تحت صوبے کا نظم و نسق گورنر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اشتر اوصاف نے 2009 میں پنجاب میں نافذ کیے گئے گورنر راج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سلمان تاثیر صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے۔ ان کے مطابق اس موقع پر صرف آرٹیکل 234(1) کا اطلاق کیا گیا تھا۔
ماہر قانون حسن رضا پاشا کا ماننا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق پر ممکنہ پابندیوں، اس کی مدت میں توسیع اور پارلیمانی نگرانی کے معاملات میں آئینی طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایمرجنسی میں توسیع کے معاملے پر پارلیمان میں تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کو اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں 10 دن کی مدت کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی طریقوں میں استعفیٰ یا عدم اعتماد شامل ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صدر مملکت کو فراہم کردہ معلومات اور جائزے کو بھی متعلقہ آئینی تقاضوں کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
حسن رضا پاشا نے آئین کے آرٹیکل 149 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت قومی سلامتی، امن و امان اور وفاقی اختیارات کے تحفظ کے لیے صوبوں کو ضروری ہدایات دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ 2 برس کے دوران وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی انتظامی معاملات سے متعلق تحفظات کو بھی موجودہ فیصلے کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے صوبے کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جانے کے باوجود متعلقہ اداروں کی حالت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی کی گئیں اور مولانا فضل الرحمان کو اس عمل میں شامل کیا گیا، تاہم صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے بعض اقدامات اور پولیس ایکٹ سے متعلق معاملات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
ماہر قانون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اقدامات کیے جانے کی صورت میں صوبائی حکومت کے بعض اختیارات گورنر کو منتقل ہو سکتے ہیں، جو آئینی طریقۂ کار کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کریں گے۔ تاہم اس نوعیت کے اقدام میں اختیار کی حدود، نفاذ کے طریقے اور متعلقہ قانونی شرائط کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے میں حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ آئینی دفعات، سرکاری اعلامیے اور عدالتی جائزے کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔
ماہر قومی سلامتی امور سید محمد علی نے ایمرجنسی کے نفاذ کو ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق صدر مملکت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کی صورت حال کا بغور جائزہ لیں، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بروقت اقدامات نہ کیے جانے کو موجودہ فیصلے کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق اگر کسی صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال مسلسل خراب رہے تو وفاقی حکومت کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔
تاہم کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی افادیت کا تعین اس کے عملی نتائج سے ہونا چاہیے۔ اگر ایمرجنسی کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مؤثر ہوتی ہیں، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بہتر بنتی ہے اور شہریوں کو تحفظ ملتا ہے تو اس کے مقاصد کا جائزہ واضح پیمانوں پر لیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر سیاسی اختلافات بڑھتے ہیں، صوبائی انتظامی ڈھانچے میں غیر یقینی پیدا ہوتی ہے یا عوامی نمائندگی متاثر ہوتی ہے تو ان نتائج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی کے مطابق متاثرہ قبائلی اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ گورنر کی معاونت کے لیے وزرا کی ٹیم میں مشیر بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور گورنر کے لیے امن و امان کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ سیاسی طور پر اس اقدام سے تحریک انصاف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اسے مظلومیت کا بیانیہ مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ سیاسی پہلو بھی اہم ہے، کیونکہ کسی صوبے میں غیر معمولی اختیارات کے نفاذ کے اثرات انتظامی معاملات تک محدود نہیں رہتے۔ ایسے فیصلے سیاسی جماعتوں کے مؤقف، عوامی ردعمل اور وفاق و صوبے کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے قانونی جواز اور عملی ضرورت پر بحث کو سیاسی الزامات سے الگ رکھتے ہوئے آئینی اصولوں اور قابل تصدیق حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کا مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت تک محدود نہیں۔ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، واضح ذمہ داریاں، مالی وسائل کا شفاف استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافہ ضروری ہے۔ غیر معمولی اختیارات اسی وقت اپنے مقصد میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کا استعمال قانون کے مطابق ہو، ان کی مدت اور حدود واضح ہوں اور متعلقہ ادارے جواب دہ ہوں۔ موجودہ صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کس حد تک بہتر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ آئینی و جمہوری تقاضوں کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کو فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ پارلیمانی نگرانی اور قانونی جانچ بھی اس عمل کی اہم کڑیاں ہیں۔ آخرکار اس اقدام کی اہمیت کا تعین اس کی سیاسی تشہیر یا مخالفت سے نہیں بلکہ امن و امان کی بہتری، شہریوں کے تحفظ، آئینی حدود کی پاسداری اور وفاق و صوبے کے درمیان مؤثر تعاون سے ہوگا۔
