ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد آفریدی گرفتار

بالآخر وہی ہوا جسکا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اعلانِ بغاوت کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے جبکہ سہیل آفریدی کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آفریدی گورنر راج کے نفاذ کی تیاریوں کے دوران اپنا لانگ مارچ مردان میں چھوڑ کر ہنگامی بنیادوں پر وزیر اعلی ہاؤس واپس پہنچے تھے جہاں سے انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔
اس سے پہلے صدر آصف زرداری نے اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارشات کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کے سپرد کر دیے گے اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج تعینات کر دی گئی۔
اتوار کی صبح وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی مبینہ دانستہ لاتعلقی کا نوٹس لیتے ہوئے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی سفارش کی۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کا فقدان غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف اس اقدام کو صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دے رہی ہے اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل کوششیں کیں اور آخری وقت تک تحریک انصاف کے رہنماؤں سے رابطے میں رہی۔ ان کے مطابق حکومت کا مسئلہ دھرنا نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، کیونکہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو مجوزہ مسودے کے چوتھے پیراگراف میں تبدیلیوں کے لیے تجاویز دینے کا موقع بھی دیا، لیکن متعدد مرتبہ مسودہ تبدیل ہونے اور اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کے باوجود معاملہ طے نہ ہو سکا۔
وزیر داخلہ کے مطابق آخری رات تقریباً پونے بارہ بجے تک تحریک انصاف کے رہنماؤں سے رابطے جاری رہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کی تاکہ معاملے کا کوئی متفقہ حل نکالا جا سکے۔ محسن نقوی نے بتایا کہ تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، جس پر انہیں صوبائی حکومت سے مشاورت کرنے کے لیے کہا گیا۔ تاہم وفاقی حکومت کے مطابق مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے اور بالآخر کابینہ نے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
دریں اثنا وفاقی وزارت داخلہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق فوج صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی اور شہریوں کی جان و مال، سرکاری تنصیبات اور اہم مقامات کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد دے گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت تک برقرار رہے گی۔ گورنر خیبر پختونخوا جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے، جبکہ حکم نامہ گزٹ آف پاکستان کے پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو امید ہے کہ ان اقدامات سے امن، ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام مزید دہشت گردی برداشت نہیں کرنا چاہتے اور صوبے کے ادارے مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ تاہم گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھنے اور احتجاجی سرگرمیوں میں اضافے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
آئینی اعتبار سے اس صورت حال میں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کی نوعیت اور دائرہ اختیار کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی انتشار کے باعث پیدا ہونے والی ایسی سنگین ہنگامی صورتحال میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے جس سے پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اور متعلقہ صوبائی حکومت کے لیے اس صورت حال پر قابو پانا ممکن نہ رہے۔ اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئین میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے متعلق شرط بھی موجود ہے۔ اگر صدر صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر اپنی صوابدید پر ایسا اعلان کریں تو اسے دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔
اس کے برعکس آرٹیکل 234 اس صورت حال سے متعلق ہے جب صدر مملکت اس بات سے مطمئن ہوں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ ایسی صورت میں صدر صوبائی گورنر کی رپورٹ پر یا دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اعلان جاری کر سکتے ہیں اور صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اپنے اختیار میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں۔
اس کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی آئینی حدود کے اندر وفاقی سطح پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ آرٹیکل 234 کے تحت ایسے اعلان کو بھی آئینی مقررہ مدت میں پارلیمان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ یوں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک دوسرے سے متعلق ہونے کے باوجود دو الگ آئینی اقدامات ہیں، جن کی قانونی بنیاد اور طریقۂ کار مختلف ہیں۔
معروف ماہر قانون اشتر اوصاف کے مطابق آرٹیکل 232 ایمرجنسی کے نفاذ سے جبکہ آرٹیکل 234 گورنر راج سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے مسائل اور انتظامی بحران کو بنیاد بنا کر دونوں آئینی دفعات استعمال کی ہیں۔ انہوں نے 2009 میں پنجاب میں نافذ کیے گئے گورنر راج کی مثال بھی دی، جب سلمان تاثیر کو صوبے کا چیف ایگزیکٹو قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت پنجاب میں بنیادی مسئلہ آئینی بحران تھا، جبکہ خیبر پختونخوا کے معاملے میں وفاقی حکومت دہشت گردی اور انتظامی امور دونوں کو جواز بنا رہی ہے۔ تاہم کسی بھی آئینی اقدام کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ آئینی شرائط، طریقۂ کار اور عدالتی تشریح کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کے اختیارات میں بھی آئینی طور پر توسیع ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی برقرار رہنے کے دوران پارلیمان کو متاثرہ صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے ایسے معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے جو عام حالات میں صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ وفاق صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق ہدایات بھی جاری کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے کے تمام آئینی ادارے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں یا وفاق کو لامحدود اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات کو آئین کی متعلقہ دفعات اور ان میں مقرر کردہ پابندیوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان اقدامات کی پارلیمان سے منظوری اور اس کے قانونی اثرات آنے والے دنوں میں اہمیت اختیار کریں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے فوری چیلنج اپنی صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کے خلاف سیاسی اور قانونی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ سہیل آفریدی اس سے پہلے واضح کر چکے تھے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے جسے ان کے بقول غیر آئینی قرار دیا جا سکے۔ ان کی قیادت میں جاری احتجاجی مارچ کے دوران بھی وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان اختلافات نمایاں رہے، جبکہ اسلام آباد کی جانب مارچ روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔
اب گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلٰی سمیت پارٹی قیادت کی گرفتاریوں کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف احتجاج کا دائرہ وسیع کرے گی، عدالتوں سے رجوع کرے گی یا مذاکرات کا راستہ دوبارہ اختیار کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان میں سے کسی بھی راستے کے انتخاب کی حتمی تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ موجودہ صورت حال میں اگلا مرحلہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے قانونی طریقۂ کار، پارلیمان سے منظوری اور صوبے کے انتظامی ڈھانچے کی عملی تشکیل سے متعلق ہو گا۔ وفاقی حکومت کو اپنے فیصلے کے آئینی جواز اور سکیورٹی سے متعلق وجوہات کا دفاع کرنا ہو گا، جبکہ تحریک انصاف اسے عدالتوں میں چیلنج کرنے اور اپنے سیاسی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔ پاک فوج کی تعیناتی کے دوران سول انتظامیہ کے اختیارات، گورنر کے کردار اور امن و امان برقرار رکھنے کے طریقۂ کار پر بھی توجہ رہے گی۔ اس صورت حال میں بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا یہ اقدامات صوبے میں دہشت گردی پر قابو پانے اور انتظامی بحران ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں یا وفاق اور صوبے کے درمیان جاری سیاسی تصادم کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔
