خیبرپختونخوا کی 11 رکنی مشاورتی کونسل، کس کو کیا عہدہ ملا؟

وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور چلانے اور گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کردی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے دستخط کرکے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے میں امن و امان، حکومتی عملداری اور عوامی بہبود کے نظام کو بحال کرنا ہے۔ مشاورتی کونسل میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور ماہرین کو شامل کیا گیا ہے، جنہیں متعلقہ محکموں کے امور میں گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی ذمہ داری سابق آئی جی جیل خانہ جات اور سابق کمشنر کفایت اللہ خان کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ محکمہ مالیات، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن کے لیے سابق چیئرمین ایف بی آر اور سابق سیکرٹری اقتصادی امور طارق محمود پاشا کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ قانون و پارلیمانی امور کی ذمہ داری سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عامر جاوید کو دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اور سابق نگران وزیر ڈاکٹر سید امیر عبداللہ کا انتخاب کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ صحت کی نگرانی پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل اور سابق سرجن جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان کریں گی۔
محکمہ کان کنی و معدنیات کے لیے فرانس سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے سابق مشیر ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ محکمہ صنعت و تجارت کی ذمہ داری مالیات میں پی ایچ ڈی اور سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد کو سونپی گئی ہے۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ و ٹرانسپورٹ کے امور تجربہ کار کاروباری شخصیت اور سابق نگران وزیر آصف رفیق آفریدی دیکھیں گے، جبکہ محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی نگرانی خطیبِ اعلیٰ خیبرپختونخوا اور امام مسجد مہابت خان مولانا محمد طیب قریشی کریں گے۔
محکمہ توانائی، پاور، منصوبہ بندی و ترقی کے امور سابق سینیٹر اور سابق چیئرمین اپٹما عثمان سیف اللہ خان سنبھالیں گے، جبکہ محکمہ اطلاعات و نشریات کے لیے قومی اسمبلی کی رکن اور سابق چیئرپرسن قائمہ کمیٹی اطلاعات ثمر ہارون بلور کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
صوبے میں انتظامی امور کو نچلی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے ایک علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل بھی فعال کی گئی ہے، جو ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈمنسٹریٹر کی نگرانی میں کام کرے گی۔اس انتظامی ڈھانچے کے تحت امن و امان اور منشیات کی روک تھام کے لیے ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ذمہ دار ہوں گے، جبکہ قانون، قبائلی امور اور انسانی حقوق کے شعبے ڈائریکٹر جنرل لیگل اور ایڈووکیٹ جنرل کے زیر نگرانی کام کریں گے۔
بجٹ اور ریونیو کے معاملات ڈائریکٹر جنرل فنانس دیکھیں گے، جبکہ حکومتی نظام، عوامی خدمات اور بحالی کے امور ڈائریکٹر جنرل گورننس اینڈ پلاننگ کے سپرد ہوں گے۔ انتظامیہ، انسانی وسائل اور توانائی کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایڈمن، جبکہ زراعت اور کھیلوں کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر تعینات ہوں گے۔ مواصلات اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی نگرانی مشیر اطلاعات و ترجمان کریں گے۔
