خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم جاری
وفاقی حکومت نے امن و امان، عوامی تحفظ اور ترقیاتی امور کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ متعارف کرا دیا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات سونپ دیے گئے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ (ADS) قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں میں امن و امان بہتر بنانا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا، طرزِ حکمرانی کو مؤثر بنانا اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا بتایا گیا ہے۔
حکمنامے کے مطابق ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ، ایریا ریپریزنٹیٹو ڈیولپمنٹ کونسل (ARDC) کی نگرانی میں کام کرے گا۔ نامزد اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر اور کرم شامل ہیں، جبکہ اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر بھی اس انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہوں گے۔
ایریا ریپریزنٹیٹو ڈیولپمنٹ کونسل میں نامزد اضلاع کی معزز شخصیات شامل ہوں گی اور اس کی سربراہی ایک چیئرمین کریں گے۔ کونسل کے چیئرمین، وائس چیئرمین، ترجمان اور دیگر ارکان کی تقرری مقررہ طریقہ کار اور مدت کے مطابق کی جائے گی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کی سربراہی خیبرپختونخوا کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کریں گے، جو ان اضلاع میں ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کو انتظامی اور سکیورٹی اختیارات حاصل ہوں گے
حکمنامے کے تحت نامزد اضلاع میں تعینات افسران اور متعلقہ اداروں کے اہلکار سیکریٹریٹ کے انتظامی اور آپریشنل کنٹرول میں کام کریں گے۔ ان علاقوں میں مزید تعیناتیوں اور تبادلوں کے احکامات وزیراعظم ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر وقتاً فوقتاً جاری کر سکیں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کو نامزد اضلاع میں صوبائی حکومت کے انتظامی اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وہ ان علاقوں میں بہتر حکمرانی، سکیورٹی اور ترقی کے لیے ضروری تنظیمی ڈھانچے قائم کر سکیں گے، جبکہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی بھی ان کی ذمہ داری ہوگی۔
حکم نامے کے مطابق ایڈمنسٹریٹر سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔ انہیں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے آپریشنل، تنظیمی اور انتظامی امور سے متعلق احکامات دینے کے ساتھ فنڈز کی تقسیم اور منتقلی کے فیصلے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
وفاقی حکومت کے مطابق مسلح افواج اور وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے نامزد اضلاع میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ عوامی تحفظ، معاشی استحکام، امدادی سرگرمیوں اور بنیادی سہولتوں سے متعلق محکموں کی تنظیمِ نو اور ضروری اقدامات بھی اس انتظام کا حصہ ہوں گے۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کے جاری کردہ احکامات، نوٹیفکیشنز، ہدایات اور اقدامات کو صوبائی حکومت کے احکامات کی طرح قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ وفاقی حکومت کا یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
