مارشل لا سے گورنر راج تک، پاکستان میں اکتوبر تبدیلیوں کا مہینہ کیوں؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکتوبر محض ایک تقویمی مہینہ نہیں بلکہ اقتدار کی تبدیلیوں، آئینی بحرانوں، سیاسی تحریکوں، عسکری مداخلتوں اور اہم قومی واقعات کی ایک طویل داستان کا حصہ رہا ہے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر پہلے مارشل لا کے نفاذ، دستور ساز اسمبلی کی تحلیل، جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے اور مختلف سیاسی تحریکوں کے بڑے اجتماعات تک، اس مہینے میں ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اب 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اعلان نے ایک بار پھر اکتوبر کی تاریخی اہمیت کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
تاہم کیا اکتوبر واقعی پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کا کوئی مخصوص مہینہ ہے، یا تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات کا ایک اتفاقی تسلسل ہے؟ مورخین کے مطابق، ان واقعات کو کسی طے شدہ تاریخی یا سیاسی ترتیب کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ان کے پس منظر، حالات اور اسباب کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
پشاور یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر فخر الاسلام کے مطابق، اکتوبر میں سیاسی سرگرمیوں اور اہم واقعات کا بار بار سامنے آنا محض اتفاق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں بعض اوقات کسی ایک مہینے میں کئی بڑے واقعات جمع ہو جاتے ہیں، جس سے ایک تسلسل کا تاثر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ سیاسی تبدیلیوں کے لیے کسی مخصوص مہینے کی کوئی آئینی یا طے شدہ تخصیص نہیں۔
پاکستان کے قیام کے ابتدائی دنوں ہی سے اکتوبر اہم واقعات کا گواہ رہا ہے۔ 1947 میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ اسی سال 11 اکتوبر کو ریاست خیرپور نے پاکستان سے الحاق کیا، جبکہ 17 اکتوبر کو ریاست بہاولپور پاکستان میں شامل ہوئی۔ 24 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر کی حکومت کے قیام کا اعلان بھی اسی تاریخی دور کا اہم واقعہ تھا۔ ان واقعات نے نومولود ریاست کی سیاسی اور جغرافیائی صورت گری میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں ایک عوامی جلسے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ملک کی ابتدائی سیاسی تاریخ کے سنگین ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے قتل نے قومی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا اور اس واقعے کے محرکات اور پس منظر سے متعلق کئی سوالات طویل عرصے تک زیرِ بحث رہے۔
اس کے بعد بھی اکتوبر میں ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ریاستی اداروں اور جمہوری نظام کے تعلقات پر اثر ڈالا۔ 24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ پنجاب یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نعمانہ کرن عمران کے مطابق، اس فیصلے کے پس منظر میں اختیارات کی کشمکش موجود تھی۔ ان کے بیان کے مطابق، دستور ساز اسمبلی نے ایسا قانون منظور کیا تھا جس سے گورنر جنرل کے اختیارات محدود ہونے کا امکان تھا، جس کے جواب میں اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔
یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستان میں آئینی بالادستی، پارلیمان کے اختیار اور ریاستی سربراہ کے کردار سے متعلق ایک بنیادی بحث کو جنم دیا۔ اس واقعے کے بعد جمہوری اداروں کے استحکام اور آئینی نظام کی سمت کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مستقل حصہ بن گئے۔
7 اکتوبر 1958 پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین تاریخوں میں سے ایک ہے۔ اسی روز صدر اسکندر مرزا نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ اس اقدام نے ملک کے سیاسی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی اور فوج کے براہِ راست سیاسی کردار کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
ڈاکٹر نعمانہ کرن عمران کے مطابق، ہر سیاسی واقعے کے پیچھے مخصوص حالات اور وجوہات ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر فخر الاسلام بھی اس دور کو محض مارشل لا کے اعلان تک محدود نہیں کرتے بلکہ اس سے پہلے قائم ہونے والے حکومتی ڈھانچے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، جس میں سول اور فوجی بیوروکریسی کے کردار میں اضافہ ہوا تھا۔
اس دور کی کابینہ میں حاضر سروس فوجی افسران اور بیوروکریٹس کی شمولیت اس بات کی علامت تھی کہ ریاستی نظم و نسق میں روایتی سیاسی قیادت کے ساتھ انتظامی اور عسکری اداروں کا اثر بڑھ رہا تھا۔ ڈاکٹر فخر الاسلام کے مطابق، اس تبدیلی نے سول اور ملٹری بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا۔
سکندر مرزا کا خیال تھا کہ جنرل ایوب خان ان کے زیرِ سایہ کام کریں گے، لیکن حالات نے جلد ہی مختلف رخ اختیار کر لیا۔ مارشل لا کے نفاذ کے تقریباً 20 دن بعد اسکندر مرزا کو اقتدار سے الگ کر کے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے جلاوطنی میں زندگی گزاری اور 1969 میں لندن میں وفات پائی۔ انہیں ایران میں دفن کیا گیا۔ یوں اکتوبر 1958 کے واقعات نے صرف حکومت کی نوعیت ہی نہیں بدلی بلکہ اقتدار کے اصل مرکز کے بارے میں بھی ایک اہم حقیقت واضح کر دی۔
اکتوبر کے واقعات کا تعلق صرف حکومتوں کی تبدیلی یا مارشل لا سے نہیں رہا۔ 31 اکتوبر 1984 کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پاکستان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ علاقائی سیاست اور پاکستان و بھارت کے تعلقات کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا تھا۔
7 اکتوبر 1998 کو آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو نیا آرمی چیف مقرر کیا۔ اس تقرری کے تقریباً ایک سال بعد 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس طرح اکتوبر 1998 میں فوجی قیادت کی تبدیلی اور اکتوبر 1999 میں اقتدار کی تبدیلی دو ایسے واقعات ثابت ہوئے جنہوں نے ملک کے سیاسی نظام پر طویل المدتی اثرات مرتب کیے۔
نواز شریف کی سیاسی زندگی میں بھی اکتوبر کی ایک اہم تاریخ 21 اکتوبر ہے، جب وہ کئی برس کی جلاوطنی کے بعد 2023 میں پاکستان واپس آئے۔ ان واقعات سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر مختلف سیاسی ادوار میں اہم تبدیلیوں کے ساتھ جڑا رہا ہے، لیکن ان سب کو کسی ایک مشترکہ منصوبے یا طے شدہ ترتیب کا نتیجہ قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے۔
اکتوبر کی سیاسی تاریخ میں عوامی تحریکوں اور بڑے جلسوں کا ذکر بھی نمایاں ہے۔ 20 اکتوبر 2011 کو لاہور کے مینار پاکستان پر عمران خان کے بڑے جلسے نے پاکستان تحریک انصاف کو قومی سیاست میں نمایاں جگہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس جلسے کو پارٹی کی سیاسی پیش رفت کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح 30 اکتوبر 2019 کو مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ نے ملک میں حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں کیا۔ ایسے اجتماعات نے سیاسی جماعتوں کی عوامی حمایت، احتجاجی سیاست اور حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے طریقوں کو قومی بحث کا حصہ بنایا۔
ان واقعات کے درمیان کئی برس کا فاصلہ ہے اور ان کے سیاسی مقاصد بھی مختلف تھے، تاہم اکتوبر میں ہونے کی وجہ سے یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے حوالے سے اکثر زیرِ بحث آتے ہیں۔
ڈاکٹر فخر الاسلام اکتوبر کے واقعات کو سمجھانے کے لیے دسمبر کی مثال بھی دیتے ہیں، جسے پاکستان میں بعض بڑے قومی سانحات کی وجہ سے ستمگر دسمبر کہا جاتا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ اور 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے قومی شعور اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ان کے مطابق، جب کسی مہینے میں کئی بڑے واقعات پیش آ جائیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کے درمیان ایک علامتی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس تعلق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی مہینہ بذاتِ خود سیاسی تبدیلیوں یا قومی بحرانوں کا سبب بنتا ہے۔ سیاسی فیصلوں کے پیچھے حالات، اداروں کے تعلقات، قیادت کے انتخاب، آئینی تنازعات اور دیگر عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
اب اکتوبر 2026 میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان ایک نئے سیاسی تنازعے کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک لانگ مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق خدشات کو اپنے اقدام کی بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
اس پیش رفت کی آئینی حیثیت، صوبائی حکومت کے اختیارات پر اس کے اثرات اور پارلیمان کی منظوری کا معاملہ آنے والے دنوں میں اہم رہے گا۔ اس مرحلے پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سابقہ واقعات کے ساتھ تقابل کے لیے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن 1958 کے مارشل لا اور 2026 کے آئینی اقدام کو ایک جیسی نوعیت کے واقعات سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ دونوں کے قانونی طریقۂ کار، ریاستی اختیارات اور آئینی پس منظر میں بنیادی فرق موجود ہے۔پاکستان کی تاریخ میں اکتوبر بار بار اہم واقعات کے ساتھ جڑا دکھائی دیتا ہے، مگر تاریخ دانوں کی رائے میں اس مہینے کو سیاسی تبدیلیوں کا لازمی سبب قرار دینے کے بجائے ہر واقعے کے حقیقی پس منظر کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ اکتوبر کی اہمیت ان واقعات سے پیدا ہوتی ہے جو اس میں رونما ہوئے، نہ کہ کسی ایسی پوشیدہ تاریخی ترتیب سے جس کے تحت ہر سال اس مہینے میں سیاسی بحران پیدا ہونا لازم ہو۔
