عطا تارڑ کا خیبرپختونخوا میں پولیس تھانوں پر دہشتگردوں کے اثرورسوخ کا الزام
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی اور دہشتگردوں کے مبینہ گٹھ جوڑ پر سوالات اٹھا دیے، ایڈوائزری کونسل میں شامل ماہرین اور نامزد مشیروں کے نام بھی بتا دیے

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی سنگین صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ صوبے میں بعض تھانے دہشتگردوں کے حوالے ہیں؟
وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ دہشتگردوں کے ساتھ شراکت داری کرکے بعض اضلاع کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکار کہتے ہیں کہ انہیں اس صورتحال سے نجات دلائی جائے، کیونکہ وہ دہشتگردوں کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کا بنیادی فرض عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور پولیس کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے، لیکن ان کے بقول صوبے کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں اور یہ عناصر پورے صوبے کو دہشتگردی کی لپیٹ میں لے جا رہے تھے۔
عطاء اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کے حوالے سے بتایا کہ اس میں قابل اور تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کفایت اللہ خان، طارق محمود پاشا، عامر جاوید اور ڈاکٹر عامر عبداللہ مشیروں میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر سرفرار علی شاہ، ڈاکٹر محمد ارشاد، آصف رفیق آفریدی، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور ثمر ہارون بلور بھی ایڈوائزری کونسل کے مشیروں میں شامل ہیں۔
