گورنر راج،PTIکیلئے اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھنا ناممکن کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان کی سیاست کو ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے امن و امان کی خراب صورت حال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبے میں غیر معمولی اقدامات کیے ہیں، لیکن اس فیصلے نے وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کے امکانات بھی بڑھا دیے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت صوبے میں امن بحال کرکے ریاستی رٹ قائم کر پائے گی اور کیا تحریک انصاف اپنی احتجاجی سیاست جاری رکھتے ہوئے سیاسی دباؤ برقرار رکھ سکے گی؟ مذاکرات کی ناکامی، مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کے بے نتیجہ رہنے اور سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والے دن خیبر پختونخوا ہی نہیں، ملکی سیاست کے مستقبل کے لیے بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ 13 اکتوبر کو تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان اس صورت حال کا اگلا اہم مرحلہ ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر انتظامی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چیف سیکریٹری سمیت اہم انتظامی عہدوں پر ردوبدل کے ذریعے صوبے کے انتظامی معاملات پر گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی اصل کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ آیا حکومت دہشت گردی پر قابو پانے، امن و امان بحال کرنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

ایمرجنسی کے نفاذ کی ایک بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہ کرنا بتائی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔ یوں ایک انتظامی اور سکیورٹی اقدام اب آئینی اور سیاسی تنازعے کی صورت اختیار کر گیا ہے، جس کے اثرات وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس فیصلے سے قبل سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان عملی تعاون پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی جانے والی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ مذاکراتی راستہ مؤثر ثابت نہ ہونے کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ وفاقی حکومت کا ایک بڑا فیصلہ بن کر سامنے آیا، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا سیاسی مکالمے کے امکانات اب بھی باقی ہیں یا فریقین ایک طویل محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے لیے موجودہ صورت حال ایک بڑا سیاسی امتحان ہے۔ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت سے محرومی کے بعد پارٹی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ احتجاجی اور مزاحمتی سیاست جاری رکھتی ہے یا اپنے سیاسی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ صوبے میں احتجاج کو مؤثر بنانا، کارکنوں کو متحرک رکھنا اور عوامی حمایت برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب انتظامی اختیارات وفاق کے زیر اثر آ چکے ہیں۔

سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے تناظر میں بھی تحریک انصاف کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پارٹی کے لیے ایک طرف بانی پی ٹی آئی کے مؤقف اور سیاسی مطالبات کی حمایت برقرار رکھنا اہم ہے، تو دوسری جانب اسے صوبے کے انتظامی اور عوامی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اگر سیاسی سرگرمیاں صرف احتجاج تک محدود رہیں اور امن و امان، روزگار اور عوامی سہولتوں جیسے مسائل پس منظر میں چلے گئے تو پارٹی کو اپنے سیاسی بیانیے کے حوالے سے نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال تحریک انصاف کی سرگرمیاں زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں اسی سطح کا نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں 13 اکتوبر کو اعلان کیے جانے والے لائحہ عمل کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ پارٹی اپنی جدوجہد کو صوبے تک محدود رکھتی ہے، اسے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے لیے کوئی نیا راستہ اختیار کرتی ہے۔

دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کے اندر سخت گیر مؤقف رکھنے والے عناصر اور مذاکرات کے حامی حلقوں کے درمیان حکمت عملی کا فرق بھی اہم ہو سکتا ہے۔ سیاسی تحریکوں کی کامیابی صرف احتجاج کی شدت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ قیادت کی حکمت عملی، تنظیمی صلاحیت، عوامی حمایت اور سیاسی حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے موجودہ حالات میں ان تمام پہلوؤں کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔

اس صورت حال کے اثرات صرف خیبر پختونخوا تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے سیاسی انتشار اور عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ بلوچستان سمیت دوسرے صوبوں میں بھی اس کے سیاسی اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اگر غیر معمولی اختیارات کے استعمال کو سیاسی تنازعے کے طور پر دیکھا گیا تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر حکومت امن و امان بہتر بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے اپنے فیصلے کے حق میں دلیل فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

یہاں تحریک انصاف کی سیاسی مقبولیت کا سوال بھی اہم ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور عدم تحفظ کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر گورنر راج کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں کمی آتی ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور شہریوں کو تحفظ ملتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات تحریک انصاف کی مقبولیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم اگر امن قائم نہ ہو سکا یا انتظامی اقدامات کے نتیجے میں عوامی مشکلات بڑھیں تو وفاقی حکومت کو بھی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا مگر خطرات سے بھرپور فیصلہ ہے۔ انتظامی کنٹرول حاصل کرنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اس کنٹرول کو مؤثر حکمرانی، امن و امان کی بحالی اور سیاسی استحکام میں تبدیل کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ اس مقصد کے لیے انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانا، مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا اور سیاسی اختلافات کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنا ضروری ہوگا۔

بالآخر آنے والے چند روز خیبر پختونخوا کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی کامیابی کا انحصار امن و امان کی بہتری اور آئینی حدود کی پاسداری پر ہوگا، جبکہ تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی حمایت کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔ 13 اکتوبر کا اعلان اس سلسلے میں اہم اشارے فراہم کرے گا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اس سیاسی کشمکش کا پائیدار حل صرف انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، سیاسی مکالمے اور آئینی اصولوں کے احترام سے ہی ممکن ہوگا۔

Back to top button