پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کا موقع کیسے گنوایا؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ محض صوبائی اقتدار سے محرومی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی موقع کے ضائع ہونے کی علامت بھی بن گیا ہے جس کے ذریعے پارٹی اپنے بانی عمران خان کے لیے ممکنہ ریلیف حاصل کر سکتی تھی۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، ان کی بہنوں کی رہائی، ملاقاتوں کا معمول بحال کرنے اور طبی ماہرین کی سفارش پر انہیں اسپتال منتقل کرنے جیسے معاملات پر پیش رفت کی گنجائش موجود تھی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پانے کے باعث یہ امکانات عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، مذاکرات کی ناکامی نے پی ٹی آئی کے سامنے موجود دو اہم اہداف کو متاثر کیا: ایک جانب عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق معاملات میں رعایتیں حاصل کرنے کا امکان ختم ہوا، جبکہ دوسری جانب پارٹی اپنی صوبائی حکومت برقرار رکھنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ وفاقی حکومت سے محاذ آرائی کم کرنے اور سیاسی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے قابو میں لانے کا راستہ موجود تھا، لیکن فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے محمود اچکزئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مارچ ختم کرنے کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے پہلے عمران خان سے ملاقات پر اصرار مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا۔ عمران خان تک رسائی پی ٹی آئی کے مطالبات کا بنیادی حصہ تھی، تاہم ملاقات کو پیشگی شرط بنانے کے باعث فوری سمجھوتے کی کوششیں پیچیدہ ہو گئیں۔

اسی طرح سہیل آفریدی کے سخت مؤقف اور وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی نے بھی کشیدگی میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ان کے بیانات، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی سے متعلق اختلافات، کو مذاکراتی عمل کے لیے ایک مشکل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان نکات کو رپورٹ میں بیان کردہ ذرائع اور تجزیے کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے؛ مذاکرات کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری کسی ایک شخصیت پر عائد کرنے کے لیے تمام فریقین کا مؤقف اور مذاکرات کی تفصیلات سامنے ہونا اہم ہے۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازع کا اہم نکتہ رہا۔ رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے صوبائی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔ دوسری جانب سہیل آفریدی وفاقی حکومت کے مؤقف سے اختلاف کرتے رہے اور ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہے جنہیں ان کے نزدیک صوبائی خودمختاری میں مداخلت سمجھا جا سکتا تھا۔

یہ اختلاف محض انتظامی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس میں قومی سلامتی، صوبائی اختیارات اور سیاسی اعتماد کے سوالات بھی شامل تھے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ امن و امان سے متعلق اختلافات اور سیاسی مطالبات کو کسی قابلِ قبول طریقۂ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا۔ تاہم، فریقین کے درمیان اختلافات ختم نہ ہونے سے مذاکرات کے ذریعے بحران پر قابو پانے کا امکان کمزور پڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق، اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق بعض معاملات میں پیش رفت حاصل کر سکتی تھی۔ ان معاملات میں عمران خان سے ملاقات، ان کی بہنوں کی رہائی، ملاقاتوں کے معمول کی بحالی اور طبی بنیادوں پر اسپتال میں داخلے کا امکان شامل تھا۔ تاہم رپورٹ ان معاملات کو زیرِ بحث امکانات اور یقین دہانیوں کے طور پر بیان کرتی ہے، نہ کہ کسی طے شدہ یا حتمی معاہدے کے طور پر۔یہ فرق اہم ہے، کیونکہ مذاکرات میں کسی معاملے پر بات ہونا اور اس پر باضابطہ اتفاق یا عمل درآمد ہونا دو الگ مراحل ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ پی ٹی آئی ممکنہ رعایتوں کے حصول کا ایک موقع کھو بیٹھی، لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ معاہدہ ہو جانے کی صورت میں تمام مطالبات لازماً منظور ہو جاتے۔

وفاقی سطح پر اقتدار سے محرومی کے بعد خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم سیاسی اور تنظیمی مرکز رہا ہے۔ صوبائی حکومت پارٹی کو انتظامی موجودگی، سیاسی سرگرمیوں اور تنظیمی رابطوں کے لیے ایک نمایاں پلیٹ فارم فراہم کرتی تھی۔ گورنر راج کے نفاذ سے اس حیثیت کو دھچکا پہنچا ہے اور پارٹی کے لیے اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر نظرثانی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔یہ صورتِ حال پی ٹی آئی کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کی سیاست کا ایک بڑا حصہ عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقاتوں اور ان کے لیے قانونی و طبی سہولتوں کے مطالبات کے گرد گھومتا رہا ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے ان معاملات پر کوئی پیش رفت ہوتی اور صوبائی حکومت بھی برقرار رہتی تو پارٹی کو بیک وقت دو محاذوں پر فائدہ پہنچنے کا امکان تھا۔ لیکن معاہدہ طے نہ ہونے کے باعث نہ صوبائی اقتدار محفوظ رہ سکا اور نہ زیرِ بحث رعایتیں حاصل ہوئیں۔

موجودہ صورتِ حال نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی حکمتِ عملی، مطالبات کی ترتیب اور سیاسی لچک کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ کیا پارٹی کو عمران خان سے ملاقات جیسے اہم مطالبے پر اصرار کے بجائے پہلے کسی عبوری سمجھوتے کی کوشش کرنی چاہیے تھی؟ کیا مارچ ختم کرنے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے شرائط میں کچھ گنجائش پیدا کی جا سکتی تھی؟ اور کیا وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے سے صوبائی حکومت کو بچانے کا کوئی راستہ نکل سکتا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر پارٹی کے اندر اور سیاسی حلقوں میں بحث ہو سکتی ہے۔تاہم ان سوالات کے قطعی جواب کے لیے مذاکرات کی مکمل تفصیلات، فریقین کی پیش کردہ شرائط اور ان یقین دہانیوں کی نوعیت جاننا ضروری ہے جن کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کی بنیاد پر اتنا کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچے اور اس ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کو صوبائی اقتدار کے حوالے سے ایک بڑا سیاسی دھچکا پہنچا۔

مجموعی طور پر، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے پی ٹی آئی کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق معاملات پر ممکنہ پیش رفت کا راستہ بھی کھلا نہ رہ سکا اور صوبائی حکومت برقرار رکھنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ اب پارٹی کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی، مذاکراتی ترجیحات اور وفاق کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کا تعین کیسے کرتی ہے۔ موجودہ بحران کا آئندہ رخ اسی بات پر منحصر ہوگا کہ سیاسی محاذ آرائی جاری رہتی ہے یا فریقین کسی نئے مذاکراتی راستے پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Back to top button