آزادی صحافت یا بے لگامی؟

تحریر:انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
آزادی صحافت کے حوالے سے ہمارے ہاں بحث کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف فورمز پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ حکومتیں صحافت کو کس طرح محدود کرتی ہیں، سیاسی جماعتیں میڈیا کو اپنے مقاصد کیلئے کیسے استعمال کرتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کس طرح صحافیوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ان تمام سوالات کی اپنی اہمیت ہے اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزادیٔ صحافت کا تحفظ بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن اس بحث کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر ہم صحافی عموماً بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ کیا ہم خود اپنی صحافت کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اسے مکمل آزادی دی جائے؟
کیا ہم اپنے پیشے کے ان تقاضوں اور اخلاقی اصولوں پر پورا اترتے ہیں جن کی بنیاد پر آزادیٔ صحافت کا مطالبہ کیا جاتا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آزادیٔ صحافت صرف حکومتوں، سیاسی جماعتوں یا ریاستی اداروں کے دباؤ سے آزادی کا نام نہیں۔ یہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ایسی ذمہ داری جس کا تقاضا ہے کہ صحافی حقائق بیان کرے، خبر اور رائے میں فرق رکھے، الزامات کی تصدیق کرے اور کسی بھی شخص کی عزت و آبرو کو بلاجواز نقصان نہ پہنچائے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحافت کا ایک بڑا حصہ ان بنیادی اصولوں سے دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بعض افراد دوسروں پر سنگین الزامات لگاتے ہیں، لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں اور ایسے دعوے کرتے ہیں جن کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔ کسی کی کردار کشی کو خبر بنا دیا جاتا ہے، کسی کی نجی زندگی کو تماشا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر اسے صحافت کا نام دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کیسی صحافت ہے جس میں الزام لگانے والے کو تو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن جس شخص پر الزام لگایا جاتا ہے، اسے اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع بھی نہیں دیا جاتا؟
کیا کسی کے خلاف محض یہ کہہ دینا کافی ہے کہ میرے ذرائع نے بتایا ہے؟ کیا کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ کہہ کر معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو آزادی صحافت ہے؟ سوشل میڈیا نے تو بدتہذیبی، بدتمیزی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی انتہا کر رکھی ہے۔ اب یہ تصور عام کیا جا رہا ہے کہ جس شخص کے پاس موبائل فون ہے، وہ صحافی ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق خبر بناتا ہے، کسی پرالزام لگاتا ہے، ویڈیو ریکارڈ کرتا ہے اور اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ صحافت کے نام پر سنسنی، اشتعال انگیزی اور بے ہودگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے اہم چیز سچائی نہیں بلکہ توجہ حاصل کرنا بن چکی ہے۔ جتنا بڑا الزام ہوگا، جتنی زیادہ سنسنی ہوگی، اتنے ہی زیادہ لوگ اسے دیکھیں گے۔ کسی کی تضحیک کی جائے، کسی کو ذلیل کیا جائے یا کسی کی نجی زندگی کو اچھالا جائے تو اس کے دیکھنے والوں کی تعداداتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ پھر اسی تعداد کو اپنی کامیابی کا معیار قرار دے کر کہا جاتا ہے کہ لوگ ہمیں دیکھتے ہیں۔
ہماری ویڈیوز کو لائک کرتے ہیں اور ہمارے فالوورز تو لاکھوں میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کا کسی چیز کو دیکھنا اس کے درست ہونے کی دلیل ہے؟ کیا لائکس اور فالوورز کسی صحافی کی ساکھ اور پیشہ ورانہ قابلیت کا معیار بن سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی ہر غیر سنجیدہ اور بے ہودہ چیز کو صحافت کا درجہ دینا پڑتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے صحافت کو ایک ذمہ دارپیشے کے بجائے ڈالر کمانے اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خبر دینے سے زیادہ اہم کسی کو بے عزت کرنا، کسی کے منہ میں مائیک ٹھونسنا اور اسے ایسی صورتحال میں ڈالنا ہے جہاں وہ غصے میں آ جائے یا کوئی غیر محتاط بات کہہ دے۔ پھر اسی لمحے کو بار بار دکھا کر اپنی ریٹنگ اور مقبولیت بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صحافت کا مقصد کسی کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا ہے۔ کسی سے سوال کرنا صحافی کا حق ہے، لیکن سوال کرنے اور کسی کی تضحیک کرنے میں واضح فرق ہے۔ سخت سوال ضرور پوچھیں لیکن کسی شخص کی عزتِ نفس کو پامال کرنا صحافت نہیں۔ عوامی عہدے پر فائز افراد سے جواب طلبی ضروری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے خلاف جو منہ میں آئے کہنے کا کسی کو لائسنس مل گیا ہے یا اُن کی نجی زندگی کو بلاوجہ موضوع بنایا جائے یا ان کے خلاف غیر مصدقہ الزامات کو خبر بنا دیا جائے۔
یہاں ہمیں اپنے صحافتی اخلاقیات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صحافی اور ہر موبائل اُٹھا کر صحافت کرنیوالے کے درمیان واضح تفریق ضروری ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم خبر شائع یا نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرتے ہیں؟ کیا ہم الزام لگانے والے اور الزام کا سامنا کرنیوالے، دونوں کا مؤقف لیتے ہیں؟ کیا ہم غلط خبر کی اصلاح کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطی پر معذرت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے الفاظ اور رویے کے ذریعے کسی کی زندگی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ممکنہ نتائج کو سمجھتے ہیں؟ اگر ہم ان سوالات کے جواب دیانت داری سے تلاش کریں تو شاید ہمیں احساس ہو کہ آزادیٔ صحافت کی بحث میں ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔
حکومتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے صحافت پر پابندیوں، دباؤ اور سنسرشپ کی مخالفت ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ صحافیوں کو بھی اپنے پیشے کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔ آزادیٔ صحافت کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب صحافت خود اپنی ساکھ اور اعتبار کو برقرار رکھے۔ آزادیٔ صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی کو کسی بھی شخص پر کوئی بھی الزام لگانے، کسی کی عزت اچھالنے یا معاشرے میں بے ہودگی پھیلانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ آزادی کا اصل حسن ذمہ داری میں ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہیں گے تو آزادیٔ صحافت کا مطالبہ محض ایک نعرہ بن کر رہ جائیگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت کی آزادی کا تحفظ صرف دوسروں کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں ہوگا، بلکہ اپنے پیشے کو اخلاقی اصولوں کے مطابق چلانے سے ہوگا، ہمیںخود کو درست کرنا ہو گا۔ کیونکہ جب صحافت اپنی ذمہ داری کھو دیتی ہے تو اسکی آزادی بھی عوام کیلئے ایک نعمت کے بجائے مسئلہ بن سکتی ہے۔
