ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی راہ میں بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی وعدوں، حکومتی ترجیحات اور آئینی اصلاحات کے درمیان الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں انتخابی عمل آگے بڑھانے کے اقدامات کے باوجود پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالات برقرار ہیں۔ سیاسی و انتخابی امور کے ماہرین کے مطابق اصل رکاوٹ صرف انتخابی شیڈول یا انتظامی تیاریوں کی کمی نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے متعلق سیاسی تحفظات بھی ہیں۔ ایسے میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مضبوط، بااختیار اور آئینی تحفظ رکھنے والے بلدیاتی نظام کی تشکیل کی تجاویز زیرِبحث ہیں۔ تاہم، بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترمیم واقعی بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار کرے گی یا انتخابی عمل مزید آئینی اور سیاسی فیصلوں کے انتظار میں رہے گا؟
تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق الیکشن کمیشن ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد میں انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی انتخابی عمل سے متعلق اقدامات کیے گئے ہیں۔ جن علاقوں میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں وہاں انتخابات کرانے، جبکہ دیگر علاقوں میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اب توجہ پنجاب پر مرکوز ہے، جہاں بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں اور انتخابی مراحل کے تعین پر پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔پنجاب حکومت نے پہلے 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان انتخابات کے لیے وقت تجویز کیا تھا، تاہم مختلف محکموں نے سموگ کے باعث اس عرصے میں انتخابی سرگرمیوں کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے التوا کی درخواست کی۔ فراہم کردہ تجزیے کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے 4، 11 اور 17 اپریل کی تاریخیں بھی زیرِتجویز ہیں، جبکہ اس سے پہلے انتخابات کرانے کی صورت میں 30 جنوری کو پہلے مرحلے کے شیڈول کے اعلان کی تجویز زیرِغور بتائی گئی۔ ان تجاویز پر الیکشن کمیشن کا حتمی فیصلہ ہی واضح کرے گا کہ پنجاب میں انتخابی عمل کس سمت آگے بڑھے گا۔
انتخابی امور کے ماہرین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن اس ذمہ داری کی تکمیل کے لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ بظاہر سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی حمایت کرتی ہیں، تاہم عملی اقدامات میں تاخیر کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔پنجاب میں 2015 کے بعد سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کا معاملہ مقامی جمہوری نظام کے تسلسل پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی انتخابی عمل متعدد مرتبہ التوا کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں انتظامی اور سیاسی صورتِ حال نے انتخابی پیش رفت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں انتخابی شیڈول کا اعلان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل امتحان اس پر بروقت عمل درآمد ہوگا۔ ماہرین کے بقول خیبرپختونخوا کی حکومتی اور انتظامی صورتِ حال کو بھی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، کسی بھی انتخابی عمل کے مستقبل کا حتمی تعین متعلقہ قانونی احکامات، انتظامی فیصلوں اور الیکشن کمیشن کے اقدامات کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سب سے اہم بحث مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے گرد گھوم رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے جہاں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تجاویز زیرِبحث ہیں، وہیں ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کو بھی اصلاحاتی عمل کا حصہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں ایک تجویز یہ سامنے آ رہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور چاروں صوبوں میں انہیں ایک ہی وقت میں منعقد کرانے کا نظام وضع کیا جائے۔ اگر ایسی تجاویز باضابطہ طور پر پیش کی جاتی ہیں اور آئینی و قانونی منظوری حاصل کر لیتی ہیں تو اس سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومتوں کی صوابدید محدود کرنے اور انتخابی عمل میں تسلسل پیدا کرنے کی راہ نکل سکتی ہے۔تاہم، یہ واضح رہنا چاہیے کہ مجوزہ آئینی ترمیم ابھی زیرِبحث تجاویز کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی حتمی دفعات، منظوری اور نفاذ کے بارے میں کسی قطعی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ صرف ترمیم کی منظوری سے تمام انتخابی رکاوٹیں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ایک اہم وجہ اختیارات کی تقسیم کا سوال بھی ہے۔ بااختیار بلدیاتی ادارے قائم ہونے کی صورت میں ترقیاتی منصوبوں، مقامی وسائل اور شہری مسائل کے حل سے متعلق اختیارات کا بڑا حصہ نچلی سطح پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے عوام کو اپنے علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں تک براہِ راست رسائی ملنے کا امکان بڑھتا ہے۔
دوسری جانب، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے بعض ارکان کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ مضبوط بلدیاتی ادارے ان کے سیاسی اثرورسوخ اور مقامی ترقیاتی معاملات میں کردار کو محدود کر دیں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہی مفادات کا ٹکراؤ بلدیاتی نظام کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تاہم، اس معاملے کا مستقل حل صرف انتخابات کرانے تک محدود نہیں بلکہ اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم بھی ضروری ہے۔ایک مؤثر بلدیاتی نظام کے لیے لازم ہے کہ منتخب نمائندوں کو اپنے دائرۂ اختیار میں فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہو، مقامی حکومتوں کو مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں اور ان کی کارکردگی کے احتساب کا شفاف نظام موجود ہو۔ بصورتِ دیگر، انتخابات کے بعد بھی بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے تابع محدود اختیارات کے ساتھ کام کرنے پر مجبور رہ سکتے ہیں۔
ملک میں بلدیاتی انتخابات کے مستقبل کا انحصار صرف 28ویں آئینی ترمیم پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاقِ رائے، قانونی وضاحت اور حکومتی عمل درآمد پر بھی ہوگا۔ اگر مجوزہ ترمیم میں بلدیاتی انتخابات کے لیے واضح آئینی ضمانتیں، مقررہ مدت، اختیارات کی تقسیم اور مالی خودمختاری کا مؤثر طریقۂ کار شامل کیا جاتا ہے تو مقامی جمہوریت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔اس کے برعکس، اگر اصلاحات محض تجاویز اور سیاسی اعلانات تک محدود رہیں تو بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بدستور التوا، قانونی پیچیدگیوں اور حکومتی ترجیحات کی نذر ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ انتخابی شیڈول کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے تعاون کو یقینی بنانے کے لیے قانونی دائرے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ماہرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات محض مقامی نمائندوں کے انتخاب کا عمل نہیں بلکہ جمہوری نظام کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ 28ویں آئینی ترمیم کے بعد انتخابات ممکن ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت ایسا نظام قائم کرنے پر آمادہ ہوگی جس میں عوام کو اپنے مقامی مسائل کے حل کے لیے حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔ اگر مجوزہ اصلاحات اس مقصد کو پورا کرتی ہیں تو یہ مقامی جمہوریت کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، بصورتِ دیگر آئینی ترمیم کے باوجود بلدیاتی انتخابات کا مستقبل غیر یقینی رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
