کیا واقعی مولانافضل الرحمٰن بھی نیب کے ریڈار پر آ چکے ہیں؟

گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے خیبرپختونخوا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی اور سرکاری فنڈز کے غبن سے متعلق تحقیقات تیز کر دی ہیں، تاہم دوسری جانب نیب حکام نےجمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف تحقیقات میں تیزی آنے کے سوشل میڈیا دعوؤں کو غلط قراردیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کرپشن اور بدعنوانی بارے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس میں کسی بھی شخص کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کرپشن تحقیقات میں تیزی کے دعوؤں کی بنیاد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک جعلی ویڈیو ہے، جسے غلط طور پر روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی سے منسوب کیا جا رہا ہے، حالانکہ انصار عباسی کے مطابق انھوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف نیب کی کسی نئی یا تیز تر کارروائی سے متعلق کوئی بھی بیان نہیں دیا۔ ان کے نام سے جعلی ویڈیوز بنا کرجھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے صورت حال میں کوئی نئی تبدیلی نہیں آئی۔ ذرائع نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے ذریعے جو تاثر دیا جا رہا ہے، وہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں بدعنوانی کے مختلف مقدمات پر نیب کی سرگرمیاں بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال سے متعلق متعدد معاملات زیرِ غور ہیں۔ نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں اپر کوہستان کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اربوں روپے کے فراڈ سے متعلق تحقیقات پر گفتگو کی۔ ان مقدمات میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کے الزامات شامل ہیں، جبکہ تفتیش کار مشتبہ مالی لین دین، غیر قانونی ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپر کوہستان میں سرکاری مالیاتی طریقۂ کار میں مبینہ ردوبدل کے ذریعے 37 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کا معاملہ بھی نیب کی تحقیقات میں شامل ہے۔ بیورو اس سے قبل اس مقدمے میں اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کا سراغ لگانے اور خطیر رقم کی وصولی سے متعلق معلومات بھی فراہم کر چکا ہے۔ تاہم ان مقدمات میں سامنے آنے والے الزامات اور تحقیقات کے نتائج کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی الزام کی موجودگی بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا میں نیب کی کارروائیوں اور سیاسی سرگرمیوں کے درمیان فرق واضح رکھنا اہم ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافے کے ماحول میں جعلی ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوے عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے سیاسی شخصیات کے خلاف تحقیقات سے متعلق خبروں کی تصدیق معتبر ذرائع سے کرنا ضروری ہے۔

Back to top button