سرحدی پابندیاں برقرار،پاک ایران تجارت خطرے میں کیوں؟

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھلنے کے باوجود دوطرفہ تجارت معمول پر نہیں آسکی، جس کے باعث تاجروں کو بھاری مالی نقصان، مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاروں اور ضروری اشیا کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 25 اکتوبر سے تفتان اور گبد۔ریمدان گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہونے کے باوجود فی الحال بڑی حد تک اسی سامان کی نقل و حرکت کی اجازت دی جا رہی ہے جس کی بکنگ 16 اکتوبر سے پہلے ہوئی تھی۔ دوسری جانب ایران سے مائع پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی فراہمی میں تعطل نے پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں قیمتوں میں نمایاں اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق سرحدی بندش کی وجوہات پر دونوں ممالک کے مؤقف مختلف ہیں، جبکہ الیکٹرانک درآمدی فارم سے متعلق پاکستانی حکومتی فیصلے نے بھی تجارتی بحالی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ سرحد کھلنے کے باوجود تجارت محدود کیوں ہے اور اس صورتِ حال کے پاکستان اور ایران کی معیشتوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گبد۔ریمدان اور تفتان۔میرجاوہ سرحدی گزرگاہیں 17 اکتوبر کو عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں، جس سے دونوں جانب مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ 25 اکتوبر کو گزرگاہیں دوبارہ کھول دی گئیں، تاہم تجارت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ تاجروں کے مطابق فی الحال 16 اکتوبر سے پہلے بک ہونے والے سامان کو ہی کلیئرنس دی جا رہی ہے، جبکہ نئی درآمدات بدستور رکاوٹوں کا شکار ہیں۔
تجارتی مشکلات کی ایک بڑی وجہ پاکستانی وزارتِ تجارت کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ کی منسوخی ہے۔ یہ استثنیٰ 3 اکتوبر کو دیا گیا تھا، لیکن 16 اکتوبر کو واپس لے لیا گیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق اس فیصلے کی بحالی تک بعد میں بک ہونے والے سامان کی درآمد ممکن نہیں ہوگی۔ دوسری جانب ایران پر عائد مالیاتی پابندیوں کے باعث بینکاری اور ادائیگیوں کے معاملات بھی پیچیدہ ہیں۔
سرحدی بندش کے اثرات خصوصاً ایل پی جی کی فراہمی پر پڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان روزانہ تقریباً 7 ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کرتا ہے، جس میں 4 ہزار ٹن سے زیادہ گبد۔ریمدان کے راستے آتی ہے۔ کوئٹہ میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 480 روپے سے بڑھ کر 600 روپے تک پہنچنے کی اطلاع ہے، جبکہ 12 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت بھی چند روز میں تقریباً 4,500 روپے سے بڑھ کر 7,000 روپے تک جا پہنچی تھی۔ موسم سرما کی آمد کے باعث سپلائی میں مزید رکاوٹ قیمتوں میں اضافے اور قلت کا خدشہ بڑھا سکتی ہے۔
سرحدی تجارت کی معطلی نے پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو بھی متاثر کیا ہے۔ دونوں خطوں کے درمیان گہرے ثقافتی، لسانی اور خاندانی روابط ہیں، جبکہ سرحد پار تجارت مقامی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ تاجروں کے مطابق گاڑیوں کی محدود کلیئرنس اور نئی بکنگز میں رکاوٹ کے باعث کاروباری نقصان بڑھ رہا ہے۔
پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، لیکن رپورٹ کے مطابق موجودہ تجارتی حجم تقریباً 1 ارب سے 3.1 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ ایران سے پاکستان آنے والی تقریباً 62 فیصد مصنوعات توانائی سے متعلق ہیں، جبکہ پاکستان سے ایران جانے والی تقریباً 70 فیصد برآمدات زرعی اور مویشیوں سے متعلق اشیا پر مشتمل ہیں۔ سرحدی رکاوٹیں اس تجارتی ہدف کے حصول کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
سرحدی بندش کو ایران پر بڑھتے ہوئے عالمی معاشی دباؤ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم اسے کسی منظم زمینی محاصرے کا حصہ قرار دینے کے لیے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی حکام نے بندش کی وجوہات سکیورٹی، اسمگلنگ کی روک تھام اور انتظامی امور کو قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات کا حوالہ دیا۔ ماہرین کے بقول مجموعی طور پر سرحدی گزرگاہوں کا دوبارہ کھلنا تجارت کی مکمل بحالی کے لیے کافی نہیں۔ درآمدی دستاویزات سے متعلق مسائل کے حل، پالیسی میں تسلسل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیا کی بلاتعطل فراہمی کے بغیر تاجروں اور صارفین کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ اگر دونوں ممالک نے ان رکاوٹوں کو دور نہ کیا تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی معیشت بلکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
