مقبولیت کے دعوے بے نقاب،PTIعوام کو سڑکوں پر لانے میں یکسر ناکام کیوں؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف مزاحمت اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر احتجاجی تحریک چلانے میں پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات نے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے، قیادت کی حکمت عملی اور کارکنوں سے رابطوں پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مقبولیت کے دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر احتجاجی قوت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پا رہی؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں کمزور تنظیمی ڈھانچہ، پارلیمانی سیاست پر ضرورت سے زیادہ انحصار، تنظیمی انتخابات کا فقدان اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے منتخب نمائندوں پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب سیاسی جماعتیں مضبوط تنظیمی نیٹ ورک کے بجائے ارکان اسمبلی اور حکومتی عہدوں کے گرد اپنی سرگرمیاں مرکوز کر لیں تو عوامی مقبولیت کو مؤثر احتجاجی تحریک میں تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت کو مستحکم تنظیمی قوت میں تبدیل کرنے کے بجائے پارلیمانی سیاست کو زیادہ اہمیت دی، جس کے نتیجے میں کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں کے درمیان رابطے کمزور ہوئے۔ احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ذمہ داری بھی زیادہ تر ارکان اسمبلی، وزرا اور دیگر منتخب نمائندوں پر مرکوز رہی۔ ماہرین کے خیال میں اگر پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ فعال اور مضبوط ہوتا تو گورنر راج کے خلاف خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بیک وقت بڑے مظاہروں کا انعقاد ممکن ہو سکتا تھا۔

پارٹی کے اندر تنظیمی انتخابات کا تسلسل نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ طویل عرصے سے تنظیمی عہدوں پر باقاعدہ انتخاب کے بجائے نامزدگیوں کا طریقہ رائج رہنے کے باعث قیادت کے انتخابی مینڈیٹ اور کارکنوں سے براہ راست رابطے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت متعدد عہدیداروں کی نامزدگیوں کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو قیادت کے انتخاب میں براہ راست شریک نہ کرنے سے تنظیمی عہدوں کی اہمیت اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی صورت حال میں وزیراعلیٰ، وزرا اور ارکان اسمبلی بعض مواقع پر پارٹی کے مرکزی اور صوبائی تنظیمی عہدیداروں سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں بھی تنظیمی قیادت کا کردار نسبتاً محدود رہا ہے، جبکہ کارکنوں کی شرکت یقینی بنانے کی ذمہ داری زیادہ تر منتخب نمائندوں کو سونپی جاتی ہے۔ اس طرز سیاست میں احتجاجی تحریک کی کامیابی کا انحصار تنظیمی تیاری کے بجائے نمائندوں کی دستیابی، اثر و رسوخ اور وسائل پر بڑھ جاتا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تنظیمی سیاست پر پارلیمانی سیاست کو ترجیح دینے کا رجحان صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرز عمل سے سیاسی سرگرمیاں منتخب نمائندوں اور حکومتی عہدوں کے گرد سمٹ جاتی ہیں، جبکہ کارکنوں اور مقامی تنظیموں کا کردار محدود ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج اپنی مقبولیت کو مؤثر اور مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی، کارکنوں سے مسلسل رابطے، باقاعدہ اندرونی انتخابات اور احتجاجی مہمات کو صرف ارکان اسمبلی کے وسائل پر منحصر رکھنے کے بجائے مقامی سطح پر فعال نیٹ ورک کی تشکیل ضروری ہے۔ موجودہ صورت حال نے یہ سوال مزید نمایاں کر دیا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا کر ایک ایسی احتجاجی تحریک چلانے کی صلاحیت پیدا کر سکے گی جو محض سیاسی مقبولیت کے دعوؤں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر بھی بڑے پیمانے پر عوام کو متحرک کر سکے؟

Back to top button