افغان طالبان کی پاکستان مخالف خفیہ سازش کیسے بے نقاب ہوئی؟

افغان طالبان رجیم کے محکمہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی جعلی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی خفیہ سازش بے نقاب ہو گئی ہے،ذرائع کے مطابق افغانستان میں زیرِحراست افغان شہریوں پر مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر ایسی ویڈیوز ریکارڈ کرائی جا رہی ہیں جن میں انہیں داعش خراسان یا طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں سے وابستہ ظاہر کرنے اور پاکستان میں تربیت حاصل کرنے کے اعترافات دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر پھیلانے اور روس، تاجکستان، ازبکستان اور ایران سمیت علاقائی ممالک کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاکہ پاکستان کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیے جا سکیں اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ منصوبے کے تحت زیرِحراست افراد سے ایسے بیانات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ انہیں پاکستان میں قائم خفیہ مراکز میں جنگی تربیت دی گئی اور وہ طالبان رجیم کے خلاف کارروائیوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ اس نوعیت کی ویڈیوز کو علاقائی سطح پر پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے اور سفارتی تعلقات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے سینئر حکام کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو اور بین الاقوامی بریفنگز میں ان مبینہ اعترافات کا حوالہ دیں۔ اس حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ویڈیوز کے ذریعے مخصوص الزامات کو بار بار دہرا کر انہیں عوامی اور سفارتی حلقوں میں قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جائے۔ سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کی وسیع پیمانے پر تشہیر سے ان کا دائرہ اثر افغانستان تک محدود رکھنے کے بجائے خطے کے دوسرے ممالک تک پھیلایا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس مبینہ مہم کا تعلق خطے میں داعش خراسان کے بڑھتے ہوئے خطرات اور افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے متعلق عالمی خدشات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ روس سمیت متعدد علاقائی ممالک کے لیے داعش خراسان کی سرگرمیاں سلامتی کا اہم مسئلہ ہیں۔ ایسے ماحول میں دہشت گردی کے مراکز اور نیٹ ورکس کے بارے میں متضاد دعوے نہ صرف علاقائی سلامتی کے معاملات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں بلکہ ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

سیاسی و سلامتی امور کے مبصرین کے مطابق اگر کسی ملک کی انٹیلی جنس زیرِحراست افراد کے بیانات کو دباؤ کے ذریعے تیار کرکے انہیں سیاسی یا سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو ایسے اعترافات کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ کسی بھی ویڈیو بیان کو قابلِ اعتماد ثبوت قرار دینے کے لیے اس کے پس منظر، ریکارڈنگ کے حالات، بیان دینے والے افراد کی آزادانہ گواہی اور دیگر شواہد سے مطابقت کا جائزہ ضروری ہے۔ محض ویڈیو پر موجود بیان کی بنیاد پر کسی ملک یا تنظیم کے خلاف الزام کو حتمی حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور مسلح گروہوں کی موجودگی جیسے معاملات پہلے ہی علاقائی سفارت کاری کے لیے اہم چیلنج ہیں۔ ایسے میں غیر مصدقہ الزامات اور متنازع ویڈیوز کی تشہیر صورتِ حال کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے۔ اگر ان بیانات کو روس، تاجکستان، ازبکستان اور ایران کے سامنے پاکستان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو متعلقہ ممالک کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے شواہد کی آزادانہ جانچ کریں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ دعوے شواہد سے ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض ذرائع ابلاغ کی مہم نہیں رہے گا بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات، علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

Back to top button