فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق

مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کی قیادت سے اہم ملاقات کی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پیش کی جس پر پی ٹی آئی نے اتفاق کیا،اس حوالے سے جلد اے پی سی بلائی جائے گی۔
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفد کے ہمراہ قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر گفتگو ہوئی۔
فریقین نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو عوام کی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قراردیا۔
شرکا نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزیراعلیٰ، سپیکر صوبائی اسمبلی اور اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی، شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کے نئے میثاقِ جمہوریت کے مؤقف کی حمایت کی۔
شرکاء نے اتفاق کیا کہ موجودہ قومی بحرانوں سے نکلنے کےلیے تمام سیاسی جماعتیں ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی جانب پیش رفت کریں، شرکاء نے مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کو نئے میثاقِ جمہوریت کی سمت ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا۔
پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر محمود ڈوگر، بیرسٹر علی ظفر، زین قریشی اور اخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی شامل تھے جب کہ جے یو آئی (ف) کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس زہری اور عثمان بادینی شامل تھے۔
مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، بعدازاں پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق کرلیا۔
بیٹھک کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں شرائط کیا ہوں گی یہ مشاورت سے تیار کیا جائے گا، ابھی مولانا صاحب نے تجویز دی ہے چارٹر آف ڈیموکریسی کی اس پر ہم مشاورت کر رہے ہیں۔

One Comment