بینڈ ایڈ سے کوڑھ کا علاج

تحریر:حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ہم تصورات کو سمجھنےکیلئے ان کی تجسیم کر لیتے ہیں، خیر و شر کی تفہیم کیلئے بھی انسانوں کو استعارہ بنا لیتے ہیں، نیک انسانوں کو دیکھ کر ہمیں سمجھ آتی ہے کہ”نیکی” ایسی ہوتی ہے، اسی طرح ہم "بدی” کو بھی دو ٹانگوں پر کھڑا کوئی وجود سمجھتے ہیں۔ درست ہو نہ ہو، مگر یہ پیچیدہ تصورات کو سمجھنے کا آسان طریقہ ضرور ہے۔ جمالیات کیا ہے؟ عشق کیا بلا ہے؟ سچ کس پرندے کا نام ہے؟ یہ سب بہت لمبی باتیں ہیں۔ ہم انسانوں کو سیدھی اور سادہ بات سمجھ آتی ہے۔ یعنی سچ سقراط جیسا ہوتا ہے، حُسن یوسفؑ جیسا، عشق قیس جیسا، اور عجز ایاز جیسا۔بدی کو بھی ہم ایسے ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک شخص کو برائی کی جڑ قرار دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ اگر اس کو مٹا دیا جائے تو برائی مٹ جائے گی، گویا ہم سانپ کا سر کاٹ رہے ہیں اور کچھ ہی دیرمیں اس کا وجود تڑپ تڑپ کر ہماری آنکھوں کے سامنے ٹھنڈا ہو جائیگا۔ تاریخ کا سبق کچھ اور ہے، برائی ایک پیچیدہ بلا ہے، سانپ کی طرح نہیں، یونانی دیو مالا کی "ہائیڈرا” کی طرح، جسکے ان گنت سر تھے، اور اگر ایک سر کاٹ دیا جاتا تو اس کی جگہ دو سر اُگ آتے تھے۔ آس پاس نظر دوڑائیں تو ہمارے سیاسی و معاشرتی نظام میں ایک سر کٹنے اور کئی سر اُگنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں ریاست نے اپنے تئیں جو جو سر کاٹا اس کی جگہ کئی کئی سر نکل آئے، ان سروں کی گنتی پھر کبھی سہی۔ اسرائیل میں انتخابات ہو چکے ہیں، نتین یاہو کے ہارنے سے کیا بدی کا سر کچلا جائیگا؟ اگر گادی آئزنکوٹ سابق اسرائیلی عسکری سربراہ اگلے وزیرِ اعظم بن جاتے ہیں تو کیا غزہ میں قتلِ عام بند ہو جائیگا؟ پچھلے امریکی انتخاب میں ہم نے کئی تارکینِ وطن سے پوچھا وہ کسے ووٹ دے رہے ہیں، اکثریت کا جواب تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کیوں کہ جو بائڈن فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حمایت میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ امریکی انتخاب میں ایک سر کٹا تو دو سر اُگ آئے۔کسی ایک فرد کو کسی پیچیدہ اور تہہ دار عمل کا ذمہ دار قرار دینا انسانی نفسیات کی کئی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ سب سے بڑی بات تو اس میں ایک سادگی ہے، ایک سیدھا پن ہے، یہ جو "سکیپ گوٹ” کی تلاش ہوتی ہے اس کا بنیادی محرک بھی یہی ہوتا ہے۔ ہمیں نفرت اور غصے کا صاف ہدف مل جاتا ہے، اور اس ہدف کا ” بندوبست” کرنا بھی نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہ جو انسان کہانیاں پسند کرتا ہے تو اس کی بھی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ خیر و شر جیسے غیر مرئی تصورات کرداروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ تمام برائیوں کی جڑ ایک شخص یعنی ولن ہوتا ہے، کہانی کے آخر میں اکثر ولن ٹھکانے لگ جاتا ہے، برائی ہار جاتی ہے، بدی جڑ سے اکھڑ جاتی ہے۔ پچھلی صدی کے دوران جو بڑی جنگیں ہوئیں، غارت گری ہوئی، اس کےذمہ دار ہٹلر اور مسولینی قرار پائے۔ جب دونوں مٹ گئے تو کیا دنیا ایک پرامن کُرّے میں تبدیل ہو گئی؟ یہ "نیو نازی ازم” کہاں سے پلٹ آیا جو آج دنیا میں وبا کی طرح پھیلتا چلا جا رہا ہے؟ برائی کا استعارہ دراصل برائی کے پہاڑ پر کھڑا ہوتا ہے اس لیے نظروں میں آ جاتا ہے، استعارہ ہٹا بھی دیا جائے تو کوہِ بدی اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ نریندر مودی یا ٹرمپ صاحبان منظر سے ہٹ بھی جائیں تو ہندوتوا یا سفید فام برتری کا پہاڑ اسی طرح ڈٹا رہے گا۔ دراصل وہ پہاڑ پہلے سے موجود ہوتا ہے، ایک فرد فقط اس کی چوٹی پر پہنچ کر پرچم لہراتا ہے۔ اس ملک عزیز میں ایک "غدار” منظر سے ہٹایا گیا تو درجنوں اور پیدا ہو گئے، کرپشن کے "استعاروں” کا سر کچلا گیا تو ملک مزید کرپشن میں ڈوب گیا، ایک آمر "پار اترے” تو مزید کا سامنا تھا، اب تک تو بات فیصلہ سازوں کی سمجھ میں آ جانا چاہیے تھی۔اگر کسی معاشرے میں قانون کی حکم رانی نہیں ہو گی، معاشی عدل نہیں ہو گا، سماجی و تعلیمی انصاف نہیں ہو گا، وہ معاشرہ مرض کی علامات سے نپٹتا رہ جائے گا، مرض کا علاج نہیں کر پائے گا۔ زہریلے پھل دینے والے شجر کی شاخوں کی قطع و برید سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، مسئلہ جڑ میں ہے، اس زمین میں ہے، اس پانی میں ہے، اس آب و ہوا میں ہے۔ ایک زہریلے پھل کا”بندوبست” کر بھی لیا جائے، تو درجنوں اور پک جائیں گے۔جرم قانون کی حکم رانی سے کم ہوتا ہے، قانون کو بائی پاس کرنے سےنہیں۔ لاقانونیت، لاقانونیت کو جنم دیتی ہے۔ بینڈ ایڈ سے کوڑھ کا علاج نہیں ہو سکتا، یہ تاریخ کا سبق ہے۔ ہم بہ طور قوم گواہ ہیں، ایک دہشت گرد مرتا ہے، دو اور آ جاتے ہیں، ہم شاہد ہیں، ایک مجرم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوتا ہے، دو اور آ جاتے ہیں، اس لیے کہ یہ "زہریلے پھل” جس پیڑ کا بار ہیں، اس کی جڑیں گہری اور توانا ہیں، اسے جان لیوا کھاد مل رہی ہے، مسلسل وہی مہلک پانی میسر ہے۔ دہشت گردوں اور مجرموں کے جہنم واصل ہونے کی خبریں تواتر سے آتی رہیں گی، سرکاری اعداد و شمار جرائم میں کمی کی تصدیق کرتے رہیں گے، مگر کوہِ بدی اپنی جگہ سے بال برابر بھی نہیں ہلے گا۔ یہ کسی قنوطی کی تاریک منظر کشی نہیں ہے، ایک تاریخ کے طالبِ علم کی معروضات ہیں۔

 

Back to top button