جنرل عبدالوحید کاکڑ کی یاد میں

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ

سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ جن کا تعلق سردار عبدالرب نشر کے خاندان سے تھا ،انکی شخصیت کے کئی معتبر حوالے ہیں مگر ’’کاکڑ فارمولے‘‘کی پرچھائیں زندگی بھر ان کا تعاقب کرتی رہی۔جنوری 1993ء میں وزارت دفاع نے ریٹائرڈ ہونے والے جرنیلوں کی فہرست جاری کی تو کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالوحید کاکڑ کا نام سب سے اوپر تھا مگر پھر ایک حادثے نے صورتحال بدل دی۔افواج پاکستان کے سربراہ جنرل آصف نواز 8جنوری کو اچانک وفات پاگئے تو نئے سپہ سالار کا انتخاب کرنا پڑا۔تب یہ ذمہ داری صدر مملکت کے کندھوں پر ہوا کرتی تھی۔ سنیارٹی کے اعتبار سے لیفٹیننٹ جنرل رحمدل بھٹی پہلے، کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمداشرف دوسرے ،چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فرخ خان تیسرے،کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش چوتھے جبکہ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالوحید کاکڑ پانچویں نمبر پر تھے۔صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نوازشریف کی رائے معلوم کیے بغیر ہی روئیداد خان کی مشاورت سے لیفٹیننٹ جنرل فرخ خان کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا ۔یہ خبر وزیراعظم سیکریٹریٹ پہنچی تو نوازشریف نے مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی۔ نوازشریف کا اصرار تھا کی سنیارٹی کے اعتبار سے سرفہرست رحمدل بھٹی یا اشرف خان کو سپہ سالار بنایا جائے۔صدر غلام اسحاق خان اپنے پہلے انتخاب سے دستبردار تو ہوئے مگر وزیراعظم کی بات ماننے سے انکار کردیااور ایک بار پھر سولو فلائٹ کرتے ہوئے جنرل عبدالوحید کاکڑ کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کردیا۔ نوازشریف ببانگ دہل کہہ چکے تھے کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے ،صدر غلام اسحاق خان کی جان آٹھویں ترمیم کے طوطے میں تھی ،اس لئے نوازشریف نے آٹھویں ترمیم کے خاتمےکیلئےغوث علی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی بنادی۔ایوان صدر نےاپنے مہرے آگے بڑھائے اور معروف بیوروکریٹ روئیداد خان کو اپوزیشن سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا۔روئیداد خان ان دنوں Richard Rhodesکی کتاب The Making of atomic bombپڑھ رہے تھے اسی مناسبت سے انہوں نے نوازشریف کی حکومت گرانےکیلئے لانچ کیے گئے آپریشن کا نام ’’Manhattan Project‘‘رکھ دیا۔صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف کے مابین تلخیاں اسقدر بڑھ گئیں کہ دونوں ایک دوسرے سے ملنے اور بات کرنے کے روادار نہ تھے ،بینظیر بھٹو جو لندن میں تھیں ،انہوں نے صورتحال کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔پیپلز پارٹی کا ایک وفد نوازشریف سے ملاقات کرکے انہیں ڈٹ جانے کا کہتا تو دوسرا وفدغلا م اسحاق خان سے ملکر یہ یقین دہانی کرواتا کہ اپوزیشن جماعتیں صدر مملکت کی پشت پر کھڑی ہیں۔ کچھ پس وپیش کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنا وزن صدر غلام اسحاق خان کے پلڑے میںڈالنے کافیصلہ کرلیا ۔فاروق لغاری اور آفتاب شیر پاؤ نے کہا ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے نوازشریف کو گھر بھیج دینا چاہئے ۔صدر غلام اسحاق خان چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی نوازشریف کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لائے مگر پیپلزپارٹی کا اصرار تھا کہ صدر مملکت 58ٹوبی کی تلوار سے نوازشریف کا سرقلم کریں ۔صدر غلام اسحاق خان کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے جواز کے طور پر انہیں معقول تعداد میں ارکان اسمبلی کے استعفے بھجوادیئے جائیں گے۔نوازشریف نے سیاسی حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیارکرتے ہوئے 14اپریل 1993ء کو ایوان صدر میں غلام اسحاق خان سے ملاقات کی تاکہ بندگلی سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جا سکے ۔دونوں طرف اختلافات کی برف نہ پگھل سکی اور ملاقات ناکا م ہوگئی مگر ستم بالائے ستم یہ کہ ایوان صدر نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اس ملاقات کوایسا رنگ دیدیا جیسے وزیراعظم کو ایوان صدر طلب کرکے نہ صرف ان کی سرزنش کی گئی بلکہ وضاحت بھی طلب کی گئی۔ یہ سبکی نوازشریف کیلئے اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی اور نوازشریف نے بغاوت کا علم بلند کرنے کا اعلان کردیا۔روئیداد خان جن کا شمار اس کہانی کے اہم ترین کرداروں میں ہوتا ہے ،وہ 17اپریل کو اپنے بیٹے جاوید خان کے ہمراہ آرمی چیف سےملنے جی ایچ کیو گئے ۔جہاں جنرل عبدالوحید کاکڑ اور ان کی اہلیہ یاسمین منتظر تھے ۔اس وقت شام کے سات بج کر پچیس منٹ ہو رہے تھے ،وزیراعظم نواز شریف نے ساڑھے سات بجے قوم سے خطاب کرنا تھا۔جنرل کاکڑ نے کہا ،پہلے وزیراعظم کا خطاب سن لیں پھر کھانا کھائیں گے۔مگر نوازشریف کی تقریر سن کر دونوں کی بھوک اُڑگئی۔نوازشریف نے دھاڑتے ہوئے کہا ،وہ جو جمہوریت کے نگران اور وفاق کی علامت سمجھے جاتے ہیں ،وہ بدبودار سیاست کے ذریعے میرے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔دباؤ ڈالا جا رہا ہے ،مگر میں نہ تو استعفیٰ دونگا ،نہ اسمبلیاں تحلیل کروں گا اور نہ ہی ڈکٹیشن لوں گا۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے روئیداد خان کے ذریعے صدر غلام اسحاق خان کو پیغام بھیج دیا کہ صدر آئینی اختیارات کے تحت اسمبلیاں توڑ کر نوازشریف کا دھڑن تختہ کرنا چاہیں تو انہیں فوج کی مکمل تائید وحمایت حاصل ہوگی۔ روئیداد خان نے ایوان صدر کا رُخ کیا اور انہیں بتا دیا کہ شطرنج کی بازی کے سب ہاتھی گھوڑے ان کے پاس ہیں ،صدر غلام اسحاق خان نے اگلے روز یعنی 18اپریل کو ناخلف وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔سپریم کورٹ نے صدارتی احکامات کو کالعدم قرار دیدیا اور نوازشریف کی حکومت بحال کردی۔اصولاً صدر غلام اسحاق خان کو مستعفی ہوجانا چاہئے تھا مگر نوازشریف پر مستعفی ہونے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلئے دباؤ بڑھنے لگا ۔آخر کارکاکڑ فارمولے کے تحت18جولائی 1993ء کووزیراعظم نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سفارش کی ،صدر غلام اسحاق خان نے یہ سفارش قبول کرنے کے بعد استعفیٰ دیا اور یوں یہ کھیل ختم ہوگیا۔جنرل عبدالوحید کاکڑ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے عنان اقتدارپر قبضہ نہیں کیا ۔بعد ازاں جب وزیراعظم بینظیر بھٹو نے انہیں مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی تو انہوں نے معذرت کرلی اورریٹائرمنٹ کے بعد گوشہ نشین ہوگئے کبھی کوئی انٹرویو نہیں دیا ہاں البتہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا تو کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ میں لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے دکھائی دیئے۔

Back to top button