پاؤ گوشت کیلئے پورا اونٹ ذبح

تحریر:رؤف کلاسرا
بشکریہ:روزنامہ دنیا

حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں جو تقریریں سنی ہیں‘ ان پر حیران ہوں کہ وہاں بیٹھے اکثر ممبران کو اس ملک سے کتنی محبت ہے یا حکومت کو اس ملک میں کتنی دلچسپی ہے؟ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ ان کی اکثریت کسی اور سیارے سے کچھ دنوں کیلئے یہاں آئی ہے اور پانچ سال بعد یہاں سے واپس چلی جائے گی‘ لہٰذا انہیں اس ملک سے وہ محبت ‘پیار اور احساس نہیں ہے جو عام لوگوں کوہے۔ ان تقریروں نے مجھے خاصا مایوس اور کسی حد تک ڈپریس بھی کیا ہے‘ حالانکہ میں بنیادی طور پر مثبت سوچ والا بندہ ہوں۔
ہو سکتا ہے کہ میری یہ بات بہت سے لوگوں کو اچھی نہ لگے کہ میں نے عام لوگوں کو اس ملک سے زیادہ محبت کرتے دیکھا ہے۔ اس ملک کی ایلیٹ یا امیر کلاس کو اس کے ساتھ اس لیول کی محبت نہیں ہے۔ میں جب بھی کسی ریسٹورنٹ میں گیا تو مجھ سے کبھی بھی کسی ویٹر‘ گارڈ یا کسی ملازم نے نہیں پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔ مجھ سے یہ سوال ہمیشہ وہ امیر طبقہ ہی کرتا ہے جو وہاں پندرہ بیس ہزار روپے کھانے کا بل دے کر نکل رہا ہوتا ہے۔ ہاتھ میں پانچ چھ لاکھ کا فون لیے اور باہر انتظار کرتی دس کروڑ کی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے وہ اس ملک پر تبرا پڑھنا نہیں بھولتے۔ جنید مہار نے مجھے کیا خوب احساس دلایا کہ آپ سے کبھی کوئی غریب ملک کی شکایت نہیں کرے گا‘ یہ سب کروڑ پتی اس ملک سے تنگ ہیں۔ غریب بندے کو اب بھی اس ملک پر اعتبار ہے۔وہ بتا رہے تھے کہ پوری دنیا میں امیگرنٹس کے خلاف کیسے لہر شروع ہو چکی ہے۔ برطانیہ میں یہ لہر سب سے زیادہ عروج پر ہے۔ دنیا میں کوئی کسی کو اپنے ہاں نہیں آنے دیتا کہ ان کا اپنا ملک ہے‘ لیکن ہماری ناشکری انتہا پر ہے۔
ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ میں دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے! خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔ میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔ اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔ پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں! میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟ میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟ خواجہ آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟ میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔ تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔
یہی حالت آپ کو اسمبلیوں میں ملتی ہے۔ پارلیمنٹیرینز آٹھ دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ لاکھوں کا الاؤنس‘ مفت ایئر ٹکٹس‘ مفت میڈیکل‘ بیوی بچوں اور ماں باپ کیلئے تاحیات سرکاری پاسپورٹس‘ پانچ سالوں میں بیس تیس کروڑ ترقیاتی فنڈز‘ مفت گاڑیاں اور مفت پٹرول لے کر بھی ملک کے مستقبل سے مایوس ہیں ۔ آپ ذرا ان کی تقریریں سنیں کہ انہوں نے اس ملک کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ ہر ایک کو اپنا حصہ چاہیے‘ جس کو نہیں ملتا وہ ملک کے خلاف ہو جاتا ہے۔ آپ اچکزئی صاحب کی تقریر سن لیں‘ جو اس ملک کی سرحدوں کو نہیں مانتے؛ انہیں افغان طالبان پاکستان سے بہتر لگتے ہیں۔ وہ جس طرح کی گفتگو اس ملک کے بارے میں کرتے ہیں‘ وہ میں رپورٹ تک نہیں کر سکتا۔ ان کے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات سُن کر مجھے لگا کہ یہاں تو سب دہشت گردوں کے ساتھی یا ہمدرد بیٹھے ہیں۔ اگر سب ہمدرد ہیں تو پھر دہشت گردوں سے ہماری کیا لڑائی ہے؟
اگر قمر جاوید باجوہ اور عمران خان ہزاروں جنگجوؤں کو واپس لائے تو شہباز شریف نے بھی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں کہا تھا کہ طالبان پنجاب پر حملے نہ کریں کیونکہ ہماری اور آپ کی سوچ ایک ہی ہے۔ بیرسٹر گوہر کو وہ ثبوت دکھائے گئے ہیں کہ کیسے ان کی پارٹی کے لوگ دہشت گردوں سے رابطے میں ہیں۔ اب مولانا ناراض ہیں اور محسن نقوی کہتے ہیں کہ انہیں حصہ نہیں دیا تو وہ ناراض ہیں۔ اگر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو جیل سے لا کر حصہ دیا جا سکتا ہے تو مولانا کو بھی دے دیتے۔ وہ تو جیل میں بھی نہیں تھے بلکہ جیل میں قید نواز شریف‘ شہباز شریف‘ مریم نواز صاحبہ‘ صدر زرداری‘ خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کو رہا کرانے کیلئے لانگ مارچ کرتے تھے۔ باقی سب نے اپنا اپنا حصہ لے لیا اور مولانا کو بھول گئے۔
باقی یہ طے ہے کہ اس ملک سے اشرافیہ کو وہ محبت نہیں ہے جو عام پاکستانی کو ہے۔ اس ملک کو وہی عام لوگ اور غریب ہی بچا سکتے ہیں جو ان لیڈروں کی طرح ایک پاؤ گوشت کیلئے پورا اونٹ ذبح نہیں کرتے۔ پچھلے دو تین روز میں جو کچھ پارلیمنٹ میں سنا اور دیکھا ہے اس سے لگتا ہے کہ ہمارے پارلیمنٹرینز اور ان کے لیڈرز اس ملک سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایلیٹ اب پارلیمنٹ میں اپنے اپنے ایک پاؤ گوشت کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ایک پاؤ گوشت اہم ہے‘ ملک نہیں۔

Check Also
Close
Back to top button