کیا پی ٹی آئی کے بعد اب JUIکا بھی دھڑن تختہ ہونےوالا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن اس وقت ایک اہم سیاسی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی اور دہشتگردی سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر ان کے تحفظات ہیں، تو دوسری طرف یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرز کی مزاحمتی سیاست اختیار کی تو وہ اپنی جماعت کی سیاسی گنجائش اور مستقبل کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا ایک زیرک سیاستدان ہیں اور وہ اختلافات کے باوجود ایسی حد عبور کرنے سے گریز کریں گے جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔
مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست ہمیشہ حالات کے مطابق سیاسی گنجائش پیدا کرنے اور اقتدار کے ایوانوں میں اپنا کردار برقرار رکھنے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ماضی میں وہ پی ٹی آئی کے بانی کے سخت ناقد رہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تلخ بیانات بھی دیے جاتے رہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد اس کی قیادت نے مولانا کو احتجاجی اور مزاحمتی سیاست میں ساتھ ملانے کی کوشش کی، لیکن مولانا اپنی الگ سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے خواہاں رہے۔ ان کے نزدیک پی ٹی آئی کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے سے ان کی سیاسی حکمت عملی اور فیصلہ سازوں کو دیے جانے والے پیغام پر اثر پڑ سکتا تھا۔
مولانا کی حالیہ ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے سابق اتحادیوں نے انہیں موجودہ سیاسی بندوبست میں وہ اہمیت نہیں دی جس کی انہیں توقع تھی۔ مبصرین کے مطابق مولانا نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی حمایت کے ذریعے یہ اشارہ دیا کہ وہ سیاسی معاملات میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی اہم سیاسی بندوبست سے مکمل طور پر باہر نہیں رہنا چاہتے۔ اس کے باوجود ان کے حکومتی پالیسیوں اور مقتدر حلقوں پر تحفظات ختم نہیں ہوئے، بلکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا۔
مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان اور ریاست مخالف بیانیے کے تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ سلمان غنی کے مطابق مولانا نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کیے اور انہیں حالات اور حکومت کی تیاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے لانگ مارچ ملتوی کرنے پر آمادہ کیا، لیکن اس وقت تک ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق فیصلے ہو چکے تھے۔ یوں مولانا کی ثالثی سیاسی نتائج پیدا نہ کر سکی اور انہیں اپنی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے دہشتگردی کے معاملے کو حکومتی پالیسی پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔ ان کا یہ سوال بھی سامنے آیا کہ اگر دہشتگردی کی صورت حال گورنر راج اور ایمرجنسی کی بنیاد ہے تو بلوچستان میں ایسی ہی آئینی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اس مؤقف کو پی ٹی آئی کی جانب سے بھی پذیرائی ملی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاسی مقاصد اور حکمت عملی یکساں نہیں۔ مولانا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مزاحمتی بیانیے میں ضم ہونے سے کیسے بچتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے تجربے کو مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ایک سیاسی سبق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ کہنا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت صرف مزاحمتی سیاست کی وجہ سے گنوائی، ایک سیاسی تجزیہ ہے، مکمل طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ اس کے باوجود جے یو آئی کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا سخت محاذ آرائی اسے سیاسی فائدہ دے گی یا اس کے لیے دستیاب سیاسی راستے مزید محدود کر دے گی۔ مولانا کی سیاست کا بنیادی امتحان یہی ہے کہ وہ اختلافات کو سیاسی دباؤ میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے لیے مذاکرات، مفاہمت اور مستقبل کے انتخابی امکانات کے دروازے کھلے رکھیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن حکومت اور مقتدر حلقوں پر تنقید تو جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی طرز کی ایسی مزاحمتی سیاست اختیار کرنا ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے جو انہیں سیاسی طور پر تنہا کر دے۔ مبصرین کے مطابق ان کی سیاسی مہارت کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اپنی جماعت کی الگ شناخت، مذاکراتی حیثیت اور انتخابی مستقبل کو کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔
